بی جے پی کی حکومت ’فارم 47 حکومت‘ ہے، جینیش کمار پہلے استعفیٰ دیں، ممتا بنر جی
نئی دہلی: مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی حکومت پر براہ راست انتخابی مینڈیٹ چوری کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے ’فارم 47 کی حکومت‘ قرار دے دیا
ممتا بنرجی نے نئی دہلی میں پریس کانفرنس کے دوران ’فارم 47‘ کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی ساتھ بیٹھی خاتون سے پوچھا کہ وہ فارم 47 کیا ہے، جس پر وضاحت ملنے کے بعد انہوں نے کہا کہ ’’بی جے پی کی حکومت فارم 47 سے بنی ہے”
یہ اصطلاح پاکستان کی 2024 کی انتخابی سیاست سے نکلی، جہاں تحریک انصاف اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے الزام عائد کیا کہ پولنگ اسٹیشنوں پر مرتب کیے جانے والے فارم 45 کے نتائج اور بعد میں مرتب ہونے والے فارم 47 میں بعض حلقوں کے نتائج تبدیل کیے گئے، جس کے نتیجے میں شہباز شریف کی حکومت تشکیل پائی،یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف اور اس کے حامی حلقے طویل عرصے سے شہباز حکومت کو ’فارم 47 حکومت‘ کہتے رہے ہیں
ممتا بنرجی نے بھارتی انتخابی نظام اور الیکشن کمیشن پر بھی شدید حملہ کیا اور چیف الیکشن کمشنر جینیش کمار کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا،ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی ساکھ بحال کرنے کے لیے پہلے جینیش کمار کا جانا ضروری ہے، اس کے بعد ہی باقی معاملات طے ہوں گے،اپوزیشن جماعتیں پہلے ہی جینیش کمار کی برطرفی یا استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں
ممتا بنرجی نے کہا کہ وہ مرکزی تحقیقاتی اداروں سے خوفزدہ ہونے والی نہیں،ان کے مطابق ’’ہم ایجنسیوں سے ڈرنے والے لوگ نہیں ہیں، ہم لڑنے والے لوگ ہیں اور لڑتے رہیں گے”،ان کے خطاب میں را، سی بی آئی اور دیگر مرکزی اداروں کے مبینہ استعمال پر بھی سخت تنقید سامنے آئی
انہوں نے الزام عائد کیا کہ مغربی بنگال میں خصوصی ووٹر فہرست نظرثانی، یعنی ایس آئی آر، انتخابی عمل کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کی گئی،ان کا دعویٰ تھا کہ بڑی تعداد میں ووٹرز کے نام فہرستوں سے نکالے گئے اور فارم 6 کی درخواستیں بڑی تعداد میں جمع کرائی گئیں،انہوں نے ای وی ایم کے بارے میں بھی سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ کولکاتا میں تقریباً 4 ہزار ای وی ایم جلائے گئے اور سوال کیا کہ اگر کوئی خرابی نہیں تھی تو مشینیں کیوں تباہ ہوئیں،یہ تمام الزامات ممتا بنرجی کے ہیں، جبکہ بھارتی الیکشن کمیشن اور حکومتی حلقے انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کے الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں
ممتا بنرجی نے کہا کہ اپوزیشن خاموش نہیں بیٹھے گی اور جمہوریت اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے احتجاج جاری رکھے گی،گزشتہ روز بھی انہوں نے کہا تھا کہ جینیش کمار کے عہدے پر برقرار رہنے تک تحریک جاری رہے گی اور ’ہم لڑیں گے، یہ جدوجہد جاری رکھیں گے، جمہوریت بحال کرنے اور آئین کے تحفظ کے لیے کام کریں گے”
ممتا بنرجی کے ’فارم 47 حکومت‘ کے فقرے نے اس بیان کو بھارت پاکستان سیاسی تناظر میں بھی غیر معمولی بنا دیا ہے،پاکستان میں ’فارم 47‘ 2024 کے انتخابات کے بعد انتخابی نتائج کے تنازع کی علامت بنا، جبکہ اب بھارت میں ممتا بنرجی نے یہی اصطلاح بی جے پی حکومت کی انتخابی حیثیت پر سوال اٹھانے کے لیے استعمال کی ہے،دلچسپ طور پر چند روز قبل بھارتی نمائندے نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی شہباز شریف حکومت کے خلاف بھی ’فارم 47 حکومت‘ کی اصطلاح استعمال کی تھی،یوں پاکستان کی ایک انتہائی معروف سیاسی اصطلاح پہلے بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف سفارتی سطح پر استعمال ہوئی اور اب بھارتی اپوزیشن کی جانب سے بھارتی حکومت کے خلاف سیاسی حملے کے طور پر سامنے آ گئی ہے





