ٹرمپ کے مقابلے میں مارک کارنی کا نام نوبیل امن انعام کی دوڑ میں نمایاں
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کی عالمی سطح پر اہمیت میں 2026 کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اب ان کا نام نوبیل امن انعام کے ممکنہ امیدواروں کی بحث میں بھی سامنے آ رہا ہے کارنی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں اور کینیڈا پر دباؤ کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے، جس کے باعث ان کی بین الاقوامی شناخت پہلے کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہوئی ہے
امریکی پیش گوئی کی منڈی کلشی میں ستمبر کے آخر میں کارنی کے نوبیل امن انعام جیتنے کے امکانات ایک موقع پر 14 فیصد تک پہنچ گئے تھے، جس کے بعد ان کا نام اس بحث میں تیزی سے نمایاں ہوا تاہم یہ اعداد و شمار نوبیل کمیٹی کی کسی سرکاری معلومات یا خفیہ فہرست پر مبنی نہیں بلکہ تاجروں اور مارکیٹ میں موجود قیاس آرائیوں کی عکاسی کرتے ہیں نوبیل کمیٹی کی جانب سے کسی خفیہ شارٹ لسٹ کی عوامی طور پر تصدیق نہیں کی گئی
نوبیل امن انعام کا اعلان 9 اکتوبر کو اوسلو میں ہونا ہے اس سال 287 امیدواروں کے نام نوبیل کمیٹی کے سامنے پیش کیے گئے ہیں، جن میں افراد کے علاوہ مختلف تنظیمیں بھی شامل ہیں کمیٹی امیدواروں کے بارے میں معلومات طویل عرصے تک خفیہ رکھتی ہے، اس لیے انعام کے اعلان سے پہلے سامنے آنے والی بیشتر پیش گوئیاں اور قیاس آرائیاں حتمی ثبوت نہیں ہوتیں
کارنی کی عالمی مقبولیت میں اضافے کی ایک اہم وجہ ان کا یہ مؤقف ہے کہ درمیانے درجے کی طاقت رکھنے والے ممالک کو بڑی طاقتوں کے دباؤ کے مقابلے میں اپنی خودمختاری اور مفادات کے تحفظ کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہیے۔ انہوں نے جنوری میں ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کینیڈا اور دیگر درمیانی طاقتوں پر زور دیا تھا کہ وہ بدلتے ہوئے عالمی نظام میں نئے اتحاد اور شراکت داری قائم کریں ان کے اس خطاب کو عالمی سطح پر خاص توجہ ملی
امریکا اور کینیڈا کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی نے بھی کارنی کو عالمی توجہ کا مرکز بنایا ہے امریکی حکومت کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کیے جانے کے جواب میں کینیڈا نے بھی جوابی اقدامات کیے۔ کارنی نے اس صورتحال کو کینیڈا کی خودمختاری اور آزادانہ فیصلوں کے حق سے جوڑتے ہوئے واضح کیا کہ کینیڈا کو اپنے اقتصادی اور خارجہ تعلقات کے فیصلے خود کرنے چاہئیں
کارنی نے اسی دوران یورپ اور ایشیا کے ساتھ کینیڈا کے تعلقات مضبوط کرنے کی کوششیں بھی تیز کیں یورپی یونین کے ساتھ قریبی اقتصادی شراکت داری اور بھارت سمیت دیگر ممالک کے ساتھ روابط بڑھانے کی پالیسی کو واشنگٹن پر کینیڈا کے انحصار میں کمی کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے
نوبیل امن انعام کے علاوہ کارنی کا نام ٹائم میگزین کے سال کی اہم ترین شخصیت کے اعزاز کے لیے بھی زیر بحث ہے ٹائم نے انہیں 2026 کے 100 بااثر افراد میں شامل کیا تھا اور ان کے عالمی اثر و رسوخ میں اضافے کو نمایاں کیا تھا تاہم نوبیل امن انعام یا ٹائم کی سال کی شخصیت کے اعزاز کے بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا
کینیڈا کے لیے کارنی کا عالمی سطح پر اس طرح نمایاں ہونا اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ وہ ایسے وقت میں ملک کی نمائندگی کر رہے ہیں جب کینیڈا کو امریکا کے ساتھ تجارت، خودمختاری اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے غیر معمولی دباؤ کا سامنا ہے نوبیل کمیٹی کا حتمی فیصلہ تاہم 9 اکتوبر کو ہی سامنے آئے گا





