امریکہ میں عبادت بھی سکیورٹی کی قیمت مانگنے لگی، یہودی کمیونٹی کا سالانہ بل ایک ارب ڈالر سے بڑھ گیا، مسلمانوں اور کرسچئین کے بل ابھی سامنے آنا باقی ہیں
امریکہ میں مذہبی آزادی اور عبادت گاہوں کے تحفظ کی ایک ایسی قیمت سامنے آئی ہے جو چند سال پہلے ناقابلِ تصور محسوس ہوتی تھی، صرف یہودی مذہبی اور کمیونٹی اداروں نے 2025 میں اپنی سکیورٹی پر اندازاً 1.015 ارب ڈالر خرچ کیے، جو 2024 کے تقریباً 765 ملین ڈالر کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ ہے،یہ تخمینہ 4,500 سے زیادہ یہودی اداروں، جن میں عبادت گاہیں، اسکول، کمیونٹی سینٹرز، سمر کیمپس اور دیگر غیر منافع بخش ادارے شامل ہیں، کے سکیورٹی اخراجات پر مبنی ہے
لیکن اصل سوال یہ ہے کہ امریکہ میں عبادت کرنے کے لیے نجی مذہبی کمیونٹیز کو اتنی بڑی رقم اپنی حفاظت پر کیوں خرچ کرنا پڑ رہی ہے؟ ممتاز امریکی جریدے نیوز ویک کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق
یہ رقم صرف سکیورٹی گارڈز کی تنخواہوں تک محدود نہیں،اس میں نگرانی کے کیمرے، عمارتوں کے دروازوں اور داخلی راستوں کو محفوظ بنانا، سکیورٹی ٹیکنالوجی، حفاظتی عملہ اور دیگر اقدامات شامل ہیں،یہودی فیڈریشنز کے مطابق اوسطاً ہر ادارہ تقریباً 225,000 ڈالر سالانہ سکیورٹی پر خرچ کر رہا ہے،اس تخمینے میں نجی یہودی کاروبار، مثلاً کوشر ریسٹورنٹس اور مارکیٹس شامل نہیں، اس لیے مجموعی لاگت اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے
خطرے کی شدت کو سمجھنے کے لیے وفاقی اعدادوشمار بھی اہم ہیں،امریکی محکمہ انصاف کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں 10,881 نفرت پر مبنی جرائم رپورٹ ہوئے جن میں 13,438 متاثرین تھے،ان میں مذہب کی بنیاد پر ہونے والے واقعات مجموعی نفرت انگیز جرائم کا 22.9 فیصد تھے
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق 2025 میں مذہب کی بنیاد پر رپورٹ ہونے والے نفرت انگیز جرائم کے متاثرین میں 60 فیصد سے زیادہ یہودیوں کے خلاف تھے، حالانکہ یہودی امریکی آبادی کا 3 فیصد سے بھی کم ہیں،مسلمانوں کی آبادی ایک فیصد سے کچھ زیادہ ہے، جبکہ مذہبی بنیاد پر نفرت انگیز جرائم کے تقریباً 10 فیصد واقعات میں مسلمان متاثر ہوئے
تاہم یہ مسئلہ صرف یہودی کمیونٹی تک محدود نہیں،گزشتہ برسوں میں مساجد، گرجا گھروں اور دیگر مذہبی اداروں نے بھی سکیورٹی بڑھائی ہے،2025 میں منی سوٹا کے ایک کیتھولک چرچ میں فائرنگ کے واقعے کے بعد کیتھولک اداروں میں سکیورٹی اخراجات بڑھانے کی بحث تیز ہوئی، جبکہ یہودی اور مسلم ادارے بھی مساجد اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کے بعد پہلے ہی اضافی حفاظتی انتظامات کر رہے تھے
وفاقی حکومت نے بھی مذہبی اور دیگر غیر منافع بخش اداروں کی سکیورٹی کے لیے Nonprofit Security Grant Program کے ذریعے رقم فراہم کی ہے،یہ پروگرام 2005 میں تقریباً 25 ملین ڈالر سے شروع ہوا تھا،2021 میں اس کے تحت 180 ملین، 2023 میں 305 ملین اور 2025 میں تقریباً 450 ملین ڈالر مختص کیے گئے،اس کے باوجود درخواست دینے والے تمام اداروں کو رقم نہیں ملتی، 2023 میں تقریباً 60 فیصد درخواستیں مسترد ہونے کی اطلاع دی گئی
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ 2024 میں وفاقی سکیورٹی گرانٹس میں 400 ملین ڈالر کا اضافی اضافہ کیا گیا تھا، جس سے عبادت گاہیں سکیورٹی اہلکاروں کی خدمات اور نگرانی کے آلات سمیت مختلف حفاظتی اقدامات کے لیے رقم حاصل کر سکتی تھیں،اس اضافے کی ضرورت خاص طور پر یہودی اور مسلم کمیونٹیز کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات کے تناظر میں بیان کی گئی تھی
یوں امریکی مذہبی زندگی کے سامنے ایک بنیادی سوال کھڑا ہو رہا ہے،کیا عبادت گاہ کی حفاظت اب مذہبی ادارے کی معمول کی انتظامی ذمہ داری ہے یا عوامی تحفظ کا ایسا معاملہ ہے جس کا بڑا حصہ حکومت کو برداشت کرنا چاہیے؟
یہودی کمیونٹی کی طرف سے پیش کیے جانے والے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ نجی ادارے پہلے ہی سکیورٹی پر ایک ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کر رہے ہیں،دوسری طرف کیتھولک، مسلم اور دیگر مذہبی ادارے بھی مختلف سطحوں پر اضافی سکیورٹی کے اخراجات برداشت کر رہے ہیں، لیکن ان سب کے لیے ایک ہی طریقہ کار کے تحت قومی سطح کا مجموعی سالانہ خرچ دستیاب نہیں،اس لیے موجودہ اعداد سے یہ کہنا ممکن نہیں کہ امریکہ کی تمام مذہبی کمیونٹیز مجموعی طور پر سکیورٹی پر کتنے ارب ڈالر خرچ کرتی ہیں
اصل تصویر شاید اسی نامکمل حساب میں چھپی ہے،امریکہ میں مذہبی آزادی آئینی حق ہے، مگر اس حق کو عملی طور پر محفوظ رکھنے کے لیے مذہبی کمیونٹیز اپنی جیب سے کتنی قیمت ادا کر رہی ہیں، اس کا مکمل قومی حساب ابھی موجود نہیں





