اسلام آباد بند کرنے کی اجازت نہیں، حکومت نے خود اسلام آباد بند کر دیا، جمہوریت کے راستے میں کھڑے قومی سلامتی کے سپاہی کنٹینر، وہ سیاسی ورکر جو خاموشی سے سڑک بند کردیتا ہے
اسلام آباد کی طرف 27 ستمبر کو تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی آمد سے پہلے وفاقی دارالحکومت میں ایسی شاندار ’’جمہوری تیاری‘‘ شروع کر دی گئی ہے کہ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کسی کو اسلام آباد بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ شہر کو بند کرنے کا انتظام خود حکومت نے پہلے ہی مکمل کر دیا ہے
اسلام آباد میں جگہ جگہ کنٹینروں کی قطاریں لگ چکی ہیں،کسی رپورٹ میں تعداد ایک ہزار بتائی جا رہی ہے، کسی ویڈیو میں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پورا کنٹینر ڈپو دارالحکومت منتقل ہو گیا ہو،حکومت نے البتہ ابھی تک یہ وضاحت نہیں کی کہ اگر کنٹینر احتجاج روکنے کے لیے ہیں تو ان کے اندر موجود کروڑوں اربوں روپے کا کاروباری سامان کس جرم میں احتجاج کا حصہ بن گیا، اور جس کا یہ سامان ہے اسکے نقصان کے اسکے کاروبار کی ساکھ وقار اور مستقبل کا کیا بنے گا ؟
ٹرانسپورٹرز کے مطابق بڑی تعداد میں کنٹینر اور گاڑیاں تحویل میں لے کر سڑکیں بند کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں، جبکہ بعض کنٹینروں میں تاجروں کا قیمتی مال بھی موجود ہے،یعنی جو کنٹینر کل تک ملک کی معیشت کا سامان ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچا رہا تھا، آج وہ اچانک قومی سلامتی کا سپاہی بن کر سڑک پر کھڑا ہے
ادھر حکومت کا مؤقف اپنی جگہ انتہائی واضح ہے،کسی کو اسلام آباد بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی
عوام کا سوال بھی اتنا ہی واضح ہے: ’’جناب، پھر یہ سڑک کس نے بند کی ہے؟‘‘
اس سوال کا جواب شاید اگلے مرحلے میں کسی کنٹینر کے اندر سے برآمد ہو، کیونکہ فی الحال حکومت، پولیس اور انتظامیہ نے شہریوں کے لیے راستے بند کرکے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسلام آباد بند کرنے کے لیے احتجاج ضروری نہیں، صرف سرکاری اجازت کافی ہے
حیرت انگیز طور پر پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھی کوئی کمی نہیں،پولیس موجود ہے، رینجرز موجود ہے، ایف سی موجود ہے، لیویز موجود ہے، فوج موجود ہے اور بتایا جاتا ہے اکتیس مختلف سکیورٹی و انٹیلی جنس ادارے اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں،اطلاعات کے مطابق صرف اسلام آباد میں ہزاروں اضافی اہلکاروں کی تعیناتی کی تیاری ہے
اس کے باوجود مسئلہ وہی پرانا ہے،چند سیاسی جماعتیں شہر میں آنا چاہتی ہیں اور ریاست کے پاس ان کا استقبال کرنے کے لیے سب سے اہم چیز کنٹینر ہے
گویا دنیا بھر میں حکومتیں مظاہرین کے لیے راستے بناتی ہیں، پاکستان میں حکومتیں مظاہرین کے لیے راستے تلاش کرنے کے بجائے راستے ہی ختم کر دیتی ہیں
جماعت اسلامی نے 20 ستمبر کو مہنگے پٹرول اور پٹرولیم لیوی کے خلاف اسلام آباد کا رخ کیا، تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اپنے بانی عمران خان کی رہائی سمیت اپنے مطالبات کے لیے لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے، جبکہ کسان اتحاد بھی اپنے مطالبات کے ساتھ اسلام آباد پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے
یعنی دارالحکومت میں سیاسی جماعتوں، کسانوں، مزدوروں اور مختلف احتجاجی گروہوں کی آمد متوقع ہے، مگر حکومت نے سب کے لیے ایک ہی مشترکہ پالیسی بنائی ہے: ’’آپ آئیں یا نہ آئیں، راستہ ہم پہلے ہی بند کر دیتے ہیں”
سب سے دلچسپ صورت حال تاجروں اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں کی ہے،ان کے کنٹینر سیاست میں کوئی حصہ نہیں لینا چاہتے، ان کا صرف اتنا قصور ہے کہ ان کے اندر سامان موجود ہے،مگر اب وہ بھی قومی سیاسی مکالمے کا حصہ بن چکے ہیں،فرق صرف یہ ہے کہ سیاسی کارکن تقریر کرتے ہیں اور کنٹینر خاموش رہ کر سڑک بند کرتے ہیں
حکومت کہتی ہے کہ اسلام آباد کو بند نہیں ہونے دیا جائے گا،احتجاج کرنے والے کہتے ہیں کہ انہیں اسلام آباد آنے دیا جائے،عدالتیں شہریوں کے معمولات، کاروبار اور سڑکیں کھلی رکھنے کی ہدایات دے چکی ہیں، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ دارالحکومت کے داخلی راستوں پر کنٹینروں کی دیواریں پہلے ہی جمہوریت کی راہ میں کھڑی ہیں
یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان نے سیاسی احتجاج کا ایک نیا ماڈل ایجاد کر لیا ہے: حکومت پہلے شہر بند کرے گی، پھر اعلان کرے گی کہ کسی کو شہر بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، پھر اگر سڑک پر ٹریفک پھنس جائے تو ذمہ داری احتجاج کرنے والوں پر ڈال دی جائے گی
اور اگر کسی تاجر کا مال کنٹینر میں پھنس جائے تو اسے بھی شاید تسلی دی جائے گی کہ پریشان نہ ہوں، یہ صرف چند دن کی جمہوری بندش ہے
بس شرط یہ ہے کہ کنٹینر کھولنے کی اجازت بھی حکومت ہی دے گی





