Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہٹلر سست اور مجرمانہ ذہن کا آدمی تھا، دوپہر تک سویا رہتا تھا‘: نازی عروج کی تاریخ شاید وہ نہیں جو ہمیں بتائی گئی

ہٹلر سست اور مجرمانہ ذہن کا آدمی تھا، دوپہر تک سویا رہتا تھا‘: نازی عروج کی تاریخ شاید وہ نہیں جو ہمیں بتائی گئی

جرمن مصنف اور فنکار فلپ روخ نے نازی جرمنی کے عروج پر اپنی نئی کتاب میں ہٹلر کے بارے میں رائج تصور اور نازی جماعت کے اقتدار تک پہنچنے کی روایتی کہانی پر اہم سوالات اٹھائے ہیں،گارڈین میں شائع ہونے والے ایک تفصیلی انٹرویو میں روخ کا کہنا ہے کہ ہٹلر اور نازی جماعت کی کامیابی کو صرف 1932 اور 1933 کے انتخابات، رائشٹاخ کی آگ اور ہٹلر کو حاصل ہونے والے غیرمعمولی اختیارات کے ذریعے سمجھنا تاریخ کے ایک اہم مرحلے کو نظرانداز کرنا ہے
روخ کے مطابق وہ تقریباً تین سال قبل اس سوال پر تحقیق کرنے لگے کہ نیشنل سوشلسٹ جرمن ورکرز پارٹی، یعنی این ایس ڈی اے پی، اس وقت اقتدار کی طرف کیسے بڑھی جب جرمنی ابھی ایک جمہوری ملک تھا،ان کی تحقیق نے انہیں اس نتیجے تک پہنچایا کہ 14 ستمبر 1930 کے رائشٹاخ انتخابات نازی عروج کو سمجھنے کے لیے 1932 اور 1933 کے واقعات سے بھی زیادہ اہم تھے،ان کے بقول تاریخی شواہد نے نازی کامیابی کے بارے میں کئی روایتی نظریات کو کمزور کردیا ہے
اعداد اس تبدیلی کی غیرمعمولی رفتار دکھاتے ہیں،1928 میں نازی پارٹی کو صرف تقریباً 8 لاکھ ووٹ ملے تھے اور رائشٹاخ میں اس کی 12 نشستیں تھیں،1930 کے انتخابات سے چند ہفتے پہلے بھی نازی پروپیگنڈا سربراہ جوزف گوئبلز کو امید تھی کہ پارٹی زیادہ سے زیادہ 50 سے 60 نشستیں حاصل کرسکے گی،لیکن انتخابی نتیجہ توقع سے کہیں آگے نکل گیا،نازی پارٹی نے 64 لاکھ ووٹ حاصل کیے اور اس کی نشستیں بڑھ کر 107 ہوگئیں،یعنی صرف دو برس میں ووٹوں میں تقریباً نو گنا اضافہ ہوا
اس کامیابی نے نازی پارٹی کو جرمنی کی روایتی دائیں بازو کی تین بڑی جماعتوں سے بھی آگے کردیا اور وہ سوشل ڈیموکریٹس کے بعد رائشٹاخ کی دوسری بڑی سیاسی قوت بن گئی،روخ کے مطابق یہی وہ لمحہ تھا جب ایک انتہائی حاشیائی، نسل پرستانہ اور تشدد پسند گروہ پہلی مرتبہ جرمن سیاست میں وسیع پیمانے پر سیاسی اعتبار حاصل کرنے میں کامیاب ہوا
روخ ہٹلر کی ذاتی شخصیت کے بارے میں بھی اس تصور کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ ہر وقت انتہائی منظم، محنتی اور مسلسل کام کرنے والا سیاسی رہنما تھا،ان کے مطابق ہٹلر کا ایک پہلو ایسا بھی تھا جو بعد کے نازی پروپیگنڈے اور تیسری ریخ کے طاقتور امیج کے پیچھے چھپ گیا،تاریخی حوالوں میں اسے دیر تک سونے والا اور باقاعدہ دفتری معمول کا پابند نہ رہنے والا شخص دکھایا گیا ہے،ایک تاریخی دستاویزی ماخذ کے مطابق ہٹلر بعض اوقات دوپہر تک بستر سے نہیں اٹھتا تھا اور اس کی دیر سے شروع ہونے والی روزمرہ زندگی سے اس کے اردگرد موجود لوگ بھی پریشان رہتے تھے
