Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

کینیڈا میں سفید فام نسل پرست گروہ کی رکنیت کے لیے خفیہ معاہدہ، سابق فوجی نے بھرتی کے طریقہ کار کا انکشاف کر دیا

کینیڈا میں سفید فام نسل پرست گروہ کی رکنیت کے لیے خفیہ معاہدہ، سابق فوجی نے بھرتی کے طریقہ کار کا انکشاف کر دیا

کینیڈا میں سرگرم سفید فام نسل پرست گروہ سیکنڈ سنز کے رکنیت کے عمل سے متعلق ایک سابق فوجی نے انکشاف کیا ہے کہ تنظیم میں شمولیت کے خواہش مند افراد سے خفیہ معلومات افشا نہ کرنے کے معاہدے پر دستخط کروائے جاتے ہیں سابق فوجی کے مطابق تنظیم کی جانب سے ابتدائی طور پر حب الوطنی، جسمانی تربیت اور کینیڈین روایات کے تحفظ کا تاثر دیا جاتا ہے، تاہم بالمشافہ ملاقات کے دوران اسے تنظیم کے نسل پرستانہ نظریات اور یہودی مخالف خیالات کا سامنا کرنا پڑا
سابق کینیڈین فوجی نے بتایا کہ اس نے آن لائن مواد دیکھنے کے بعد سیکنڈ سنز میں شمولیت کے لیے درخواست دی تھی ابتدائی طور پر ٹیلی گرام کے ذریعے اس کا انٹرویو کیا گیا اور بعد ازاں اونٹاریو میں تنظیم کے ارکان سے ملاقات طے پائی اس کے مطابق ملاقات کے دوران اس سے کہا گیا کہ وہ اپنے کپڑوں کی تلاشی دے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اس نے کوئی خفیہ ریکارڈنگ آلہ نہیں پہن رکھا اسے اپنا موبائل فون بھی میز پر رکھنے کی ہدایت کی گئی تاکہ وہ گفتگو ریکارڈ نہ کر سکے
سابق فوجی کے مطابق ملاقات کے دوران تنظیم کے ارکان نے یہودیوں کے خلاف نفرت انگیز خیالات کا اظہار کیا اور ہٹلر کے نظریات کی تعریف کی اس سے نسلی نظریات اور تاریخ کے بارے میں اس کے علم کو بھی جانچا گیا، جبکہ مبینہ طور پر اسے نسلی گالیاں دہرانے کے لیے کہا گیا سابق فوجی نے ان حالات کو دیکھ کر تنظیم میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا اس کی شناخت اس کی ذاتی سلامتی اور ممکنہ قانونی ردعمل کے خدشات کے باعث ظاہر نہیں کی گئی
تنظیم کی جانب سے ممکنہ ارکان کو ایک رازداری کے معاہدے پر دستخط کرنے کا کہا جاتا ہے، جس کے تحت تنظیم سے متعلق خفیہ معلومات ظاہر کرنے پر قانونی کارروائی کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے اظہار رائے کے ماہرین نے اس نوعیت کے معاہدوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ذریعے صحافیوں، قانونی اداروں یا دیگر متعلقہ حکام سے بات کرنے کے عمل کی حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے، بالخصوص اگر کسی سرگرمی کے غیر قانونی ہونے کا خدشہ ہو
سیکنڈ سنز خود کو مردوں کی ایک قوم پرست تنظیم قرار دیتی ہے اور اپنی ویب سائٹ پر جسمانی تربیت، دوستی اور کینیڈا کی روایات کے تحفظ کو اپنے مقاصد میں شامل کرتی ہے تاہم، صحافتی تحقیقات اور سابق ارکان کے بیانات کے مطابق تنظیم کے بعض رہنما نازی نظریات کی حمایت، یہودی مخالف بیانات اور تارکین وطن کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں تنظیم کے سربراہ جیریمی میک کینزی اس سے قبل ڈیاگولون نامی گروہ سے بھی وابستہ رہے ہیں، جسے کینیڈین حکام نے انتہا پسند اور ملیشیا جیسی سرگرمیوں سے منسلک قرار دیا ہے
سیکنڈ سنز 2024 میں قائم ہوئی اور اس کے مختلف صوبوں میں ابواب یا شاخیں موجود ہیں یہ تنظیم نام نہاد ایکٹو کلب تحریک کا حصہ ہے، جس میں مردوں کے گروہ جسمانی تربیت، مارشل آرٹس اور اجتماعی سرگرمیوں کے ذریعے ارکان کو منظم کرتے ہیں ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی بعض تنظیمیں ان سرگرمیوں کو نسل پرستانہ نظریات کے فروغ اور نئے ارکان کی بھرتی کے لیے استعمال کرتی ہیں
تنظیم کے خلاف الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب کینیڈا میں نسل پرستی، تارکین وطن مخالف سرگرمیوں اور انتہا پسند گروہوں کی عوامی موجودگی پر تشویش بڑھ رہی ہے حال ہی میں سیکنڈ سنز کے ارکان نے برٹش کولمبیا کے شہر کم لوپس میں ایک سابق رہائشی اسکول کے قریب مظاہرہ بھی کیا تھا، جس پر مقامی برادری اور وزیر اعظم مارک کارنی نے مذمت کی تھی پولیس نے بھی تنظیم کی سرگرمیوں کے حوالے سے جاری تحقیقات میں معاملے کو سنجیدگی سے لینے کا بیان دیا ہے
سابق فوجی کا کہنا ہے کہ وہ ابتدا میں ایک ایسی کمیونٹی کا حصہ بننا چاہتا تھا جہاں حب الوطنی اور جسمانی تربیت کو اہمیت دی جاتی ہو، لیکن ملاقات کے دوران سامنے آنے والے نظریات نے اسے تنظیم سے دور رہنے پر مجبور کر دیا سیکنڈ سنز نے صحافتی ادارے کی جانب سے مؤقف دینے کی درخواست کا جواب نہیں دیا

قومی خبریں سے مزید