Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

فوج کا اعلیٰ سطحی پروموشن بورڈ 5 اکتوبر کو ہونے کا امکان ۔ سینئر جنرلز کی ترقیاں اور تبادلے کس کی مرضی سے ہوں گے ؟

فوج کا اعلیٰ سطحی پرموشن بورڈ 5 اکتوبر کو ہو گا جسکی سربراہی پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کریں گے۔ آئینی ترامیم کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر کے پاس تینوں فورسز آرمی، ائیر فورس اور نیوی کے افسران کی پرموشن ،پوسٹنگ اور ریٹائرمنٹ کے مکمل اختیارات ہیں اور قومی اسمبلی سے حال ہی میں پاس ہونے والی دو ترامیم کے بعد انکو مسلح افواج پر مزید وسیع انتظامی اور آپریشنل اختیارات حاصل ہو گئے ہیں ، جن میں تینوں سروسز کے افسران کو فارغ کرنے، انکی مدت ملازمت یا ریٹائرمنٹ کی عمر میں توسیع دینے کے اختیارات بھی شامل ہیں۔ اسلام آباد کے سفارتی اور سیاسی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ آیا فیلڈ مارشل اپنی چوائس کے مطابق چار ستارہ وائس چیف اور تین ستارہ لیفٹیننٹ جنرلز کی ترقیاں اور تعنتیاں کر سکیں گے یا پھر پروموشن بورڈ میں بیٹھے سینئر جنرلز بھی اپنی رائے کا اظہار کر سکیں گے۔ ان حلقوں کے مطابق کور کمانڈرز سمیت بعض سینئر جنرلز چیف آف ڈیفنس فورسز کو تمام تر اختیارات دئیے جانے سے خوش نہیں ہیں، ائیر فورس اور نیوی کے اعلیٰ افسران میں بھی آرمی کے چیف کو انکی سروسز کے اختیارات دینے پر گفتگو ہو رہی ہے۔ وائس چیف اور آئی ایس آئی چیف کی تقرری اس صورتحال میں اہم ترین ہے ، جنکے لیے موجودہ سینئر لیفٹیننٹ جنرلز کے ناموں پر غور ہو گا۔ ریٹائر ہونے والوں میں سے چند لیفٹیننٹ جنرلز کو بھی اگلے منصب پر ترقی یا توسیع دیئے جانے کا امکان ہے۔ باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اندرونی یا بیرونی دباؤ کیوجہ سے شاید آئندہ چند دنوں میں ہونے والی اعلیٰ عسکری تبدیلیوں میں پوری طرح اپنے اختیارات استعمال نہ کر سکیں۔ اِسی تناظر میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اہم ترین عہدوں پر فائز چند معتمد میجر جنرلز کے اچانک تبادلے بھی اعلیٰ حلقوں میں موضوع بحث بنے ہوئے ہیں ۔ جبکہ فیلڈ مارشل کے قریبی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ نہ صرف مسلح افواج پر انکا پورا کنٹرول ہے بلکہ ملکی معاملات بھی انکی مکمل گرفت میں ہیں، اور آنے والے دنوں میں عوام ملکی سیاسی صورتحال میں بڑی تبدیلی دیکھیں گے ۔

قومی خبریں سے مزید