Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

امریکن ڈریم : نیویارک میں ایک ہزار سے زائد جعلی شادیوں کا مبینہ نیٹ ورک پکڑا گیا، گرین کارڈ کے لیے کروڑوں ڈالر کا فراڈ

امریکن ڈریم : نیویارک میں ایک ہزار سے زائد جعلی شادیوں کا مبینہ نیٹ ورک پکڑا گیا، گرین کارڈ کے لیے کروڑوں ڈالر کا فراڈ

نیویارک میں وفاقی حکام نے ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری مبینہ جعلی شادیوں کے ایک بڑے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 11 افراد پر فردِ جرم عائد کردی ہے،امریکی محکمہ انصاف کے مطابق نیویارک سٹی میں بنیادی طور پر سرگرم اس نیٹ ورک نے 2016 سے جولائی 2026 تک غیر ملکی شہریوں، خصوصاً چین کے شہریوں، کو امریکی امیگریشن اسٹیٹس اور گرین کارڈ دلانے کے لیے ایک ہزار سے زائد جعلی شادیاں کرائیں
وفاقی حکام نے فردِ جرم سیل سے نکال کر عوام کے سامنے پیش کی اور اسی روز صبح 10 ملزمان کو گرفتار کیا گیا،انہیں وائٹ پلینز کی وفاقی عدالت میں پیش کیا جانا تھا، جبکہ 11واں شخص بھی مقدمے میں نامزد ہے،محکمہ انصاف نے اسے امریکی تاریخ میں سامنے آنے والے بڑے میرج فراڈ مقدمات میں سے ایک قرار دیا ہے
اس کارروائی کا اعلان امریکہ کے اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش، سدرن ڈسٹرکٹ آف نیویارک کے امریکی اٹارنی جیمی میک ڈونلڈ، ہوم لینڈ سکیورٹی انویسٹی گیشنز نیویارک دفتر کے قائم مقام اسپیشل ایجنٹ انچارج پیٹ گیزاس، یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز کے ڈائریکٹر جوزف بی ایڈلو اور ویسٹ چیسٹر کاؤنٹی کے ڈسٹرکٹ اٹارنی سوزن ککیس نے مشترکہ طور پر کیا،یعنی یہ صرف نیویارک کے ڈسٹرکٹ اٹارنی کی کارروائی نہیں بلکہ وفاقی اور مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ تحقیقات تھی
فردِ جرم کے مطابق یہ نیٹ ورک نیویارک سٹی میں قائم تھا لیکن مبینہ جعلی شادیاں امریکہ کی کئی ریاستوں کے علاوہ بیرون ملک بھی کرائی گئیں،ان میں کنیکٹیکٹ، میساچوسٹس، پنسلوانیا، کینٹکی، ٹینیسی، جارجیا اور فلوریڈا کے علاوہ وانواتو اور چین بھی شامل ہیں،گرفتاریوں کے موقع پر نیویارک کے سن سیٹ پارک، بروکلین، فلشنگ، کوئنز اور اسٹیٹن آئی لینڈ میں مختلف مقامات پر تلاشی کے وارنٹ بھی نافذ کیے گئے
حکام کے مطابق مبینہ نیٹ ورک میں مختلف سطحوں پر کام کرنے والے افراد شامل تھے،کچھ لوگ غیر ملکی شہریوں کو تلاش کرتے، کچھ امریکی شہریوں کو پیسوں کے عوض جعلی شادی کے لیے تیار کرتے، جبکہ دوسرے افراد امیگریشن کاغذات تیار کرکے گرین کارڈ کی درخواستیں جمع کراتے تھے،تحقیقات کے مطابق اس کام میں بعض وکلا، ٹیکس تیار کرنے والوں، شادی کرانے والے افراد، انشورنس فراہم کرنے والوں اور دیگر سروس فراہم کرنے والوں کی خدمات بھی استعمال کی گئیں
