کارنی کا امیگریشن دوبارہ بڑھانے کا عندیہ، نئی پالیسی کا اعلان نومبر میں متوقع
وزیر اعظم مارک کارنی نے عندیہ دیا ہے کہ کینیڈا میں آبادی اور امیگریشن میں کمی کے بعد حکومت مستقبل میں امیگریشن میں ایک بار پھر محدود اور کنٹرول شدہ اضافہ شروع کر سکتی ہے کارنی نے نیویارک ٹائمز کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ کینیڈا کا امیگریشن نظام اب دوبارہ قابو میں آ گیا ہے اور اگلا سوال یہ ہے کہ آبادی میں کنٹرول شدہ اضافہ کب شروع کیا جائے
کارنی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت کو اگلے 3 سال کے لیے امیگریشن کی نئی سطح کا منصوبہ جاری کرنا ہے۔ حکومت کو یہ منصوبہ قانون کے تحت یکم نومبر تک پیش کرنا ہے، تاہم اس سال یکم نومبر اتوار ہونے کی وجہ سے پارلیمانی اجلاس کے مطابق آخری تاریخ میں معمولی تبدیلی ہو سکتی ہے
گزشتہ 3 وفاقی امیگریشن منصوبوں میں کینیڈا آنے والے افراد کی تعداد کم کرنے پر توجہ دی گئی تھی حکومت نے خاص طور پر عارضی غیر ملکی کارکنوں اور بین الاقوامی طلبہ کی تعداد محدود کرنے کے اقدامات کیے، کیونکہ حکومت کے مطابق وبا کے بعد آبادی میں تیز رفتار اضافے سے رہائش، روزگار، صحت اور دیگر عوامی خدمات پر دباؤ بڑھا تھا
حکومت نے عارضی رہائشیوں کی تعداد کو مجموعی آبادی کے 5 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا ہے تاہم یکم جولائی 2026 کے اندازے کے مطابق عارضی رہائشی اب بھی کینیڈا کی آبادی کا تقریباً 6.7 فیصد تھے اس وجہ سے حکومت کے لیے مقررہ ہدف حاصل کرنا ایک اہم چیلنج قرار دیا جا رہا ہے
مستقل رہائشیوں کے حوالے سے موجودہ منصوبے میں 2026 کے لیے 385,000 افراد، جبکہ 2027 اور 2028 دونوں سالوں کے لیے 370,000 مستقل رہائشیوں کی گنجائش رکھی گئی ہے حکومت نے اس سے قبل مستقل رہائشیوں کی سالانہ تعداد 500,000 تک بڑھانے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن بعد میں پالیسی تبدیل کرکے امیگریشن میں کمی شروع کر دی گئی
سی ڈی ہاؤ انسٹی ٹیوٹ کی امیگریشن ٹارگٹس کونسل نے حکومت کو آئندہ 3 سالوں میں امیگریشن مزید کم رکھنے کی سفارش کی ہے۔ کونسل نے 2027 کے لیے 380,000، 2028 کے لیے 350,000 اور 2029 کے لیے 340,000 مستقل رہائشیوں کی سفارش کی ہے یہ سفارش حکومت کی جانب سے ممکنہ کنٹرول شدہ اضافے کے اشارے سے مختلف ہے
معاشیات کے ماہر مائیکل اسکیوٹرڈ نے کہا ہے کہ کینیڈا میں امیگریشن کی شرح تاریخی معیار کے لحاظ سے پہلے ہی بلند ہے اور کاروباری اداروں کو افرادی قوت کی کمی کا حل صرف مزید امیگریشن کے ذریعے تلاش کرنے کے بجائے اجرتوں اور ملازمتوں کی شرائط بہتر بنانے پر بھی توجہ دینی چاہیے دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ امیگریشن کو پائیدار سطح پر رکھنے کے ساتھ ملک کی آبادی اور معیشت کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا
کارنی نے یہ نہیں بتایا کہ امیگریشن میں اضافہ کب اور کتنی مقدار میں کیا جائے گا اس حوالے سے زیادہ واضح صورتحال حکومت کے 2027 سے 2029 کے نئے امیگریشن منصوبے کے اعلان کے بعد سامنے آئے گی