یہ تصویر اس مشہور نازی پروپیگنڈا تصور سے خاصی مختلف ہے جس میں ہٹلر کو ایک ایسے قائد کے طور پر پیش کیا گیا جس نے اپنی پوری زندگی قوم کے لیے وقف کردی تھی،روخ کی دلچسپی اسی تضاد میں ہے کہ بعد میں بننے والی نازی ریاست کے طاقتور اور منظم امیج کو ہٹلر کے اقتدار سے پہلے کے سیاسی سفر پر لاگو کرنے سے اس دور کی اصل حقیقت دھندلا سکتی ہے
روخ کے مطابق نازی کامیابی کی ایک اور عام وضاحت بھی مکمل طور پر قابل اطمینان نہیں، یعنی یہ کہ نازی جماعت محض غیرمعمولی پروپیگنڈا مشین کی وجہ سے مقبول ہوئی،ان کی تحقیق کے مطابق 1930 سے پہلے نازی پروپیگنڈا اتنا شاندار نہیں تھا جتنا بعد کے دور کی تصاویر سے تاثر ملتا ہے،ان کے مطابق نازی اخبارات کی فروخت بھی کم تھی اور ان کے بعض ابتدائی تشہیری طریقے غیرپیشہ ورانہ دکھائی دیتے تھے،دوسری سیاسی جماعتوں کے پاس بھی بڑے پیمانے پر تشہیری وسائل موجود تھے
معاشی بحران کو بھی روخ نازی عروج کی مکمل وضاحت نہیں سمجھتے،ان کے مطابق عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ وال اسٹریٹ کے بحران، بے روزگاری اور جرمنی کی معاشی تباہی نے لوگوں کو نازی جماعت کی طرف دھکیلا، لیکن 1930 کے انتخابی نتائج کو اس فارمولے سے پوری طرح نہیں سمجھا جاسکتا،ان کی تحقیق کے مطابق جن علاقوں میں بے روزگاری زیادہ تھی، وہاں نازی پارٹی نے نسبتاً کم کارکردگی دکھائی،مزید یہ کہ وال اسٹریٹ بحران کے شدید اثرات جرمنی میں 1931 کے وسط میں نمایاں ہوئے، یعنی 1930 کے انتخابات میں نازی جماعت کے نو گنا انتخابی اضافے کے بعد
روخ ایک اور دلچسپ نکتہ اٹھاتے ہیں،ان کے مطابق 1930 میں نازی جماعت کو اس لیے کامیابی نہیں ملی کہ وہ روایتی دائیں بازو کی جماعتوں سے زیادہ سخت گیر تھی،اس وقت موجود بعض دائیں بازو کی جماعتیں ہٹلر سے بھی زیادہ سخت گیر مؤقف رکھتی تھیں،مثال کے طور پر نیشنل کنزرویٹو جرمن نیشنل پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم بعض معاملات میں ہٹلر سے بھی زیادہ یہود مخالف تھی، مگر اس جماعت کو 1930 کے انتخابات میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا
روخ کے نزدیک اصل سوال سیاسی اعتبار اور اعتماد کا تھا،ان کے مطابق روایتی دائیں بازو کی جماعتیں اپنے ووٹروں کے لیے قابل اعتماد سیاسی متبادل کا تاثر برقرار نہ رکھ سکیں، جبکہ ہٹلر کی جماعت نے اپنے انتہائی سخت اور پرتشدد سیاسی مؤقف کو مسلسل برقرار رکھا
