فلائی دبئی کے پائلٹ کو کاک پٹ تک پہنچنے سے روکنے کے کئی مواقع ضائع، تین ممالک کی سکیورٹی پر سوالات
،ملزم کا چاقو اب کلہاڑی بتایا جارہا ہے
فلائی دبئی کی پرواز کے کاک پٹ میں گھس کر کپتان پر کلہاڑی سے حملہ کرنے والے پائلٹ کے معاملے میں تین ممالک کی جانب سے سکیورٹی اور بھرتی کے نظام میں متعدد سنگین خامیوں کا انکشاف ہوا ہے
وال اسٹریٹ جرنل کی تحقیقات کے مطابق حمام الحمامی نامی پائلٹ اس سے پہلے عمان کی سرکاری فضائی کمپنی عمان ایئر میں کام کرتا تھا، جہاں حکام نے اس کی آن لائن سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے بعد اسے انتہا پسندانہ نظریات میں غیر معمولی دلچسپی رکھنے والا شخص قرار دیا تھا،اسے طیارہ اڑانے سے روک کر شدت پسندی سے دور کرنے کے ایک پروگرام میں بھیجا گیا اور بعد میں دفتری کام پر لگا دیا گیا
تاہم عمانی حکام نے اس بارے میں اپنی تشویش دوسرے متعلقہ اداروں یا فضائی کمپنیوں تک باضابطہ طور پر نہیں پہنچائی
فروری میں فلائی دبئی نے الحمامی کو ملازمت دے دی،رپورٹ کے مطابق کمپنی نے اس کی مجرمانہ سرگرمیوں سے متعلق پس منظر کی جانچ تو کی، لیکن عمان ایئر سے اس کے سابقہ تجربے اور ملازمت کے بارے میں معلومات حاصل نہیں کیں،یوں ایک ایسا شخص جسے پہلے ہی پائلٹ کے طور پر پرواز سے روک دیا گیا تھا، دوبارہ مسافر طیارہ اڑانے کے منصب تک پہنچ گیا
مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ فلائی دبئی نے اسے تل ابیب کے حساس فضائی راستے پر بھی تعینات کیا، جہاں اس نے کئی مرتبہ پرواز کی
رپورٹ کے مطابق اماراتی حکام اب فلائی دبئی کے ان ملازمین سے بھی تحقیقات کر رہے ہیں جو الحمامی کی بھرتی کے عمل میں شامل تھے
اس واقعے نے فضائی کمپنیوں کے پائلٹوں کی بھرتی، سابقہ ملازمتوں کی تصدیق، سکیورٹی اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے اور مشتبہ افراد کی نگرانی کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں،تحقیقات سے یہ سوال بھی سامنے آیا ہے کہ اگر ایک ملک کسی شخص کو سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر طیارہ اڑانے سے روک دے تو یہ معلومات دوسرے ملکوں اور فضائی کمپنیوں تک پہنچانے کا مؤثر نظام موجود کیوں نہیں تھا،یہاں دلچسپ امر یہ بھی ہے فلائ دبئی طیارے کے واقعہ میں ابتدا میں ملزم کا اپنے ساتھی پائلٹ پر چاقو سے حملہ بتایا جارہا تھا تاہم اب متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل نے 3 اکتوبر 2026 کو بتایا کہ شریک پائلٹ نے کاک پٹ میں موجود ہنگامی کلہاڑی سے کپتان پر حملہ کیا،اس کے بعد رائٹرز، اے پی اور وال اسٹریٹ جرنل سمیت متعدد ذرائع نے بھی یہی تفصیل دی،اے پی نے واضح طور پر لکھا کہ ابتدائی رپورٹس میں چاقو بتایا گیا تھا، مگر بعد میں تحقیقات سے کلہاڑی کے استعمال کی تصدیق ہوئی، جبکہ نئی تحقیقات میں بتایا گیا ہے ملزم متعدد بار اسرائیل جانے والی پروازوں میں ڈیوٹی انجام دیتا رہا ہے جبکہ بینالاقوامی قوانین کے تحت اگر ایک ملک کے کسی دوسرے ملک سے سفارتی تعلقات نہیں ہے تو ان ملکوں کے شہری عام باشندے یا پائلٹ کی ڈیوٹی کے طور پر بھی ایک دوسرے کی سرزمین پر نہیں جاسکتے،اس پسمنظر میں ملزم جو عمانی باشندہ ہے اور عمان جس کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات نہیں کسطرح اسرائیل گیا اور اسرائیل کی ایجنسیوں کسٹم باڈر پیٹرول سمیت درجنوں ایجنسیوں نے نہ صرف الحماد کو نظر انداز کیا بلکہ دوبئی کو اس کھلی غفلت کی شکائیت بھی نہیں کی




