Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کے لیے کروڑوں ڈالر انتخابی مقابلوں میں جھونک دیے

ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کے لیے کروڑوں ڈالر انتخابی مقابلوں میں جھونک دیے

واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات سے صرف ایک ماہ قبل ریپبلکن امیدواروں کی مدد کے لیے اپنے بڑے انتخابی فنڈ سے کروڑوں ڈالر اہم سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے مقابلوں میں خرچ کرنا شروع کر دیے ہیں
امریکی اخبار ’’دی ہل‘‘ کے مطابق ٹرمپ کے مرکزی سیاسی فنڈ ’’میگا انک‘‘ اور اس سے منسلک دو دیگر سیاسی گروپوں نے اوہائیو، ٹیکساس اور مشی گن کے اہم سینیٹ مقابلوں سمیت متعدد ایسے حلقوں میں بھاری رقم لگائی ہے جہاں دونوں جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے،فلوریڈا، نیویارک، مشی گن اور مین کے ایوان نمائندگان کے بعض اہم مقابلے بھی ان اخراجات کا مرکز ہیں
ٹرمپ کے مرکزی سیاسی فنڈ کے پاس اگست کے آخر میں تقریباً 415 ملین ڈالر موجود تھے،ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات میں مجموعی طور پر 400 سے 500 ملین ڈالر تک خرچ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے
ٹیکساس میں سینیٹ کی نشست کے لیے ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن کی حمایت میں ٹرمپ کے فنڈ نے اب تک 25 ملین ڈالر خرچ کیے ہیں،اوہائیو کے سینیٹ مقابلے میں تقریباً 23 ملین ڈالر جبکہ مشی گن کے مقابلے میں 17.5 ملین ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں،شمالی کیرولائنا میں تقریباً 10 ملین ڈالر اور نیو ہیمپشائر میں 7.4 ملین ڈالر سے زیادہ خرچ کیے گئے ہیں
ٹرمپ سے وابستہ ’’نو گوئنگ بیک‘‘ اور ’’سیفٹی اینڈ افورڈیبلٹی‘‘ نامی دو نئے سیاسی گروپ بھی انتخابی اخراجات میں تیزی سے آگے بڑھے ہیں،ان دونوں گروپوں نے درجنوں ایوان نمائندگان کے مقابلوں اور مشی گن، اوہائیو اور دیگر اہم ریاستوں کے سینیٹ انتخابات میں بڑی رقوم خرچ کی ہیں
ریپبلکن حلقوں میں انتخابی اخراجات بڑھانے کی ایک اہم وجہ کانگریس کے دونوں ایوانوں میں پارٹی کی موجودہ اکثریت کا تحفظ ہے،دوسری جانب ڈیموکریٹک امیدوار کئی اہم مقابلوں میں اپنی انتخابی مہم کے لیے ریپبلکن امیدواروں سے زیادہ رقم جمع کر چکے ہیں،
ریپبلکن مہم سے وابستہ ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ اگر انتخابات میں پارٹی کے لیے حالات خراب ہوتے ہیں تو اس کی بڑی وجہ انتخابی مہم پر خرچ ہونے والی رقم کی کمی نہیں بلکہ ووٹرز کی جانب سے مہنگائی اور روزمرہ اخراجات کو اب بھی بڑا مسئلہ سمجھنا ہوگا
یوں نومبر کے انتخابات سے چند ہفتے قبل ٹرمپ کا بھاری انتخابی سرمایہ اب ان ریاستوں اور حلقوں میں منتقل ہو رہا ہے جہاں سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں کانگریس کے آئندہ سیاسی توازن پر مقابلے کے نتائج اثرانداز ہو سکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید