Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

وائٹ ہاؤس نے اپنا ٹرمپ ٹی وی‘ شروع کر دیا، بڑے امریکی ٹی وی نیٹ ورکس نے ٹرمپ کی کوریج روک دی

وائٹ ہاؤس نے اپنا ٹرمپ ٹی وی‘ شروع کر دیا
، بڑے امریکی ٹی وی نیٹ ورکس نے ٹرمپ کی کوریج روک دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی میڈیا کے درمیان کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے وائٹ ہاؤس نے 24 گھنٹے چلنے والی اپنی ویڈیو اسٹریمنگ سروس ’ٹرمپ ٹی وی‘ شروع کر دی ہے، جس کا مقصد ٹرمپ انتظامیہ کی اہم تقریروں، اعلانات اور دیگر سرگرمیوں کی براہ راست یا ریکارڈ شدہ ویڈیو عوام تک پہنچانا ہے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بڑے امریکی ٹی وی نیٹ ورکس نے وائٹ ہاؤس کی مشترکہ ٹی وی کوریج معطل کر دی ہے
تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ٹرمپ انتظامیہ نے سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روک دیا اور ان کے پریس پاس واپس لے لیے ان اداروں نے اس اقدام کے خلاف وفاقی عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ امریکی آئین کی پہلی ترمیم میں دی گئی آزادی صحافت کے خلاف ہے عدالت میں اس معاملے کی ابتدائی سماعت بدھ کو مقرر کی گئی ہے
صورتحال کے جواب میں اے بی سی، سی بی ایس، این بی سی، فاکس نیوز اور سی این این پر مشتمل وائٹ ہاؤس ٹی وی پول نے صدر کی مشترکہ ویڈیو کوریج روک دی اس نظام کے تحت یہ نیٹ ورکس باری باری صدر کی تقریبات کی ویڈیو بناتے اور پھر وہ فوٹیج ملک کے دوسرے ٹی وی اداروں کو بھی فراہم کرتے تھے سی این این کی باری آنے کے باوجود اسے وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روک دیا گیا، جس کے بعد باقی نیٹ ورکس نے بھی متبادل کوریج فراہم نہ کرنے کا فیصلہ کیا
اس فیصلے کا فوری اثر یہ ہوا کہ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس کے جنوبی لان میں نئے ہیلی پیڈ کی افتتاحی تقریب اور نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے لیے ان کا سفر معمول کی براہ راست ٹی وی کوریج کے بغیر ہوا ہیلی پیڈ کی تقریب وائٹ ہاؤس کی اپنی ویڈیو کے ذریعے دکھائی گئی، تاہم ٹرمپ کی گفتگو واضح طور پر سنائی نہیں دے سکی کیونکہ روایتی ٹی وی پول کی آڈیو سہولت موجود نہیں تھی
اسی ماحول میں وائٹ ہاؤس نے ’ٹرمپ ٹی وی: دی ایسینشلز اسٹیشن‘ کے نام سے نئی 24 گھنٹے کی ویڈیو سروس شروع کی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس میں انتظامیہ کے اہم لمحات، اعلانات، تقریریں اور دیگر ویڈیوز مسلسل نشر کی جائیں گی تاہم آغاز کے وقت اس پر براہ راست نئی تقریب کے بجائے ٹرمپ کی 3 جولائی کی ماؤنٹ رشمور تقریر کی ریکارڈنگ چلائی جا رہی تھی
ٹرمپ نے میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض ادارے ان کے بارے میں غیر منصفانہ خبریں نشر کرتے ہیں، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی میڈیا اداروں کی کوریج پر اعتراض کیا دوسری جانب سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کا کہنا ہے کہ حکومت کو یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اپنی رپورٹنگ سے ناراضی کی بنیاد پر کسی خبر رساں ادارے کو وائٹ ہاؤس تک رسائی سے محروم کرے
یہ تنازع اب صرف ٹی وی کوریج تک محدود نہیں رہا بلکہ امریکی حکومت اور آزاد میڈیا کے درمیان رسائی، آزادی صحافت اور صدارتی سرگرمیوں کی آزادانہ کوریج کے اصولوں کا قانونی اور آئینی معاملہ بن چکا ہے عدالت کا آئندہ فیصلہ اس بات کا تعین کرنے میں اہم ہوگا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ان میڈیا اداروں پر عائد پابندی برقرار رہتی ہے یا اسے چیلنج کیا جاتا ہے

قومی خبریں سے مزید