کینیڈا میں مصنوعی ذہانت سے بنائے گئے جعلی صحافیوں کا انکشاف، اصلی میڈیا کے لیے بڑا چیلنج
کینیڈا میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائے گئے ایسے نام نہاد صحافیوں کا انکشاف ہوا ہے جو بظاہر حقیقی افراد کے نام، تصاویر اور صحافتی شناخت استعمال کرتے ہوئے خبریں شائع کر رہے ہیں ماہرین کے مطابق یہ رجحان نہ صرف صحافت پر عوام کے اعتماد کو متاثر کرسکتا ہے بلکہ حقیقی صحافیوں کی محنت اور کاپی رائٹ کے تحفظ کے حوالے سے بھی نئے سوالات پیدا کر رہا ہے
تازہ معاملہ ایک آن لائن نیوز ویب سائٹ وی نیوز سے سامنے آیا، جہاں متعدد ایسے نام استعمال کیے جا رہے ہیں جو بظاہر حقیقی صحافیوں کے ہیں، لیکن دراصل مصنوعی ذہانت سے بنائے گئے کردار ہیں ان میں کیوبیک کی نمائندہ جنیویو ٹریمبلے اور ادارے کے چیف ایڈیٹر گورڈن ہالوے جیسے نام شامل ہیں ویب سائٹ کینیڈا کے 100 سے زیادہ شہروں کی مقامی، صوبائی اور قومی خبریں شائع کرتی ہے
جنیویو ٹریمبلے کے نام سے شائع ہونے والے 200 سے زیادہ مضامین کا مصنوعی ذہانت کی جانچ کرنے والی ایک کمپنی نے تجزیہ کیا تو انہیں مصنوعی ذہانت سے تیار شدہ قرار دیا گیا۔ مزید جانچ میں یہ بھی سامنے آیا کہ ان میں سے کئی مضامین دراصل سی بی سی، سی ٹی وی، سٹی نیوز، گلوبل اور مونٹریال گزٹ سمیت حقیقی میڈیا اداروں کی خبروں کو دوبارہ لکھ کر تیار کیے گئے تھے کینیڈین پریس نے بھی اپنے مواد کو ان مضامین میں استعمال ہوتے ہوئے پایا
اس معاملے نے اس وقت مزید توجہ حاصل کی جب ڈینیئل رابسن کے نام سے لکھنے والے ایک مبینہ صحافی کی شناخت پر سوال اٹھے کینیڈا کے کئی میڈیا اداروں نے اس شخص کے نام سے شائع ہونے والے مضامین اور کالم اپنی ویب سائٹس سے ہٹا دیے پالیسی آپشنز کے مدیر لیس پیرو نے بتایا کہ ایک ترک صحافی نے جب رابسن سے ویڈیو کال کے ذریعے بات کرنے کی کوشش کی تو اس نے انکار کردیا، جس کے بعد اس کی شناخت کے بارے میں شکوک مزید بڑھ گئے
اوٹاوا سٹیزن کے مطابق رابسن کی تصویر اور تحریروں کے بارے میں بھی مصنوعی ذہانت کے استعمال کے شواہد سامنے آئے ادارے نے اس کے مضامین ہٹا دیے اور کہا کہ وہ اس شخص کی شناخت اور اس کے فراہم کردہ تعارف کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کرسکا
ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف مصنوعی ذہانت کا استعمال نہیں بلکہ قارئین اور میڈیا اداروں کو دھوکا دینے کے لیے جعلی شناخت کا استعمال ہے سائمن فریزر یونیورسٹی کے پروفیسر احمد الرّوی کے مطابق بعض افراد حقیقی صحافیوں کی محنت سے تیار ہونے والی خبروں کو دوبارہ استعمال کرکے مالی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں
ویسٹرن یونیورسٹی کے صحافت کے استاد کرس آرسینالٹ نے کہا کہ ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کرنا مشکل ہے کیونکہ بہت کم قیمت پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے بڑی مقدار میں مواد تیار کیا جاسکتا ہے اور اسے کسی بھی جگہ سرور پر شائع کیا جاسکتا ہے
اس صورتحال نے کاپی رائٹ کے مسئلے کو بھی نمایاں کردیا ہے نیوز میڈیا کینیڈا کے صدر پال ڈیگن کے مطابق خبری مواد کاپی رائٹ کے تحت محفوظ ہے، لیکن ایسے اداروں کے خلاف قانونی کارروائی مہنگی اور طویل ہوسکتی ہے، خصوصاً جب ویب سائٹ بیرون ملک قائم ہو وی نیوز کے مطابق اس کا تعلق ہانگ کانگ سے ہے
کینیڈا کے مصنوعی ذہانت کے وزیر ایون سولومن کے دفتر نے کہا ہے کہ کینیڈین شہریوں کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کے سامنے پیش کی جانے والی معلومات مصنوعی ذہانت سے تیار یا تبدیل کی گئی ہیں حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ صحافیوں اور دیگر تخلیق کاروں کو اس بات پر تحفظات ہیں کہ ان کا مواد مصنوعی ذہانت کے نظام میں کس طرح استعمال کیا جا رہا ہے، انہیں اجازت اور معاوضہ مل رہا ہے یا نہیں اور ان کے کام کا مناسب حوالہ دیا جا رہا ہے یا نہیں
گوگل نے بھی کہا ہے کہ اس کی تلاش اور گوگل نیوز کی پالیسی بڑے پیمانے پر کم معیار کا مواد تیار کرکے سرچ نتائج کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دیتی وی نیوز بظاہر گوگل کے تلاش کے نتائج سے بھی غائب ہوگئی ہے، اگرچہ دیگر سرچ انجنوں پر اس کی موجودگی دیکھی گئی ہے
صحافت کے ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کے دور میں خبر کی اصل، صحافی کی شناخت اور معلومات کی تصدیق پہلے سے زیادہ اہم ہوگئی ہے ان کے نزدیک اس مسئلے کا ایک بنیادی حل روایتی صحافتی اصول ہیں، یعنی خبر کے ماخذ کی تصدیق، صحافی کی شناخت کی جانچ اور شائع ہونے سے پہلے معلومات کی آزادانہ طور پر پڑتال