فردِ جرم میں الزام ہے کہ غیر ملکی شہری ایک جعلی شادی اور مستقل رہائش حاصل کرنے میں مدد کے لیے مبینہ طور پر 100,000 ڈالر تک ادا کرتے تھے،اس رقم میں سے امریکی شہریوں کو جعلی شادی میں شامل ہونے کے عوض 30,000 ڈالر تک دیے جاتے، جبکہ امریکی شہریوں کو بھرتی کرنے والے افراد کو فی شخص 5,000 ڈالر تک کمیشن ملنے کا الزام ہے،حکام کے مطابق پورے نیٹ ورک نے دس سال سے زیادہ عرصے میں غیر ملکی شہریوں سے دسیوں ملین ڈالر حاصل کیے
مبینہ فراڈ صرف کاغذی شادی تک محدود نہیں تھا،تحقیقات کے مطابق بعض ایسے جوڑوں کی شادی کی باقاعدہ تقریبات منعقد کی جاتیں، تصاویر بنائی جاتیں اور بعد میں شادی کو حقیقی ثابت کرنے کے لیے مشترکہ بینک اکاؤنٹس، یوٹیلیٹی اکاؤنٹس، مشترکہ ٹیکس ریٹرن اور انشورنس پالیسیوں جیسے دستاویزات تیار کیے جاتے تھے،امریکی امیگریشن حکام کے انٹرویو سے قبل بعض افراد کو یہ بھی بتایا جاتا تھا کہ جعلی ازدواجی تعلق کو حقیقی ظاہر کرنے کے لیے کیا جوابات دینے ہیں
محکمہ انصاف کے مطابق نیٹ ورک کے ذریعے کم از کم سینکڑوں جعلی گرین کارڈ درخواستیں اور معاون دستاویزات یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز کو جمع کرائی گئیں،فردِ جرم میں 15 جنوری 2025 اور 17 دسمبر 2024 کو ہونے والی مبینہ جعلی شادیوں کی تصاویر اور تفصیلات بھی شامل ہیں
مقدمے میں نامزد افراد میں ایمی چینگ، ژیاؤ میی چان، کرسٹین لو، جنگ یان یی، ژیاؤ یان چن، گینگ ژینگ، انتھونی چینگ، مشیل ڈویناس، اینجیلا ڈویناس، سگرڈ سیٹینو اور اریکا جانسن شامل ہیں،ان میں بیشتر نیویارک کے بروکلین، کوئنز اور اسٹیٹن آئی لینڈ سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ بعض ویسٹ چیسٹر کاؤنٹی کے علاقوں میں مقیم ہیں
تحقیقات میں ہوم لینڈ سکیورٹی انویسٹی گیشنز، ایف بی آئی، یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز کے فراڈ ڈیٹیکشن اینڈ نیشنل سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ، امریکی فوج کے کریمنل انویسٹی گیشن ڈویژن اور ویسٹ چیسٹر کاؤنٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی کا دفتر شامل تھا،مقدمے کی پیروی سدرن ڈسٹرکٹ آف نیویارک کے اسسٹنٹ امریکی اٹارنی جیک سڈرانسکی اور ریحان واٹسن کر رہے ہیں
ملزمان پر شادی اور امیگریشن فراڈ کی سازش اور غیر ملکی شہریوں کے امریکہ میں غیر قانونی قیام کی حوصلہ افزائی کی سازش کے الزامات عائد کیے گئے ہیں،پہلے الزام میں جرم ثابت ہونے کی صورت میں زیادہ سے زیادہ پانچ سال اور دوسرے الزام میں زیادہ سے زیادہ دس سال قید کی سزا مقرر ہے
تاہم امریکی محکمہ انصاف نے واضح کیا ہے کہ فردِ جرم میں لگائے گئے الزامات محض الزامات ہیں اور تمام ملزمان کو عدالت میں جرم ثابت ہونے تک بے گناہ تصور کیا جائے گا

قومی خبریں سے مزید