Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

دہلی جیل سے برطانوی سکھ کارکن جَگتار سنگھ جوہل نو سال بعد رہا، عدالت کی توہین کے انتباہ پر بھارت کو رہائی دینا پڑی

دہلی جیل سے برطانوی سکھ کارکن جَگتار سنگھ جوہل نو سال بعد رہا، عدالت کی توہین کے انتباہ پر بھارت کو رہائی دینا پڑی

دہلی:برطانوی سکھ کارکن جَگتار سنگھ جوہل کو بھارت میں تقریباً نو سال قید رہنے کے بعد دہلی کی جیل سے ضمانت پر رہا کر دیا گیا،دہلی ہائی کورٹ نے بھارتی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر 18 ستمبر کے رہائی کے حکم پر عمل نہ کیا گیا تو حکام کو عدالت کی توہین کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
جوہل کو 4 نومبر 2017 کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر دہشت گردی سے متعلق الزامات عائد کیے گئے،وہ تقریباً نو سال تک کسی مکمل مقدمے کے فیصلے کے بغیر زیر حراست رہے،ان کے وکلا نے حالیہ دنوں میں بندِ راستہ جسمانی پیشی کی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ضمانت منظور ہونے کے باوجود انہیں کسی عدالتی اختیار کے بغیر جیل میں رکھا جا رہا ہے
عدالت کو بتایا گیا کہ جیل حکام نے رہائی کے لیے وزارت داخلہ سے وضاحت طلب کی تھی، مگر وزارت کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا،عدالت نے جمعرات کو حکم دیا کہ جوہل کو بھارتی وقت کے مطابق دوپہر ڈھائی بجے تک رہا کیا جائے، ورنہ حکام کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع ہو سکتی ہے،بعد ازاں وہ جیل سے باہر آ گئے جہاں اہل خانہ اور دوستوں نے ان کا استقبال کیا
جوہل کو 18 ستمبر کو ضمانت دی گئی تھی، تاہم ان کی رہائی پر 11 شرائط عائد ہیں، جن میں برطانوی پاسپورٹ جمع کرانا، پانچ لاکھ بھارتی روپے کا ذاتی مچلکہ اور دو ضامن، ہر دو ہفتے بعد تفتیشی افسر کے سامنے حاضری اور پنجاب جانے پر پابندی شامل ہے،انہیں اپنے مقدمے کے بارے میں براہ راست یا بالواسطہ میڈیا سے گفتگو سے بھی روکا گیا ہے
بھارتی حکومت کا الزام ہے کہ جوہل کا تعلق خالصتان لبریشن فورس سے تھا اور وہ پنجاب میں 2016-17 کے دوران ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کی سازش سے واقف تھے،جوہل ان الزامات سے انکار کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ابتدائی اعترافی بیانات تشدد کے ذریعے حاصل کیے گئے،بھارتی حکام نے تشدد کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانونی کارروائی ضابطے کے مطابق جاری رہی
اقوام متحدہ کے ماہرین پہلے جوہل کی طویل حراست کو من مانے حراست کے طور پر بیان کر چکے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیم ریپریو نے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا،جوہل ایک مقدمے میں گزشتہ سال بری بھی ہو چکے ہیں، تاہم بھارت میں ان کے خلاف دیگر وفاقی الزامات بدستور زیر سماعت ہیں اور ان میں سزائے موت کا خدشہ موجود ہے
جوہل کے بھائی گرپریت سنگھ جوہل نے رہائی کے بعد کہا کہ گزشتہ نو برس کی مسلسل ناکامیوں اور مایوسیوں کے باعث انہیں اس وقت تک یقین نہیں آیا جب تک انہوں نے اپنے بھائی کو جیل کے دروازے سے باہر آتے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ لیا،ان کے مطابق جوہل کی قانونی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی

قومی خبریں سے مزید