جنگ کے دوران ایرانی صدر کو دنیا کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرنے کا نادر موقع، پزشکیان اور ٹرمپ آمنے سامنے بیٹھ سکتے ہیں ؟
نیویارک :ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایران کا مؤقف دنیا کے سامنے پیش کرنے کا ایک غیر معمولی موقع مل رہا ہے،پزشکیان بدھ کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے، ایسے وقت میں جب امریکا اور ایران کے درمیان تقریباً 7 ماہ سے جاری جنگ نے خطے اور عالمی توانائی کی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے
امریکی حکومت نے پزشکیان اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت ایرانی وفد کو نیویارک آنے کی اجازت دی ہے،یہ فیصلہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان فوجی کشیدگی برقرار ہے،امریکی حکام کے مطابق اجازت اقوام متحدہ کے میزبان ملک کی حیثیت سے امریکا کی ذمہ داریوں کے تحت دی گئی، تاہم ایرانی وفد کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد رہیں گی
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایرانی وفد کو ہوٹل سے اقوام متحدہ کی عمارت تک جانے کے علاوہ نیویارک میں آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت نہیں ہوگی،وفد کو مخصوص مقامات تک محدود رکھا جائے گا، جس میں اقوام متحدہ، ایرانی سفارتی مشن اور متعلقہ سرکاری مقامات شامل ہیں
پزشکیان کا خطاب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی رابطے تعطل کا شکار ہیں،تاہم نیویارک میں دونوں ملکوں کے اعلیٰ حکام کی موجودگی نے بالواسطہ یا براہِ راست رابطے کا امکان پیدا کر دیا ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ وہ جنرل اسمبلی کے موقع پر پزشکیان سے ملاقات کے لیے تیار ہو سکتے ہیں، اگرچہ دونوں صدور کی ملاقات ابھی طے نہیں ہوئی
اقوام متحدہ کا موجودہ اجلاس اس لحاظ سے بھی غیر معمولی ہے کہ امریکی اور ایرانی وفود ایک ہی شہر میں موجود ہوں گے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ جاری ہے،علاقائی کشیدگی میں یمن کے حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں اور آبنائے ہرمز سمیت اہم سمندری راستوں سے متعلق خطرات نے بھی اضافہ کیا ہے
پزشکیان کی تقریر میں ایران کی جنگ، امریکی پالیسی، پابندیوں اور خطے کی صورتحال پر تہران کا مؤقف سامنے آنے کا امکان ہے، جبکہ دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ بھی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے والے ہیں،یوں نیویارک میں اس ہفتے ہونے والی سفارتی سرگرمیاں امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازعہ کے اگلے مرحلے کے لیے اہم رابطوں کا موقع فراہم کر رہی ہیں





