Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اچھا استاد صرف پڑھاتا نہیں بلکہ طلبہ کی زندگی بدلنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے

اچھا استاد صرف پڑھاتا نہیں بلکہ طلبہ کی زندگی بدلنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے

اچھے استاد کا کردار صرف نصاب پڑھانے یا امتحانات میں طلبہ کے اچھے نتائج حاصل کرنے تک محدود نہیں ہوتا بلکہ وہ بچوں میں خود اعتمادی، سیکھنے کا شوق، سوچنے کی صلاحیت اور مستقبل کے لیے بہتر رویہ پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے عالمی یوم اساتذہ کے موقع پر اساتذہ کے کردار پر دوبارہ غور کرنا اس لیے ضروری ہے کہ ان کا اثر صرف کلاس روم تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے پر پڑتا ہے
پاکستان میں سرکاری پرائمری اسکولوں کا تقریباً 4 میں سے 1 اسکول ایسا ہے جہاں صرف ایک استاد تعینات ہے ایسے اسکولوں میں ایک ہی استاد کو نصاب پڑھانے کے ساتھ ساتھ بچوں کی رہنمائی، تربیت، حوصلہ افزائی اور ان کی مشکلات کو سمجھنے کی ذمہ داری بھی نبھانا پڑتی ہے ایسے حالات میں استاد بچوں کے لیے صرف معلم نہیں بلکہ سرپرست، رہنما اور رول ماڈل بھی بن جاتا ہے
بہت سے بچے ایسے ماحول سے اسکول آتے ہیں جہاں انہیں گھر میں مناسب توجہ، حوصلہ افزائی یا جذباتی سہارا نہیں ملتا۔ ایسے بچوں کے لیے استاد کا یہ یقین کہ وہ کچھ کر سکتے ہیں، ان کی شخصیت پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے بعض اوقات طلبہ کسی مضمون سے زیادہ اپنے استاد کی توقعات پوری کرنے کے لیے محنت کرتے ہیں، اس لیے استاد کا رویہ بچے کے اعتماد اور مستقبل کے فیصلوں پر اثر انداز ہوسکتا ہے
تعلیم کا اصل مقصد صرف یہ نہیں کہ طالب علم امتحان میں اچھے نمبر حاصل کرے بلکہ اس میں آزادانہ سوچ، تخلیقی صلاحیت، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، مؤثر گفتگو، برداشت اور خود اعتمادی جیسی صلاحیتیں بھی پیدا ہوں۔ یہی صلاحیتیں آگے چل کر طلبہ کو اعلیٰ تعلیم، روزگار اور عملی زندگی کے لیے تیار کرتی ہیں
تعلیمی ماہرین کے مطابق طلبہ کی کامیابی جانچنے کے لیے صرف امتحانی نتائج پر انحصار کافی نہیں اس بات کو بھی دیکھا جانا چاہیے کہ بچے کلاس میں کس طرح حصہ لیتے ہیں، اپنا کام کتنی ذمہ داری سے کرتے ہیں، وقت کو کیسے منظم کرتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ کس طرح رابطہ رکھتے ہیں سنگاپور سمیت کئی کامیاب تعلیمی نظاموں میں سوچنے کی صلاحیت، کردار سازی، اقدار، ذہنی مضبوطی اور سماجی و جذباتی نشوونما کو بھی تعلیم کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے
اچھے تعلیمی ماحول کی تشکیل صرف ایک استاد کی کوشش سے نہیں ہوتی بلکہ اساتذہ کے درمیان تعاون اور مشترکہ مقاصد بھی ضروری ہیں جب اساتذہ ایک دوسرے کے تجربات، تدریسی طریقوں اور طلبہ کی کارکردگی پر باقاعدگی سے تبادلہ خیال کرتے ہیں تو پورے اسکول میں تعلیم کا معیار بہتر ہوسکتا ہے اس کا نتیجہ طلبہ کی حاضری، دلچسپی، حوصلے اور تعلیمی کارکردگی میں نظر آتا ہے
ایک کامیاب استاد وہ ہوتا ہے جو طالب علم کی کمزوریوں کے بجائے اس کی صلاحیتوں کو دیکھتا ہے اور چھوٹی کامیابیوں کو بھی اہمیت دیتا ہے ایسے استاد طلبہ کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ ناکامی کسی سفر کا اختتام نہیں بلکہ سیکھنے کا ایک مرحلہ ہے یہی طرز عمل بچوں میں خود اعتمادی اور آگے بڑھنے کی خواہش پیدا کرتا ہے
استاد کا حقیقی اثر اکثر فوری طور پر نظر نہیں آتا ایک استاد کی دی ہوئی حوصلہ افزائی، مشورہ یا اعتماد برسوں بعد بھی طالب علم کی زندگی میں موجود رہ سکتا ہے اسی لیے معیاری تعلیم کے لیے صرف نصاب، عمارتوں اور امتحانات پر توجہ کافی نہیں بلکہ ایسے اساتذہ کی ضرورت بھی ہے جو بچوں کی صلاحیتوں کو پہچان کر انہیں بہتر انسان اور ذمہ دار شہری بننے میں مدد دیں

قومی خبریں سے مزید