Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

شہباز شریف کی رخصتی کا فیصلہ: صحت کا معاملہ سامنے، قومی حکومت اور عمران خان سے ممکنہ ڈیل سے آن بورڈ تک کی کہانی پیچیدہ ہے ، جو ہوگا لانگ مارچ سے پہلے ہوگا؟

شہباز شریف کی رخصتی کا فیصلہ: صحت کا معاملہ سامنے، قومی حکومت اور عمران خان سے ممکنہ ڈیل سے آن بورڈ تک کی کہانی پیچیدہ ہے ، جو ہوگا لانگ مارچ سے پہلے ہوگا؟
رپورٹ: آفاق فاروقی
اسلام آباد : اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کے ایک ذریعے کا دعویٰ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ اصولی طور پر کر لیا گیا ہے اور اب سوال یہ نہیں رہا کہ تبدیلی ہوگی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس تبدیلی کی شکل کیا ہوگی، اس کا وقت کیا ہوگا اور اس کے بعد پاکستان کا سیاسی بندوبست کس بنیاد پر چلایا جائے گا،موجودہ منظرنامے میں سب سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ آیا مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت کی جگہ ایک وسیع البنیاد قومی حکومت لانے کی تیاری ہو رہی ہے اور کیا اس بندوبست کے لیے تحریک انصاف اور عمران خان کے ساتھ کسی سطح پر معاملات طے کیے جا رہے ہیں، یا معاملات طے ہوچکے ہیں ؟
ذرائع کے مطابق شہباز شریف کے حالیہ بیرون ملک سفر، پہلے لندن پھر امریکہ اور اس کے بعد دوبارہ لندن میں قیام، اس پورے عمل کا ایک اہم حصہ ہیں،لندن میں ان کے طبی معائنے کے بعد ڈاکٹروں کی جانب سے مبینہ طور پر انہیں یہ مشورہ دیا گیا کہ ان کی موجودہ صحت مسلسل غیر معمولی جسمانی اور ذہنی دباؤ، طویل سفر اور ضرورت سے زیادہ مصروفیات کی متحمل نہیں ہوسکتی،ان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ پہلے کے مقابلے میں جلد تھک جاتے ہیں اور ڈاکٹروں نے انہیں اپنی جسمانی سرگرمی اور مصروفیات محدود کرنے کا مشورہ دیا ہے،تاہم طبی وجوہات سے متعلق ان تفصیلات عوامی سسطح پر موجود نہیں
شہباز شریف کی صحت کا معاملہ ماضی میں بھی ان کی سیاسی زندگی کے ساتھ جڑا رہا ہے،خود شہباز شریف نے 2018 میں بیان کیا تھا کہ 2003 میں، سعودی عرب میں جلاوطنی کے دوران، انہیں ایک نایاب اور جارحانہ نوعیت کے سرطان کی تشخیص ہوئی تھی اور انہیں علاج کے لیے امریکہ منتقل کیا گیا تھا،ان کے مطابق آپریشن کے بعد ڈاکٹروں نے بتایا کہ بیماری لمف نوڈز تک نہیں پھیلی تھی اور مکمل صحت یابی ممکن تھی
اسلام آباد کی موجودہ اطلاعات میں یہ طبی پس منظر اب ایک مرتبہ پھر سیاسی تبدیلی کے جواز کے طور پر سامنے آ رہا ہے، لیکن اس کہانی کا زیادہ اہم حصہ صحت سے آگے شروع ہوتا ہے،اصل سوال یہ ہے کہ اگر شہباز شریف وزیراعظم نہیں رہتے تو ان کی جگہ کون آئے گا اور موجودہ پارلیمانی بندوبست کو برقرار رکھتے ہوئے یا اس کی تشکیل نو کرکے حکومت کیسے چلائی جائے گی
ایک امکان ایک ایسی قومی حکومت کا زیر بحث ہونا بتایا جا رہا ہے جس میں موجودہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ غیر جماعتی یا ٹیکنوکریٹ شخصیات کو بھی شامل کیا جائے،اس تصور کے حامی حلقوں کے مطابق ایسی حکومت کا بنیادی جواز فوری انتخابات نہیں بلکہ معیشت، قرضوں، آئی ایم ایف پروگرام، امن و امان اور ریاستی اداروں کے درمیان ایک نئے سیاسی سمجھوتے کے ذریعے نظام کو کچھ عرصے کے لیے مستحکم کرنا ہوسکتا ہے،تاہم اس مرحلے پر اس مجوزہ حکومت کی تشکیل، وزیراعظم کے نام یا اس کی آئینی مدت کے بارے میں کوئی حتمی معکومات سامنے نہیں
