Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ایران جنگ طویل ہوئی تو پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک مہنگائی کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں

ایران جنگ طویل ہوئی تو پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک مہنگائی کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں

مشرق وسطیٰ کی جنگ نے علاقائی تنازع کو عالمی معاشی بحران میں تبدیل کردیا ہے آبنائے ہرمز میں طویل رکاوٹ کے باعث تیل، گیس، مال برداری اور انشورنس کے اخراجات بڑھ رہے ہیں، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافے اور معاشی ترقی کی رفتار متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں کیونکہ ان کے لیے درآمدی اخراجات میں اضافہ، زرمبادلہ کے دباؤ اور مہنگائی کو قابو میں رکھنا پہلے ہی ایک بڑا چیلنج ہے
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے اور دنیا کی تقریباً 5 میں سے 1 حصے کے برابر تیل اور گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے جنگ سے پہلے برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 68 ڈالر فی بیرل سے کم تھی، لیکن اب یہ تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے اگر آبنائے ہرمز میں رکاوٹ طویل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے
ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کی کوششیں بھی اب تک مستقل حل پیدا نہیں کرسکیں پاکستان نے اپریل میں امریکا اور ایران کے وفود کی میزبانی کی تھی جس کے نتیجے میں 2 ہفتے کی جنگ بندی پر اتفاق ہوا، تاہم جون میں عبوری معاہدہ ختم ہوگیا بعد میں ایران نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایک نیا منصوبہ پیش کیا، جس میں منجمد ایرانی رقوم کی رہائی، تیل کی پابندیاں ختم کرنے اور بحری ناکہ بندی ہٹانے کی تجاویز شامل تھیں ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کو ان اقدامات سے مشروط کیا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس منصوبے کو ناقابل قبول قرار دیا
اس جنگ کے عالمی معاشی اثرات صرف تیل کی قیمتوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ عالمی مالیاتی ادارے نے رواں سال عالمی معاشی ترقی کی شرح 3 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے، تاہم مہنگائی کی پیش گوئی بڑھا کر 4.7 فیصد کردی گئی ہے ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں نقصان معاشی پیداوار سے زیادہ قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آرہا ہے، جس کا سب سے زیادہ بوجھ ان ممالک پر پڑتا ہے جو توانائی اور دیگر بنیادی اشیا درآمد کرتے ہیں
ایشیا بھی اس دباؤ سے محفوظ نہیں ایشیائی ترقیاتی بینک کے ستمبر کے جائزے کے مطابق خطے کی معاشی ترقی کی رفتار گزشتہ سال 5.5 فیصد سے کم ہوکر 2026 میں تقریباً 5 فیصد رہنے کی توقع ہے حکومتیں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا اثر کم کرنے کے لیے سبسڈی دے رہی ہیں، لیکن اگر آبنائے ہرمز میں رکاوٹ ایک سال سے زیادہ جاری رہی تو ایشیا کی معاشی ترقی میں مزید کمی کا خطرہ ہے، جبکہ جنوبی ایشیا کو قیمتوں کے دباؤ کا زیادہ سامنا ہوسکتا ہے
پاکستان کے لیے صورتحال خاص طور پر اہم ہے کیونکہ ملک کی درآمدات میں پٹرولیم مصنوعات کا حصہ تقریباً ایک تہائی ہے اندازے کے مطابق خام تیل کی قیمت میں ہر 10 ڈالر فی بیرل اضافے سے پاکستان کے سالانہ تیل درآمدی بل میں تقریباً 1.8 سے 2 ارب ڈالر کا اضافہ ہوسکتا ہے ستمبر میں پاکستان میں صارفین کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر 10.26 فیصد اضافہ ہوا جبکہ اسٹیٹ بینک نے شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھی، جس سے حکومت کے لیے مہنگائی اور معاشی دباؤ کو کم کرنا مزید مشکل ہوسکتا ہے
پاکستان کو کچھ سہارا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر سے مل رہا ہے مالی سال 2026 میں ترسیلات زر ریکارڈ 41.6 ارب ڈالر تک پہنچیں، جن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے 18.6 ارب ڈالر موصول ہوئے تاہم اگر جنگ مزید پھیلتی ہے یا خلیجی خطے کی معیشتیں شدید متاثر ہوتی ہیں تو یہ معاشی سہارا بھی دباؤ میں آسکتا ہے
چین، قطر، عمان اور پاکستان سمیت کئی ممالک سفارتی کوششوں میں کردار ادا کر رہے ہیں چین کے لیے بھی آبنائے ہرمز کی بندش ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ ایران اس کا اہم تجارتی شراکت دار ہے اور چین خلیج سے بڑی مقدار میں خام تیل درآمد کرتا ہے پاکستان بھی واشنگٹن، تہران اور خلیجی ممالک کے ساتھ رابطے برقرار رکھے ہوئے ہے اور جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی راستہ اختیار کیے ہوئے ہے
موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ جنگ کا دورانیہ جتنا بڑھتا جائے گا، اس کے معاشی اثرات بھی اتنے ہی وسیع ہوتے جائیں گے امریکا اور ایران کے درمیان کسی سمجھوتے کے بغیر آبنائے ہرمز کی صورتحال معمول پر آنا مشکل ہے اگر دونوں ممالک محدود نوعیت کی رعایتوں کے ذریعے پہلے آبنائے کو محفوظ اور کھلا بنانے پر اتفاق کرلیں اور اس کے بعد جوہری معاملات پر الگ مذاکرات کریں تو عالمی معیشت کو فوری دباؤ سے نکالنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے

قومی خبریں سے مزید