لاطینی امریکا میں قدامت پسند رجحان کو برازیل کے انتخابات میں سب سے بڑے امتحان کا سامنا
ساؤ پاؤلو: برازیل میں اتوار کو ہونے والے صدارتی انتخابات پر پوری توجہ مرکوز ہے کیونکہ تجزیہ کار یہ دیکھ رہے ہیں کہ آیا براعظم کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بھی ان ممالک کی صف میں شامل ہوتا ہے یا نہیں جہاں بائیں بازو کی حکومتوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے،کولمبیا، پیرو، چلی اور دیگر ممالک میں حالیہ انتخابات کے بعد قدامت پسند سیاسی قوتوں کو کامیابیاں ملی ہیں
برازیل کے 80 سالہ صدر لوئیز اناسیو لولا ڈا سلوا، جنہیں عام طور پر لولا کہا جاتا ہے، پہلے مرحلے میں سابق صدر جائر بولسونارو کے بیٹے اور سینیٹر فلاویو بولسونارو سے معمولی برتری کے ساتھ آگے ہیں
اتوار کو ہونے والے پہلے مرحلے میں کسی بھی امیدوار کے مطلوبہ 50 فیصد ووٹ حاصل کرکے براہ راست کامیاب ہونے کی توقع نہیں کی جا رہی،تازہ ترین Datafolha سروے کے مطابق لولا کو 42 فیصد اور فلاویو بولسونارو کو 38 فیصد حمایت حاصل ہے، جبکہ سروے میں غلطی کا ممکنہ فرق 2 فیصد ہے،اگر مقابلہ دوسرے مرحلے تک پہنچتا ہے تو اسی سروے میں لولا کو 3 فیصد پوائنٹس کی برتری حاصل ہے،تاہم ماضی میں برازیل کے انتخابی سروے غلط ثابت ہوتے رہے ہیں
رپورٹ کے مطابق Datafolha ملک کا سب سے بڑا انتخابی سروے ادارہ ہے، لیکن بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ادارہ لولا یا ان کی جماعت ورکرز پارٹی (PT) کے خلاف امیدواروں کی اصل انتخابی قوت اور ووٹ حاصل کرنے کی صلاحیت کو اکثر کم کرکے دکھاتا ہے





