Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی میں طبقاتی کشمکش، برطانوی طلبہ کا امریکی امیر طلبہ پر اشرافیائی ماحول کو فروغ دینے کا الزام

سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی میں طبقاتی کشمکش، برطانوی طلبہ کا امریکی امیر طلبہ پر اشرافیائی ماحول کو فروغ دینے کا الزام

اسکاٹ لینڈ کی معروف سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی میں طبقاتی تفریق اور سماجی حیثیت کے حوالے سے بحث شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض کم آمدنی والے پس منظر سے تعلق رکھنے والے طلبہ کا کہنا ہے کہ انہیں یونیورسٹی کے ماحول میں اپنے خاندانی اور معاشی پس منظر پر احساسِ کمتری کا سامنا کرنا پڑتا ہے
کمپریٹو لٹریچر اور کلاسیکل اسٹڈیز کی سابق طالبہ سوفی روز جینکنز نے لنکڈ اِن پر ایک تفصیلی تحریر میں بتایا کہ کیمپس میں طبقاتی رویوں کے تجربے کے باعث انہوں نے رواں تعلیمی سال یونیورسٹی واپس نہ جانے کا فیصلہ کیا،ان کی تحریر کے بعد دو ہفتوں کے دوران سیکڑوں افراد نے اپنے تجربات اور ردعمل کا اظہار کیا
جینکنز کے مطابق کام کرنے والے اور کم آمدنی والے خاندانوں سے آنے والے طلبہ کو بعض اوقات اپنی گھریلو زندگی اور سماجی پس منظر پر شرمندگی محسوس کرائی جاتی ہے،ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ تعلیم تک رسائی حاصل کرنا ایک موقع ضرور ہے، لیکن کسی طالب علم کے لیے بغیر رکاوٹ ڈگری مکمل کرنے کے لیے درکار مالی اور سماجی سہولت بھی ایک پوشیدہ امتیاز بن سکتی ہے
اس بحث میں بعض طلبہ اور مبصرین نے یونیورسٹی کے ماحول کو طنزیہ طور پر “اسکاٹش اپر ایسٹ سائیڈ” سے تشبیہ دی ہے،ان کا کہنا ہے کہ امریکا سے آنے والے نسبتاً خوشحال طلبہ کی بڑی تعداد، مہنگی رہائش، سماجی سرگرمیوں اور مختلف طرز زندگی نے یونیورسٹی میں پہلے سے موجود طبقاتی فاصلے کو نمایاں کردیا ہے
تاہم تمام امریکی طلبہ کو اس مسئلے کا ذمہ دار قرار دینے پر بھی اختلاف پایا جاتا ہے،بحث کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ طبقاتی کشمکش صرف قومی شناخت کا مسئلہ نہیں بلکہ یونیورسٹی کے اندر مختلف معاشی اور سماجی پس منظر رکھنے والے طلبہ کے درمیان موجود وسیع تر فرق سے بھی جڑی ہوئی ہے
سینٹ اینڈریوز برطانیہ کی قدیم اور معروف جامعات میں شمار ہوتی ہے اور اس کی عالمی شہرت کے باعث امریکا سمیت مختلف ممالک سے بڑی تعداد میں طلبہ یہاں تعلیم حاصل کرتے ہیں،اسی بین الاقوامی ماحول نے یونیورسٹی کو متنوع ضرور بنایا ہے، لیکن اس کے ساتھ رہائش، اخراجات، سماجی سرگرمیوں اور طلبہ کے طرز زندگی میں نمایاں معاشی فرق بھی بحث کا موضوع بن گیا ہے
جینکنز کی تحریر اس سوال کو دوبارہ سامنے لای ہے کہ معروف جامعات میں داخلہ حاصل کرنے کے بعد بھی کیا کم آمدنی والے خاندانوں سے آنے والے طلبہ کو دراصل ایک ایسے سماجی ماحول کا سامنا کرنا پڑتا ہے جہاں ڈگری حاصل کرنے کے لیے صرف تعلیمی صلاحیت کافی نہیں رہتی، بلکہ مالی وسائل اور سماجی روابط بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں

قومی خبریں سے مزید