Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

یمن میں حوثیوں کے خلاف بڑا فوجی آپریشن، سعودی قیادت میں فضائی حملوں میں تیزی

یمن میں حوثیوں کے خلاف بڑا فوجی آپریشن، سعودی قیادت میں فضائی حملوں میں تیزی

عدن: یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی فورسز نے پیر کو بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کا آغاز کردیا، جبکہ سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے حوثیوں کے خلاف فضائی حملوں میں بھی نمایاں اضافہ کردیا ہے
سعودی قیادت میں اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن کی حکومت کی حمایت میں حوثیوں کے خلاف کارروائی کرنے والی فورسز کو تقریباً 100 جنگی طیاروں کی مدد حاصل ہے،ان کے مطابق اتحاد نے اہم آبنائے باب المندب کے لیے فضائی تحفظ قائم کرلیا ہے اور جاری فوجی مہم کے دوران حوثیوں کے سیکڑوں ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے
یہ کارروائی ایسے وقت میں شروع ہوئی ہے جب حوثی باغیوں نے یمن کے جنوب مغربی حصے میں مزید علاقے پر قبضے کا اعلان کیا ہے،حوثیوں نے اتوار کو تربہ نامی اہم قصبے پر قبضہ کرلیا تھا، جسے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے،حوثی فورسز اس علاقے کے ایک اہم صوبائی دارالحکومت کی جانب پیش قدمی کر رہی تھیں
تربہ پر قبضے کے فوراً بعد یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے حوثیوں کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کا اعلان کیا، جس کے بعد سعودی قیادت میں اتحاد کی فضائی کارروائی بھی تیز ہوگئی
سعودی اتحاد کا کہنا ہے کہ باب المندب آبنائے کی فضائی نگرانی اور تحفظ اس فوجی مہم کا اہم مقصد ہے،باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والا انتہائی اہم بحری راستہ ہے اور عالمی تجارت کے لیے اس کی اسٹریجک اہمیت بہت زیادہ ہے
تاہم فضائی حملوں، حوثیوں کے نقصانات اور سعودی اتحاد کے بیان کردہ اہداف سے متعلق تفصیلات کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی
یمن میں تازہ فوجی کشیدگی نے سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومتی فورسز اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے درمیان پہلے سے جاری جنگ میں ایک نیا اور اہم مرحلہ پیدا کردیا ہے، جبکہ بحیرہ احمر اور باب المندب کے قریب بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمی نے خطے میں کشیدگی کے خدشات بھی بڑھا دیے ہیں

قومی خبریں سے مزید