موسمیاتی تبدیلی پر توانائی کمپنیوں کے خلاف مقدمہ، امریکی سپریم کورٹ میں اہم سماعت
واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ پیر کو ایک انتہائی اہم مقدمے کی سماعت کرے گی جس میں یہ فیصلہ ہونا ہے کہ کیا مقامی حکومتیں توانائی کمپنیوں کو موسمیاتی تبدیلی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا ذمہ دار قرار دے کر ان سے بھاری مالی معاوضہ طلب کرسکتی ہیں یا وفاقی قانون ایسے مقدمات کی راہ میں رکاوٹ ہے
مقدمہ سن کور انرجی انکارپوریٹڈ بنام کاؤنٹی کمشنرز آف بولڈر کاؤنٹی کولوراڈو کی بولڈر کاؤنٹی نے ریاستی عدالت میں دائر کیا ہے،کاؤنٹی کا مؤقف ہے کہ توانائی کمپنیوں نے فوسل فیول کے استعمال سے موسمیاتی تبدیلی میں کردار ادا کیا اور اس کے نتیجے میں مقامی سطح پر ہونے والے نقصانات کی مالی ذمہ داری بھی ان کمپنیوں پر عائد ہونی چاہیے
بولڈر کاؤنٹی توانائی کمپنیوں سے لاکھوں ڈالر کے معاوضے کا مطالبہ کر رہی ہے،تاہم توانائی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے مقدمات دراصل ان پر ایک بہت بڑا ’’کاربن ٹیکس‘‘ عائد کرنے کی کوشش ہیں، جس کے نتیجے میں توانائی کی صنعت کو شدید مالی نقصان پہنچ سکتا ہے
توانائی کمپنیوں نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ ریاستی عدالت میں دائر مقدمے کو آگے بڑھنے سے روکا جائے، جبکہ بولڈر کاؤنٹی کا مؤقف ہے کہ اس کا مقدمہ ریاستی قانون کے تحت قابل سماعت ہے اور اسے وفاقی قانون کی بنیاد پر خارج نہیں کیا جاسکتا
اس مقدمے کی اہمیت صرف بولڈر کاؤنٹی تک محدود نہیں،امریکہ کی مختلف ریاستوں اور مقامی حکومتوں کی جانب سے بڑی توانائی کمپنیوں کے خلاف اسی نوعیت کے درجنوں مقدمات پہلے ہی دائر کیے جاچکے ہیں،سپریم کورٹ کا فیصلہ ان تمام مقدمات کے مستقبل پر براہ راست اثر انداز ہوسکتا ہے
یہ کیس امریکی عدالت عظمیٰ کے 2026-27 کے عدالتی سال کے اہم ترین کاروباری مقدمات میں شمار کیا جا رہا ہے،عدالت کا فیصلہ یہ واضح کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والے نقصانات کی ذمہ داری طے کرنے کے لیے مقامی حکومتوں کو ریاستی عدالتوں میں مقدمات چلانے کی کتنی گنجائش حاصل ہے اور وفاقی قانون توانائی کمپنیوں کو کس حد تک تحفظ فراہم کرتا ہے





