ٹرمپ نے بائیڈن دور کے گاڑیوں کے ایندھن بچت معیار واپس لے لیے، امریکی صارفین کے پٹرول خرچ اور توانائی سلامتی پر نئے سوالات
واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بائیڈن انتظامیہ کے دور میں مقرر کیے گئے گاڑیوں کے ایندھن کی بچت سے متعلق سخت معیارات واپس لینے کا اعلان کردیا ہے،اس پالیسی تبدیلی کے نتیجے میں نئی گاڑیوں کے لیے کم ایندھن میں زیادہ فاصلہ طے کرنے کی حکومتی ضروریات میں نمایاں نرمی آئے گی
امریکی حکومت نے 1970 کی دہائی میں پہلی مرتبہ گاڑیوں کی ایندھن بچت کو باقاعدہ ضابطے میں لایا تھا،اس وقت بھی امریکا کو بلند پٹرول قیمتوں، عالمی تیل کی فراہمی میں رکاوٹوں اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازعات کا سامنا تھا،پالیسی کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ عالمی تیل منڈی میں اچانک بحران آنے کی صورت میں امریکی صارفین پر پٹرول کی قیمتوں کا اثر کم کیا جاسکے
بائیڈن انتظامیہ نے بعد میں گاڑیوں کی ایندھن بچت کے معیار مزید سخت کیے، جن کا مقصد پٹرول کی کھپت اور گاڑیوں سے خارج ہونے والی آلودگی کو کم کرنا تھا،ٹرمپ انتظامیہ کی نئی پالیسی ان تقاضوں میں نرمی کی جانب واپسی ہے
تاہم امریکی حکومت کے اپنے تجزیے میں اس مجوزہ تبدیلی کے ایک ممکنہ نقصان کی نشاندہی بھی کی گئی ہے،تجزیے کے مطابق ایندھن بچت کے معیار میں نرمی امریکا کو عالمی تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے یا تیل کی فراہمی میں رکاوٹ جیسے بحرانوں سے نمٹنے میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ کمزور بنا سکتی ہے، کیونکہ کم ایندھن بچانے والی گاڑیوں کی صورت میں مجموعی پٹرول طلب بڑھ سکتی ہے
اس پالیسی کا امریکی صارفین پر اثر فوری طور پر ایک ہی سمت میں نہیں ہوگا،گاڑی ساز کمپنیوں کے لیے کم سخت معیار پوری کرنے سے بعض گاڑیوں کی تیاری نسبتاً آسان یا کم مہنگی ہوسکتی ہے، لیکن صارفین جو زیادہ ایندھن استعمال کرنے والی گاڑی خریدیں گے، انہیں گاڑی کی پوری عمر کے دوران پٹرول پر زیادہ رقم خرچ کرنا پڑ سکتی ہے
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی توانائی منڈی ایک مرتبہ پھر جغرافیائی اور سیاسی کشیدگی سے متاثر ہے،1970 کی دہائی کی طرح موجودہ حالات میں بھی واشنگٹن کے سامنے بنیادی سوال یہی ہے کہ امریکی صارفین کو نسبتاً کم قیمت اور زیادہ انتخاب دیا جائے یا گاڑیوں کی ایندھن بچت کے سخت تقاضوں کے ذریعے پٹرول کی مجموعی طلب اور بیرونی تیل کے جھٹکوں کے اثرات کو محدود رکھا جائے
ٹرمپ انتظامیہ اس تبدیلی کو گاڑیوں کی قیمت، صارفین کے انتخاب اور صنعت پر ضابطوں کا بوجھ کم کرنے کے تناظر میں پیش کر رہی ہے، جبکہ اس کے ناقدین کا مؤقف ہے کہ زیادہ ایندھن استعمال کرنے والی گاڑیوں کی حوصلہ افزائی طویل مدت میں پٹرول کے اخراجات اور امریکا کی تیل کی طلب بڑھا سکتی ہے






