کارنیل یونیورسٹی جنسی زیادتی کیس میں مدعیہ کو مقدمہ واپس لینے کے لیے دھمکیاں
امریکا کی کارنیل یونیورسٹی میں مبینہ جنسی زیادتی کے مقدمے کی مدعیہ کو مقدمہ واپس لینے کے لیے دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جبکہ اس کی شناخت ظاہر کرنے کی کوشش میں کم از کم 3 دوسری خواتین کو بھی غلط طور پر نشانہ بنایا گیا ہے
مدعیہ کے وکیل تھامس جفرا نے امریکی ٹی وی چینل سی این این کے پروگرام میں بتایا کہ ان کی موکلہ کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور بعض افراد اس کی شناخت معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،عدالتی دستاویزات میں سابق طالبہ کو ’’جین ڈو‘‘ کے نام سے ظاہر کیا گیا ہے
جین ڈو نے گزشتہ ماہ کارنیل یونیورسٹی اور چی فائی برادری کے 7 ارکان کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا،اس کا الزام ہے کہ 19 اور 20 اکتوبر 2024 کی درمیانی شب وہ کیٹامائن، شراب اور چرس کے زیر اثر تھی، جب کئی گھنٹوں تک اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا
مقدمے کے بعد کارنیل یونیورسٹی اور مقامی حکام کی جانب سے الزامات سے نمٹنے کے طریقہ کار پر بھی نئے سوالات اٹھ گئے ہیں،2024 کی تحقیقات کے دوران کارنیل پولیس نے گواہوں سے پوچھ گچھ کی تھی اور مبینہ طور پر ایک گروپ کی جانب سے جنسی زیادتی کے بارے میں گمنام اطلاعات بھی موصول ہوئی تھیں
نیویارک کی گورنر کیتھی ہوکل نے گزشتہ ہفتے ریاستی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز کو خصوصی پراسیکیوٹر مقرر کیا ہے، جو اس معاملے کا جائزہ لیں گی اور یہ طے کریں گی کہ آیا دستیاب شواہد کی بنیاد پر فوجداری مقدمہ قائم کیا جا سکتا ہے
مقدمے میں عائد الزامات ابھی عدالت میں ثابت نہیں ہوئے، تاہم خصوصی پراسیکیوٹر کی تقرری کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر قومی توجہ کا مرکز بن گیا ہے




