Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

فلائی دبئی طیارہ واقعہ: ٹرمپ کا شریک پائلٹ کو ممکنہ دہشت گرد قرار دینے کا عندیہ، نیتن یاہو اور اماراتی قیادت میں رابطہ

فلائی دبئی طیارہ واقعہ: ٹرمپ کا شریک پائلٹ کو ممکنہ دہشت گرد قرار دینے کا عندیہ، نیتن یاہو اور اماراتی قیادت میں رابطہ

فلائی دبئی کی پرواز میں کاک پٹ کے اندر پائلٹ پر چاقو سے حملے اور طیارے کے خطرناک حد تک نیچے جانے کے واقعے کی تحقیقات میں نئی تفصیلات سامنے آنے کے بعد معاملہ اب محض فضائی حادثے کے بجائے بین الاقوامی سکیورٹی اور سفارتی سطح پر بھی زیر بحث ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو سے گفتگو کی اور کہا کہ حملہ کرنے والا شریک پائلٹ ممکنہ طور پر دہشت گرد تھا، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ واقعے کی مکمل نوعیت کے بارے میں ابھی تمام معلومات سامنے نہیں آئی ہیں،نیتن یاہو کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ امکان بھی زیر غور ہے کہ حملہ آور کا مقصد طیارے کو تباہ کرنا یا خودکشی کرنا تھا، جبکہ اس کے محرکات ابھی حتمی طور پر معلوم نہیں ہوئے
واقعے کے بعد نیتن یاہو نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے بھی ٹیلی فون پر بات کی، جبکہ اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے اپنے اماراتی ہم منصب شیخ عبداللہ بن زاید سے رابطہ کیا،دونوں جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ واقعے کے باوجود اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعاون اور رابطے برقرار رہیں گے
تحقیقات میں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز میں شریک پائلٹ نے کاک پٹ میں کپتان پر چاقو سے حملہ کیا، جس کے بعد بوئنگ 737 میکس اچانک شدید غوطہ کھانے لگا،مسافروں اور عملے کے افراد نے کاک پٹ میں پہنچ کر حملہ آور کو قابو کرنے میں مدد دی، جبکہ دوسرے پائلٹوں نے طیارے کا کنٹرول سنبھالا،پرواز کو سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر ہنگامی طور پر اتارا گیا
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق مسافروں نے طیارے کے اچانک کئی ہزار فٹ نیچے جانے کو انتہائی خوفناک تجربہ قرار دیا،ایک مسافر الموگ اٹالی نے بتایا کہ طیارہ پہلے شدید ہچکولے کھانے کے انداز میں نیچے گیا، پھر تقریباً 20 سے 30 سیکنڈ تک ایسی کیفیت پیدا ہوئی جیسے جہاز آزادانہ طور پر گر رہا ہو، اس کے بعد طیارہ سنبھلا لیکن دوبارہ نیچے جانے لگا
واقعے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ حملہ آور کا مقصد ابھی تک حتمی طور پر سامنے نہیں آیا،اسرائیلی حکام دہشت گردی کے امکان سمیت مختلف پہلوؤں کی تحقیقات کر رہے ہیں، تاہم ابھی تک کسی دہشت گرد تنظیم کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے یا کسی تنظیم سے حملہ آور کے تعلق کا قابل اعتماد ثبوت سامنے نہیں آیا
سعودی عرب نے طیارے کو ہنگامی لینڈنگ کی اجازت دی، زخمی پائلٹوں کو طبی امداد فراہم کی اور مشتبہ حملہ آور کو حراست میں لے لیا،اسرائیلی حکام کے مطابق سعودی حکام نے تبوک میں موجود اسرائیلی مسافروں کے ساتھ تعاون کیا، جس کے بعد انہیں متبادل پرواز کے ذریعے اسرائیل پہنچایا گیا
اس واقعے نے متحدہ عرب امارات سے اسرائیل جانے والی پروازوں کی سکیورٹی پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں، خصوصاً یہ کہ ایک شخص کاک پٹ تک چاقو لے کر کیسے پہنچا اور حملے سے قبل سکیورٹی یا عملے کی سطح پر کوئی غیر معمولی علامت کیوں سامنے نہیں آئی،ان سوالات کے جوابات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئیں گے
یوں فلائی دبئی پرواز کا واقعہ اب تین سطحوں پر تحقیقات کا موضوع بن گیا ہے: کاک پٹ میں حملے کا اصل محرک، ممکنہ دہشت گردی یا خودکشی کا پہلو، اور طیارے کی سکیورٹی میں پیدا ہونے والی وہ خامی جس نے حملہ آور کو کاک پٹ تک پہنچنے کا موقع دیا

قومی خبریں سے مزید