Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

بنگلہ دیش کے دریا پلاسٹک کے کچرے میں دب گئے، آبی حیات اور انسانی صحت کو خطرہ

بنگلہ دیش کے دریا پلاسٹک کے کچرے میں دب گئے، آبی حیات اور انسانی صحت کو خطرہ

بنگلہ دیش میں پلاسٹک کا بڑھتا ہوا استعمال ملک کے دریاؤں اور آبی نظام کے لیے سنگین مسئلہ بن گیا ہے تقریباً 50 سال قبل ایک بار استعمال ہونے والے پلاسٹک کا استعمال شروع ہوا تھا، لیکن اب ڈھاکا کا اہم دریا بوری گنگا سمیت کئی آبی گزرگاہیں پلاسٹک کے کچرے سے بھری ہوئی ہیں
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق بنگلہ دیش میں روزانہ تقریباً 3,000 ٹن پلاسٹک کا کچرا پیدا ہوتا ہے اس میں سے ایک بڑا حصہ دریاؤں اور دیگر آبی گزرگاہوں میں پہنچ جاتا ہے، جہاں یہ پانی کے بہاؤ کو متاثر کرنے کے ساتھ آبی جانوروں کے لیے خطرہ بن رہا ہے
پلاسٹک کے ٹکڑے وقت کے ساتھ انتہائی چھوٹے ذرات یعنی مائیکرو پلاسٹکس میں تبدیل ہوجاتے ہیں، جو پانی اور خوراک میں شامل ہوسکتے ہیں خاص طور پر پلاسٹک کی بوتلوں اور خوراک کی پیکنگ میں استعمال ہونے والا پی ای ٹی پلاسٹک ماحول میں ختم ہونے میں تقریباً 450 سال تک لے سکتا ہے
2025 کی ایک تحقیق میں جنوبی ایشیا کے ممالک کی روزمرہ خوراک میں مائیکرو پلاسٹکس سے لاحق صحت کے خطرات کا جائزہ لیا گیا تحقیق میں بتایا گیا کہ بوری گنگا سے پکڑی جانے والی مچھلیوں میں خلیج بنگال سے پکڑی جانے والی مچھلیوں کے مقابلے میں مائیکرو پلاسٹکس نمایاں طور پر زیادہ پائے گئے
ڈھاکا میں پلاسٹک کے کچرے کا مسئلہ بھی تیزی سے بڑھا ہے شہر میں روزانہ پیدا ہونے والے پلاسٹک کے کچرے کی مقدار 2005 میں تقریباً 178 ٹن تھی جو 2020 تک بڑھ کر تقریباً 646 ٹن روزانہ ہوگئی ایک اندازے کے مطابق ڈھاکا میں ہر روز تقریباً 1.4 کروڑ پلاسٹک کی تھیلیاں صرف ایک مرتبہ استعمال کے بعد پھینک دی جاتی ہیں جبکہ ایک خاندان اوسطاً روزانہ 5 پلاسٹک کی تھیلیاں استعمال کرتا ہے
پلاسٹک کی ری سائیکلنگ اگرچہ جاری ہے لیکن اس کا دائرہ محدود ہے۔ 2020 کی عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق ڈھاکا میں پیدا ہونے والے پلاسٹک کے کچرے کا صرف 37 فیصد ری سائیکل ہوپاتا تھا ری سائیکلنگ کا بڑا حصہ غیر رسمی شعبے سے وابستہ افراد کرتے ہیں، جو کچرا جمع کرکے اسے چھانٹتے اور فیکٹریوں کو فراہم کرتے ہیں
دوسری جانب پلاسٹک کی صنعت بنگلہ دیش کی معیشت میں ایک اہم شعبہ بن چکی ہے اس صنعت سے تقریباً 15 لاکھ افراد وابستہ ہیں اور ملک میں 6,000 سے زیادہ پلاسٹک تیار کرنے والے یونٹس کام کر رہے ہیں ان میں بڑی تعداد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں پر مشتمل ہے جبکہ سیکڑوں ادارے برآمدات کے لیے پلاسٹک کی مصنوعات تیار کرتے ہیں
بنگلہ دیش میں پلاسٹک کی 2,500 سے زیادہ اقسام کی مصنوعات تیار کی جاتی ہیں جو پیکنگ، تعمیرات، ٹیکسٹائل، ادویات، گاڑیوں اور الیکٹرانکس سمیت مختلف شعبوں میں استعمال ہوتی ہیں صنعت کی پیداوار کا تقریباً 17 فیصد بیرون ملک برآمد کیا جاتا ہے اور اس شعبے کی شرح نمو تقریباً 20 فیصد بتائی گئی ہے
ماہرین کے مطابق مسئلے کی بنیادی وجوہات میں ایک بار استعمال ہونے والے پلاسٹک کی بے قابو پیداوار، ناکافی ری سائیکلنگ نظام، عوام میں آگاہی کی کمی اور موجودہ قوانین پر کمزور عمل درآمد شامل ہیں اگر پلاسٹک کے استعمال اور کچرے کے انتظام کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں نہ کی گئیں تو دریاؤں، آبی حیات اور انسانی صحت پر اس کے اثرات مزید بڑھ سکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید