وہ دو بارزہریلا انجیکشن لگنے کے باوجود زندہ رہی،امریکی ریاست ٹینیسی میں سزائے موت کا غیر معمولی واقعہ، جو ماضی کے شیطانی خوف اسکینڈل سے جوڑا جارہا
امریکی ریاست ٹینیسی میں سزائے موت پر موجود کرسٹا گیل پائیک کو مہلک انجیکشن کے ذریعے موت دینے کی کوشش اس وقت غیر معمولی صورت اختیار کر گئی جب حکام کی جانب سے دو مرتبہ مہلک دوا دیے جانے کے باوجود وہ زندہ رہیں،ان کے وکلا کے مطابق انجیکشن دیے جانے کے کافی دیر بعد بھی پائیک ہوش میں تھیں، ان کی دل کی دھڑکن جاری تھی اور وہ خراٹے لے رہی تھیں،بعد ازاں انہیں جیل سے ایمبولینس کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ان کی موجودہ طبی حالت فوری طور پر واضح نہیں کی گئی
50 سالہ کرسٹا پائیک کو 30 ستمبر کی شام نیش وِل کی ریور بینڈ میکسمم سکیورٹی انسٹی ٹیوشن میں سزائے موت دی جانی تھی،یہ پھانسی ٹینیسی میں دو صدیوں سے زیادہ عرصے بعد کسی خاتون کو سزائے موت دینے کا پہلا واقعہ ہوتی،پائیک 1995 میں اپنے ساتھی طالب علمہ 19 سالہ کولین سلیمر کے قتل کے جرم میں موت کی سزا پا چکی تھیں،اس وقت پائیک کی عمر صرف 18 سال تھی
سزائے موت پر عمل درآمد سے چند گھنٹے قبل معاملہ تقریباً رک ہی گیا تھا،امریکی عدالتِ اپیل برائے چھٹی سرکٹ نے مقررہ وقت سے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے دو کے مقابلے میں ایک جج کی اکثریت سے مختصر حکم امتناع جاری کیا،عدالت کا کہنا تھا کہ وہ پائیک کے اس مؤقف کا جائزہ لینا چاہتی ہے کہ بچپن میں ان کے ساتھ ہونے والی شدید جنسی زیادتی اور دیگر صدمات کو سزا سناتے وقت مناسب طور پر مدنظر نہیں رکھا گیا
لیکن ٹینیسی حکام نے فوری طور پر امریکی سپریم کورٹ سے اپیل کی،سپریم کورٹ نے 6 کے مقابلے میں 3 ووٹ سے نچلی عدالت کا حکم ختم کر دیا اور ریاست کو سزائے موت پر عمل درآمد کی اجازت دے دی،جسٹس بریٹ کیوانا نے عدالت کا حکم جاری کیا، جس کے بعد ریاست نے سزائے موت کی کارروائی آگے بڑھائی
اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ امریکی سزائے موت کی تاریخ میں انتہائی غیر معمولی واقعات میں شمار کیا جا رہا ہے،پائیک کے وکلا کی جانب سے وفاقی عدالت میں دائر ہنگامی درخواست کے مطابق رات تقریباً 8 بج کر 26 منٹ پر عمل درآمد کرنے والے اہلکاروں نے مہلک انجیکشن کی دونوں سرنجوں کی دوا دے دی تھی، مگر پائیک اس کے باوجود زندہ تھیں،وکلا نے عدالت کو بتایا کہ وہ بے ہوش نہیں ہوئی تھیں، دل کی دھڑکن برقرار تھی اور وہ خراٹے لے رہی تھیں
عمل درآمد دیکھنے کے لیے موجود صحافیوں نے بھی ایک غیر معمولی منظر بیان کیا،ان کے مطابق سزائے موت کے چیمبر اور میڈیا کے مشاہداتی حصے کے درمیان پردہ کئی مرتبہ گرایا گیا،ایک موقع پر پردہ دوبارہ اٹھایا گیا تو پائیک کے خراٹے سنائی دے رہے تھے،بعض گواہوں نے بتایا کہ کارروائی معمول سے غیر معمولی طور پر طویل ہو گئی تھی اور پائیک کے جسم میں حرکت بھی دیکھی گئی، جبکہ وہ درد کی شکایت کرتی دکھائی دیں
پائیک کے وکلا نے الزام عائد کیا کہ مہلک انجیکشن کے دوران رگوں تک رسائی میں دشواری، رگوں کے پھٹنے اور ممکنہ طور پر خراب یا کم مؤثر دوا سمیت متعدد مسائل پیدا ہوئے،ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے موت کے چیمبر میں فوری طبی سہولت موجود نہیں تھی،یہ الزامات ابھی وکلا کے دعوے ہیں اور ریاستی حکام کی مکمل تحقیقات یا حتمی رپورٹ سامنے آنا باقی ہے
پائیک کے وکلا نے عدالت سے سزائے موت روکنے اور انہیں فوری طبی امداد فراہم کرنے کی درخواست کی،ان کی جانب سے بعد میں بتایا گیا کہ پائیک کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم اس وقت تک انہیں اپنی موکلہ کی مکمل طبی حالت سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا
