کاروبار کو امریکا کے ساتھ پرانے معمول کی واپسی کا انتظار نہیں کرنا چاہیے، سابق سفیر
کینیڈا کی سابق امریکی سفیر کرسٹن ہل مین نے کاروباری اداروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی تعلقات کے دوبارہ پرانے معمول پر آنے کی توقع پر اپنی کاروباری حکمت عملی نہ بنائیں بلکہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں مستقل تبدیلی کے لیے خود کو تیار کریں
ہل مین نے 24 ستمبر کو البرٹا کے شہر بینف میں ہونے والے عالمی کاروباری فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں حیرت ہوئی ہے کہ اب بھی بہت سے کاروباری رہنما یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ کشیدگی اور تجارتی غیر یقینی صورتحال بالآخر ختم ہو جائے گی اور کینیڈا امریکا کے ساتھ پہلے جیسے تعلقات کی طرف واپس چلا جائے گا
ان کے مطابق کینیڈا کئی دہائیوں سے امریکا کے ساتھ گہری معاشی وابستگی کو اپنی طاقت سمجھتا رہا ہے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت، سپلائی چینز اور کاروباری روابط اس قدر مضبوط رہے ہیں کہ کینیڈین کمپنیوں کے لیے امریکی منڈی کو ایک مستقل اور قابل اعتماد شراکت دار سمجھنا معمول بن گیا تھا
تاہم ہل مین کا کہنا ہے کہ امریکا کی موجودہ سیاسی اور معاشی ترجیحات میں تبدیلی نے اس تصور کو چیلنج کر دیا ہے ان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کینیڈا کے ساتھ اس گہری معاشی وابستگی کو اسی انداز میں نہیں دیکھتے جس انداز میں کینیڈا اسے اپنی طاقت سمجھتا رہا ہے
سابق سفیر نے کاروباری اداروں کو مشورہ دیا کہ وہ امریکا پر انحصار کے ساتھ ساتھ اپنی منڈیوں کو متنوع بنانے، نئے عالمی خریدار تلاش کرنے اور کاروباری خطرات کو کم کرنے پر توجہ دیں البرٹا کی کمپنیوں میں اس رجحان کے آثار پہلے ہی نظر آ رہے ہیں، جہاں امریکی منڈی کے بجائے یورپ، مشرق وسطیٰ، ایشیا، لاطینی امریکا اور اوشیانا میں نئے کاروباری مواقع تلاش کیے جا رہے ہیں
اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں کیلگری اکنامک ڈویلپمنٹ کی مدد سے ہونے والے تجارتی معاہدوں میں امریکا کا حصہ 24 فیصد رہا، جو 2024 کے 35 فیصد کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے اس کے باوجود مجموعی طور پر کینیڈا کی برآمدات کا بڑا حصہ اب بھی امریکی منڈی پر منحصر ہے، کیونکہ 2025 میں تقریباً 68 فیصد کینیڈین برآمدات امریکا گئی تھیں
کینیڈا کی وفاقی حکومت بھی امریکا پر انحصار کم کرنے اور دیگر عالمی منڈیوں میں برآمدات بڑھانے کی پالیسی پر کام کر رہی ہے حکومت نے غیر امریکی برآمدات کو اگلی دہائی میں دوگنا کرنے کا ہدف بھی بیان کیا ہے، ساتھ ہی امریکا کے ساتھ ایک نئے معاشی اور سلامتی کے تعلقات کی تشکیل کو اپنی اہم ترجیحات میں شامل کیا ہے
ہل مین نے بنیادی طور پر کاروباری طبقے کو یہ پیغام دیا کہ کینیڈا امریکا کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے کی امید ضرور رکھ سکتا ہے، لیکن کاروباری منصوبہ بندی اس مفروضے پر نہیں ہونی چاہیے کہ دونوں ملک لازماً ماضی کے تجارتی ماحول میں واپس چلے جائیں گے ان کے مطابق موجودہ حالات میں کینیڈین کمپنیوں کے لیے نئی منڈیوں اور نئے راستوں کی تلاش پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہے





