Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ایتھوپیا میں دوبارہ کھلی جنگ، ٹیگرائی باغیوں اور فوج میں شدید لڑائی

ایتھوپیا میں دوبارہ کھلی جنگ، ٹیگرائی باغیوں اور فوج میں شدید لڑائی

ایتھوپیا میں 2 سالہ خانہ جنگی کے خاتمے کے تقریباً 4 سال بعد ملک ایک بار پھر بڑے مسلح تصادم کی طرف بڑھ گیا ہے شمالی علاقے ٹیگرائی میں ٹیگرائی پیپلز لبریشن فرنٹ اور وفاقی حکومت کی افواج کے درمیان شدید لڑائی شروع ہو گئی ہے جبکہ جھڑپیں پڑوسی علاقوں افار اور امہارا تک بھی پھیل گئی ہیں ٹیگرائی پیپلز لبریشن فرنٹ کے نائب صدر امانوئل اسفا نے کہا ہے کہ صورتحال اب ’’مکمل جنگ‘‘ میں تبدیل ہو چکی ہے
حالیہ دنوں میں لڑائی کے دوران بھاری توپ خانے، ڈرون حملوں اور زمینی افواج کا استعمال رپورٹ ہوا ہے ٹیگرائی فورسز نے بدھ کو خطے کے 3 اہم ہوائی اڈوں پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا، جس کے بعد ایتھوپین ایئرلائنز نے ٹیگرائی کے میکیل، شائر اور اکسوم کے لیے پروازیں معطل کر دیں افار اور امہارا میں بھی لڑائی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں اور بعض علاقوں میں باغی فورسز کی پیش قدمی کی اطلاعات ہیں
دونوں فریق ایک دوسرے کو تازہ جنگ شروع کرنے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں ٹیگرائی قیادت کا کہنا ہے کہ وفاقی فوج نے پہلے حملے شروع کیے، جن میں ڈرون، طیاروں اور توپ خانے کا استعمال کیا گیا، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ ٹیگرائی فورسز نے حملے کیے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق ممکن نہیں ہوئی ایتھوپیا کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شمالی وولو کے مختلف علاقوں میں حملہ کرنے والے 272 ٹیگرائی جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے
موجودہ صورتحال اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ 2020 سے 2022 تک جاری رہنے والی ٹیگرائی جنگ میں تقریباً 600,000 افراد ہلاک ہوئے تھے نومبر 2022 میں پریٹوریا معاہدے کے ذریعے جنگ بندی ہوئی تھی، لیکن گزشتہ کئی ماہ سے ٹیگرائی اور وفاقی حکومت کے درمیان دوبارہ کشیدگی اور جھڑپیں بڑھ رہی تھیں اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق پچھلی جنگ کے باعث ٹیگرائی میں تقریباً 750,000 افراد اب بھی اپنے گھروں سے بے گھر ہیں
موجودہ بحران میں ایک بڑی تبدیلی یہ ہے کہ ٹیگرائی پیپلز لبریشن فرنٹ نے ایتھوپیا کے مختلف علاقوں میں سرگرم 6 دیگر مسلح گروہوں کے ساتھ مل کر ایک نیا اتحاد بھی قائم کیا ہے اس اتحاد کا نام ایتھوپین پیپلز فورسز الائنس فار سروائیول رکھا گیا ہے اور اس کا اعلان کردہ مقصد وزیراعظم ابی احمد کی حکومت کو ہٹانا ہے اس اتحاد میں امہارا کے فانو گروپ اور اورومیا سمیت مختلف علاقوں کے مسلح گروہ شامل ہیں
یہ اتحاد اس لیے غیر معمولی ہے کہ اس میں ایسے گروہ بھی شامل ہیں جو ماضی میں ایک دوسرے کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔ 2020 سے 2022 کی جنگ میں فانو اور اریٹیریا کی افواج نے وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر ٹیگرائی کے خلاف جنگ لڑی تھی، لیکن بعد میں ان کے حکومت سے تعلقات خراب ہو گئے اب یہی بدلتے ہوئے اتحاد وزیراعظم ابی احمد کی حکومت کے لیے ایک نیا سکیورٹی چیلنج بن گئے ہیں
حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ اس نئے اتحاد کو اریٹیریا سے مالی مدد مل رہی ہے، تاہم اریٹیریا نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ ٹیگرائی قیادت نے بھی غیر ملکی فوجی یا رسدی مدد حاصل کرنے کی تردید کی ہے اس صورتحال نے خدشات پیدا کر دیے ہیں کہ ایتھوپیا کی داخلی لڑائی دوبارہ علاقائی تنازع میں تبدیل ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پڑوسی سوڈان پہلے ہی ایک بڑی جنگ سے گزر رہا ہے اور بحیرہ احمر کے خطے میں بھی کشیدگی موجود ہے
افریقی یونین اور مشرقی افریقی تنظیم آئی جی اے ڈی نے فوری طور پر لڑائی روکنے اور فریقین کے درمیان براہ راست مذاکرات بحال کرنے پر زور دیا ہے یورپی یونین نے بھی کشیدگی کم کرنے اور 2022 کے پریٹوریا معاہدے پر دوبارہ عمل کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاہم زمینی صورتحال تیزی سے خراب ہونے کے باعث ایک اور طویل جنگ اور بڑے پیمانے پر انسانی بحران کا خطرہ موجود ہے
کینیڈا نے بھی 24 ستمبر کو ایتھوپیا کے لیے اپنے سفری انتباہ میں تبدیلی کرتے ہوئے ملک میں بدامنی، تشدد، مسلح تنازع اور دیگر سکیورٹی خطرات کے باعث غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ افار کے لیے تمام سفری دوروں سے اجتناب کا مشورہ دیا ہے

قومی خبریں سے مزید