اس پوری بحث میں عمران خان سب سے بڑا سوال بن جاتے ہیں،جنہیں گرفتار رکھنے کے باوجود انکے سیاسی وجود کو ختم کرنے میں شہباز حکومت مکمل ناکام رہی ہے ، اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائی جاری ہے کہ اگر قومی حکومت کا منصوبہ واقعی زیر غور ہے تو تحریک انصاف کو اس میں کس شکل میں شامل کیا جائے گا اور عمران خان کے بارے میں کیا فیصلہ ہوگا، جنکی جماعت کے بار بار اور مسلسل احتجاج و لانگ مارچ کے ماحول نے زمین پر شہباز حکومت کو پورے عرصے میں سکون سے کام کرنے دیا نہ ہی ملک میں سیاسی استحکام کا ماحول پیدا کیا جاسکا ، ان اطلاعات میں یہ بات بھی زیر گردش ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کو موجودہ جیل انتظام سے مختلف نسبتاً زیادہ سہولت والی رہائش میں منتقل کرنے پر غور یا کوئی مفاہمت ہوئی ہے،تاہم اس مبینہ انتظام کی تفصیلات، قانونی حیثیت اور اس کے بدلے سیاسی شرائط واضح نہیں ہیں
اگر عمران خان کے ساتھ کوئی وسیع تر سیاسی سمجھوتا زیر غور ہے تو اس کا سب سے اہم سوال یہی ہوگا کہ اس کے بدلے تحریک انصاف سے کیا توقع کی جائے گی،کیا یہ صرف حکومت کے قیام میں تعاون ہوگا، کیا معاشی اصلاحات کے کسی پروگرام پر اتفاق ہوگا، کیا سیاسی اور آئینی اصلاحات شامل ہوں گی، یا پھر انتخابات کے لیے کوئی ٹائم فریم طے کیا جائے گا؟ اس وقت ان سوالات کا کوئی حتمی جواب موجود نہیں، اور خاص طور پر فوری انتخابات کے امکان کی کوئی واضح تصویر سامنے نہیں آتی
اس ممکنہ بندوبست میں فوج، خیبر پختونخوا اور افغانستان کا سوال بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا،تحریک انصاف کی حکومت والے خیبر پختونخوا میں امن و امان پہلے ہی قومی سیاست کے ساتھ جڑ چکا ہے، جبکہ افغانستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی اور دہشت گردی کا مسئلہ آنے والے کسی بھی سیاسی انتظام کے لیے بنیادی چیلنج ہوگا،اگر قومی حکومت واقعی وجود میں آتی ہے تو یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ ان معاملات پر پالیسی کس ادارہ جاتی فریم ورک کے تحت طے ہوتی ہے اور کیا نئی حکومت سیاسی جماعتوں کے درمیان کسی مشترکہ قومی پالیسی کی بنیاد رکھ سکتی ہے
اسی طرح خیبر پختونخوا میں گورنر راج سے ملکی سطح پر ایمرجنسی کے امکانات اور دیگر معاملات میں وفاقی سطح پر ہنگامی اقدامات کی باتیں بھی حالیہ دنوں میں سیاسی بحث کا حصہ رہی ہیں،تحریک انصاف نے اسلام آباد کی جانب اپنا احتجاجی مارچ 4 اکتوبر کے لیے مقرر کیا ہے، جسے پہلے کی تاریخ سے مؤخر کیا گیا تھا،اس لیے اب ایک اہم سیاسی سوال یہ بھی ہے کہ اگر حکومت میں تبدیلی کا فیصلہ واقعی ہوچکا ہے تو وہ 4 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے ہوگی، تاکہ تحریک انصاف کو کسی نئے سیاسی بندوبست کا راستہ دیا جا سکے، یا پھر احتجاج کے بعد کوئی بڑی تبدیلی سامنے آئے گی؟