کرسٹا پائیک کا مقدمہ تقریباً تین دہائیوں سے امریکی عدالتوں میں زیر بحث رہا ہے۔ جنوری 1995 میں وہ ٹینیسی کے ناکس وِل میں واقع جاب کورپس مرکز میں 19 سالہ کولین سلیمر کے ساتھ پڑھتی تھیں،استغاثہ کے مطابق پائیک کو شبہ تھا کہ سلیمر ان کے بوائے فرینڈ ٹیڈیرل شپ سے تعلق قائم کرنا چاہتی ہیں،پائیک، شپ اور ایک اور نوجوان نے سلیمر کو ایک سنسان علاقے میں لے جا کر تشدد کا نشانہ بنایا اور قتل کر دیا،پائیک اور شپ بعد میں قتل کے مقدمے میں سزا یافتہ ہوئے، تاہم پائیک کو موت کی سزا سنائی گئی جبکہ شپ کو عمر قید دی گئی، کیونکہ جرم کے وقت اس کی عمر 17 سال تھی
اس قتل کی سفاکیت نے 1990 کی دہائی میں خاصی توجہ حاصل کی تھی،استغاثہ کے مطابق سلیمر کے جسم پر تشدد کے دوران ایک پانچ کونوں والی علامت بھی بنائی گئی تھی، جس کے باعث یہ مقدمہ اس دور کی امریکہ میں پھیلنے والی نام نہاد “شیطانی خوف” کی فضا سے بھی جوڑا گیا،پائیک نے اپنے جرم سے انکار نہیں کیا، تاہم ان کے وکلا نے برسوں سے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ جرم کے وقت ان کی عمر صرف 18 سال تھی اور ان کا بچپن شدید جنسی زیادتی، تشدد اور نظرانداز کیے جانے سے گزرا تھا
پائیک کے وکلا نے حالیہ قانونی کارروائی میں خاص طور پر اس نکتے کو اٹھایا کہ ان کے بچپن میں ہونے والی جنسی زیادتی کے شواہد کو سزا کے مرحلے میں مناسب طور پر پیش نہیں کیا گیا،ان کے مطابق ٹینیسی ریاست کے حالیہ مؤقف میں تبدیلی نے اس پرانے عدالتی ریکارڈ کی بنیاد پر بھی سوالات پیدا کیے ہیں جس میں ان کے ماضی سے متعلق بعض دعووں کو مسترد کیا گیا تھا،ریاست نے اس دلیل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پائیک دراصل پہلے ہی طے کیے جا چکے مقدمے کو نئے انداز میں دوبارہ کھولنے کی کوشش کر رہی ہیں
ٹینیسی کے گورنر بل لی نے بھی پائیک کی رحم کی درخواست مسترد کر دی تھی،پائیک نے اپنی رحم کی درخواست میں اپنے ماضی کے صدمات اور جرم پر پچھتاوے کا ذکر کیا تھا،ان کے وکلا نے یہ بھی دلیل دی کہ موجودہ سائنسی علم کے مطابق 18 سال کی عمر میں انسانی دماغ کی نشوونما اور فیصلہ سازی کے حوالے سے جو معلومات دستیاب ہیں، انہیں سزا کے معاملے میں اہمیت دینی چاہیے
یہ مقدمہ اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ پائیک ٹینیسی کی جدید دور کی سزائے موت کی تاریخ میں ایسی واحد شخصیت تھیں جنہیں اس جرم کے لیے موت کی سزا دی گئی جو انہوں نے 18 سال کی عمر میں کیا تھا۔ ان کے شریک ملزم شپ کی عمر جرم کے وقت 17 سال تھی اور اسے عمر قید ملی،امریکی سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کے تحت کم عمر مجرموں کے لیے سزائے موت کے قوانین میں بعد میں بنیادی تبدیلیاں آ چکی ہیں، لیکن پائیک کا جرم اس قانونی حد سے صرف ایک سال اوپر تھا
پائیک کی ناکام سزائے موت نے اب ایک نیا قانونی سوال بھی کھڑا کر دیا ہے: جب ریاست کسی قیدی کو مہلک انجیکشن دے کر موت کی سزا پر عمل درآمد شروع کر دے لیکن قیدی زندہ بچ جائے تو کیا ریاست اسی موت کے وارنٹ کے تحت دوبارہ کوشش کر سکتی ہے، اور اگر کر سکتی ہے تو کن طبی اور آئینی شرائط کے ساتھ؟ اس سوال کا جواب اب وفاقی عدالتوں میں ہونے والی آئندہ کارروائی سے سامنے آ سکتا ہے
یوں کرسٹا پائیک کا معاملہ صرف ایک پرانے قتل اور سزائے موت کے مقدمے تک محدود نہیں رہا،سپریم کورٹ سے آخری لمحے میں پھانسی کی اجازت ملنے کے بعد دو مرتبہ مہلک انجیکشن دیے جانے کے باوجود ان کا زندہ بچ جانا ٹینیسی کے سزائے موت کے طریقہ کار، طبی نگرانی، مہلک ادویات اور آئینی تحفظات سے متعلق ایک نئی قانونی جنگ کا آغاز بن گیا ہے





