پاکستان کی بنیاد مذہب سے آگے عوام کی مرضی اور وفاقی معاہدہ بھی تھی، انتظامی یونٹ یا نئے صوبے بڑی تشویش کا باعث بن رہے ؟
ڈان میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق پاکستان کے قیام کی بنیاد کو صرف مذہب کے تناظر میں دیکھنا اس کی تشکیل کے ایک اہم پہلو کو نظرانداز کرنا ہے،مضمون نگار باسل نبی ملک کے مطابق مذہب پاکستان کے مطالبے میں اہم عنصر ضرور تھا، تاہم بنیادی مقصد ان لوگوں کے لیے آزادی اور اپنی اجتماعی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل کرنا بھی تھا جنہوں نے پاکستان کے قیام کی جدوجہد اور سیاسی عمل میں حصہ لیا
مضمون کے مطابق پاکستان کسی ایک یکساں معاشرے کے طور پر وجود میں نہیں آیا بلکہ مختلف قومیتوں، ثقافتوں، زبانوں اور تاریخی پس منظر رکھنے والی اکائیوں کے اتحاد کے نتیجے میں تشکیل پایا،اس لیے وفاق کا بنیادی تصور یہ تھا کہ مختلف خطے اپنے مخصوص حقوق اور شناخت برقرار رکھتے ہوئے مشترکہ ریاست کا حصہ بنیں اور کچھ اختیارات مرکز کو منتقل کریں
ڈان کے مضمون میں لاہور قرارداد 1940 اور 1973 کے آئین کو اسی وسیع تر سیاسی معاہدے کی دو اہم علامتوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے،مضمون نگار کے مطابق پاکستان کا بنیادی تصور تکثیریت، علاقائی حقوق اور عوامی رضامندی سے جڑا ہوا تھا، جس میں ریاستی فیصلوں کی بنیاد عوام کی خواہشات پر ہونی چاہیے
اسی تناظر میں مضمون میں نئے صوبوں کے قیام، بلدیاتی نظام کی مضبوطی، صوبائی اختیارات اور لاپتا افراد جیسے معاملات کو بھی عوام کی مرضی سے جوڑا گیا ہے،مرکزی نکتہ یہ ہے کہ اگر اہم ریاستی فیصلوں سے عوام کو الگ کردیا جائے تو یہ صرف انتظامی یا سیاسی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پاکستان کے بنیادی تصور سے بھی دوری پیدا ہوتی ہے
مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان کی تشکیل کا مرکز ریاست نہیں بلکہ عوام تھے، اور وفاق کی پائیداری کا تعلق اسی اصول سے ہے کہ مختلف شناخت رکھنے والی اکائیاں اپنی رضامندی سے ایک مشترکہ سیاسی نظام کا حصہ بنیں اور ان کے حقوق، ثقافت، زبان اور سیاسی آواز محفوظ رہیں