شہباز شریف کی موجودہ وزارت عظمیٰ بھی اپنی نوعیت میں ایک غیر معمولی سیاسی سفر ہے،وہ پہلی مرتبہ اپریل 2022 میں وزیراعظم بنے، اگست 2023 میں اسمبلی کی مدت مکمل ہونے پر نگران حکومت آئی، اور مارچ 2024 میں وہ دوبارہ وزیراعظم منتخب ہوئے،کابینہ ڈویژن کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق ان کی موجودہ وزارت عظمیٰ 4 مارچ 2024 سے جاری ہے،اس اعتبار سے موجودہ دورِ حکومت کو ابھی تقریباً ڈھائی سال ہی ہوئے ہیں، جبکہ ان کا پہلا دور تقریباً سولہ ماہ جاری رہا
پاکستانی سیاسی تاریخ میں وزیراعظم کے لیے اپنی آئینی مدت مکمل کرنا پہلے ہی نایاب رہا ہے،لیکن شہباز شریف کے معاملے میں موجودہ سوال صرف ایک وزیراعظم کی تبدیلی کا نہیں،یہ اس بنیادی مسئلے سے جڑا ہوا ہے کہ کیا پاکستان ایک بار پھر ایسی سیاسی ترتیب کی طرف بڑھ رہا ہے جس میں انتخابات، پارلیمان، جماعتی سیاست اور ریاستی اداروں کے درمیان طاقت کا توازن نئے سرے سے طے کیا جائے گا
اس کہانی کو سمجھنے کے لیے 1971 کی تاریخ کا حوالہ بھی غیر معمولی معنویت رکھتا ہے،25 مارچ 1971 کی رات مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی شروع ہوئی جسے آپریشن سرچ لائٹ کہا گیا،ذوالفقار علی بھٹو اس وقت ڈھاکا میں موجود تھے،فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد وہ کراچی روانہ ہوئے اور وہاں صحافیوں کے سوال پر ان سے منسوب جملہ تھا: ’’پاکستان بچ گیا”تاریخی ریکارڈ میں یہ جملہ مختلف ذرائع سے نقل ہوا ہے، جبکہ امریکی کانگریسی ریکارڈ میں بھی بھٹو کے کراچی پہنچنے کے بعد ’’پاکستان بچ گیا‘‘ کہنے کا حوالہ موجود ہے
تقریباً 55 سال بعد پاکستان میں ’’ملک بچانے‘‘، معاشی بحران، سیاسی استحکام اور قومی حکومت کی زبان دوبارہ سنائی دے رہی ہے،فرق صرف یہ ہے کہ آج کا بحران مشرقی پاکستان کے بحران جیسا نہیں، بلکہ اس کے مرکز میں طویل معاشی کمزوری، قرضوں کا بوجھ، آئی ایم ایف پروگرام، دہشت گردی، صوبائی سیاسی کشمکش اور ریاستی و سیاسی اداروں کے درمیان اعتماد کا بحران ہے،موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد کو اپنی معاشی پالیسی کا مرکزی ستون قرار دے رکھا ہے، اور شہباز شریف نے ستمبر میں آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات میں اصلاحاتی پروگرام پر حکومت کے عزم کا اعادہ کیا تھا
یہی وہ مقام ہے جہاں موجودہ سیاسی تبدیلی کی اصل معنویت سامنے آتی ہے،اگر شہباز شریف واقعی رخصت ہوتے ہیں تو محض وزیراعظم کا نام تبدیل ہونے سے پاکستان کا بنیادی بحران ختم نہیں ہوگا،اصل امتحان یہ ہوگا کہ نئی حکومت کس سیاسی معاہدے پر قائم ہوتی ہے، اسے پارلیمان میں کتنی حمایت حاصل ہوتی ہے، عمران خان اور تحریک انصاف کے ساتھ اس کے تعلقات کی نوعیت کیا ہوتی ہے، معیشت کے لیے کون سا راستہ اختیار کیا جاتا ہے اور دہشت گردی و افغانستان کے معاملے پر ریاست کی پالیسی کیا بنتی ہے
اسلام آباد میں اس وقت سب سے زیادہ زیر بحث بات یہ نہیں کہ تبدیلی آئے گی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ تبدیلی کے بعد نظام کس شکل میں کھڑا کیا جائے گا،اگر قومی حکومت کا منصوبہ واقعی آگے بڑھ رہا ہے تو آنے والے دنوں میں وزیراعظم کے نام سے زیادہ اہم اس سیاسی معاہدے کی شرائط ہوں گی جس پر نئی حکومت کھڑی کی جائے گی،اور اگر عمران خان کے ساتھ کوئی مفاہمت اس بندوبست کا حصہ ہے تو اس مفاہمت کی اصل قیمت اور مدت کا تعین ہی پاکستان کی آئندہ سیاست کا سب سے بڑا سوال ہوگا

قومی خبریں سے مزید