کراچی میں ڈکیتی کے دوران قتل نوجوان کی 19 دن بعد تدفین، 2 مشتبہ ملزمان گرفتار
کراچی کے علاقے منگھوپیر میں گھر میں ڈکیتی کے دوران قتل ہونے والے 17 سالہ روشام حسین کو 19 دن بعد سپرد خاک کردیا گیا مقتول کے اہلخانہ نے ملزمان کی گرفتاری تک تدفین سے انکار کرتے ہوئے منگھوپیر تھانے کے باہر احتجاجی دھرنا دے رکھا تھا، جو پولیس کی جانب سے 2 مشتبہ ملزمان کی گرفتاری کے بعد ختم کردیا گیا
روشام حسین کی نماز جنازہ منگھوپیر میں اٹک پٹرول پمپ کے قریب گراؤنڈ میں ادا کی گئی، جس میں مقتول کے اہلخانہ، رشتہ داروں، علاقے کے لوگوں اور سماجی کارکنوں سمیت بڑی تعداد میں افراد نے شرکت کی بعد ازاں نوجوان کو مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا
واقعہ 8 ستمبر کو پیش آیا تھا جب 6 ڈاکو منگھوپیر میں روشام کے والد روحداد حسین کے گھر میں داخل ہوئے۔ پولیس کے مطابق ان میں سے 2 افراد نے مبینہ طور پر پولیس کی وردیاں پہن رکھی تھیں گھر میں موجود افراد کو واردات کا علم ہوا تو روشام بھی اپنے کمرے سے باہر آیا، جس پر اسے گولی مار دی گئی وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا
واقعے کے بعد روشام کے اہلخانہ نے اس وقت تک میت دفنانے سے انکار کردیا تھا جب تک قتل میں ملوث افراد کو گرفتار نہ کرلیا جائے اہلخانہ اور علاقے کے رہائشیوں نے منگھوپیر تھانے کے باہر دھرنا دے کر مطالبہ کیا کہ نوجوان کے قتل میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے
پولیس نے ہفتے کے روز 2 مشتبہ افراد دلاور عرف طارق اور محمد رضوان عرف آصف کو گھر میں ڈکیتی میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا بعد میں روشام کے اہلخانہ نے دونوں مشتبہ افراد کی شناخت بھی کی، جس کے بعد 19 روز سے جاری دھرنا ختم کردیا گیا
یہ واقعہ کراچی میں اسٹریٹ کرائم اور گھروں میں ڈکیتی کے دوران شہریوں کی جانوں کو لاحق خطرات کے حوالے سے بھی تشویش کو نمایاں کرتا ہے تاہم گرفتار افراد کے خلاف الزامات ابھی تفتیش کے مرحلے میں ہیں اور ان کا جرم عدالت میں ثابت ہونا باقی ہے