یہاں روخ کی تحقیق کا سب سے چونکا دینے والا پہلو سامنے آتا ہے،ان کے مطابق نازی جماعت نے 1930 کے انتخابات سے قبل بنیادی طور پر سماجی بہبود، روزگار یا ترقیاتی منصوبوں کا وعدہ نہیں کیا تھا بلکہ اس کی سیاست میں سیاسی مخالفین کے خلاف تشدد اور قتل کی دھمکیاں نمایاں تھیں،ان کے بقول ہٹلر جب سے نازی پارٹی میں شامل ہوا، سیاسی مخالفین کو ختم کرنے اور پھانسی دینے کی بات کرتا رہا اور پارٹی نے اس رویے کو مستقل برقرار رکھا
روخ کے مطابق تاریخ کا یہ پہلو اس لیے بھی اہم ہے کہ عام تصور کے برعکس سیاسی تشدد ہمیشہ کسی انتہاپسند تحریک کو عوام کے لیے ناقابل قبول نہیں بناتا،ان کے مطابق جرمنی میں نازی تحریک کی پرتشدد زبان اور طاقت کے اظہار نے ایک طبقے کو اسے مسترد کرنے کے بجائے اپنی طرف متوجہ بھی کیا
اسی بنیاد پر روخ موجودہ یورپی سیاست میں دائیں بازو کی انتہاپسند تحریکوں کے بارے میں بھی سوال اٹھاتے ہیں، تاہم یہ ان کی سیاسی تشریح ہے، تاریخی حقیقت نہیں،ان کی نئی کتاب Der Rückfall میں بنیادی سوال یہی ہے کہ ایک جمہوری معاشرے میں ایک انتہائی انتہاپسند سیاسی تحریک پہلے انتخابی اعتبار سے قابل قبول کیسے بنتی ہے اور پھر ریاستی طاقت کے قریب کیسے پہنچتی ہے
اس پورے تجزیے کا سب سے اہم تاریخی نکتہ یہ ہے کہ ہٹلر کا اقتدار میں پہنچنا 1933 میں اچانک ہونے والا واقعہ نہیں تھا،نازی جماعت کی اصل انتخابی چھلانگ اس سے کئی سال پہلے، 1930 میں سامنے آچکی تھی، روخ کی تحقیق کے مطابق 1930 میں نازیوں کی غیرمعمولی انتخابی کامیابی کو صرف معاشی بحران یا ہٹلر کی شخصیت سے سمجھنا درست نہیں،اس وقت جرمنی میں سیاسی جماعتوں کے درمیان شدید تقسیم تھی، حکومتیں پارلیمانی اکثریت کے بغیر چل رہی تھیں اور عام شہری جمہوری نظام کی فیصلہ سازی سے مایوس ہوتے جا رہے تھے،نازی پارٹی نے اسی بے اعتمادی کو ’’بدعنوان اور ناکام سیاسی نظام‘‘ کے خلاف احتجاج میں تبدیل کیا،تاہم روخ کے مطابق اس سے بھی زیادہ اہم عنصر نازیوں کی کھلی سیاسی تشدد پسندی تھی،نازی قیادت سیاسی مخالفین کے خلاف قتل اور انتقامی کارروائیوں کی بات کرتی تھی اور 1930 کی انتخابی مہم میں بھی اس نے معاشی یا فلاحی پروگرام کے بجائے طاقت، دشمنوں کے خاتمے اور سیاسی تشدد کو نمایاں رکھا،روخ کا نتیجہ یہ ہے کہ جس چیز کو آج ہم نازی ازم کی سب سے خوفناک خصوصیت سمجھتے ہیں، وہ اس وقت بعض ووٹروں کے لیے باعثِ نفرت نہیں بلکہ طاقت، نظم اور انتقام کی علامت بن گئی تھی، روخ کے مطابق اگر نازی عروج کو سمجھنا ہے تو سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہٹلر نے اقتدار ملنے کے بعد جرمنی کے ساتھ کیا کیا، بلکہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ایک جمہوری معاشرے کے اندر اتنے کم عرصے میں اتنی کمزور سیاسی جماعت لاکھوں ووٹ حاصل کرنے کے قابل کیسے ہوئی

قومی خبریں سے مزید