میزوری کے انتخابی نقشے پر نیا قانونی موڑ، حتمی فیصلہ سپریم کورٹ کرے گی
میزوری میں کانگریس کے انتخابی اضلاع کے نقشے پر جاری قانونی جنگ میں ایک اور اہم موڑ آ گیا ہے،امریکی اپیل کورٹ کے 8ویں سرکٹ کے تین رکنی بینچ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت یافتہ اور ریپبلکنز کی جانب سے تیار کردہ نئے کانگریشنل نقشے کو نومبر کے عام انتخابات میں استعمال کرنے کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے
اپیل کورٹ نے قرار دیا کہ اگست میں ہونے والے ریپبلکن پرائمری انتخابات نئے نقشے کے تحت کرانے کے بعد نومبر کے عام انتخابات میں پرانے نقشے پر واپس جانا آئین سے متصادم ہوگا،عدالت نے ماتحت عدالت کو حکم دیا کہ نئے نقشے کے علاوہ کسی دوسرے نقشے کے استعمال کے خلاف مستقل حکم جاری کیا جائے
تاہم اس فیصلے پر فوری عمل درآمد نہیں ہوگا،اپیل کورٹ نے اپنے حکم کو ایک ہفتے کے لیے مؤخر کر دیا ہے تاکہ مخالف فریق سپریم کورٹ سے رجوع کر سکے،اس لیے فی الحال یہ واضح نہیں کہ نومبر کا انتخاب نئے نقشے کے تحت ہوگا یا 2022 کے سابقہ نقشے کے تحت
یہ معاملہ اس لیے بھی پیچیدہ ہو گیا ہے کہ میزوری سپریم کورٹ نے 3 ستمبر کو قرار دیا تھا کہ نیا نقشہ ایک ریفرنڈم کے لیے چیلنج ہو چکا ہے اور نومبر کے عام انتخابات میں اسے استعمال نہیں کیا جا سکتا،امریکی سپریم کورٹ نے بھی اس مرحلے پر نئے نقشے کے استعمال کو روکنے کے فیصلے میں مداخلت نہیں کی تھی
نئے نقشے کے تحت اگست کا پرائمری انتخاب ہو چکا ہے اور تقریباً 12 لاکھ ووٹرز اس میں حصہ لے چکے ہیں،انتخابی حکام کے لیے اب نقشہ تبدیل کرنا ایک بڑا انتظامی مسئلہ بن چکا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں نئے نقشے کے مطابق بیلٹ بھی تیار کیے جا چکے ہیں
اب اس قانونی تنازعہ کا اگلا اہم مرحلہ امریکی سپریم کورٹ میں ہوگا، جہاں یہ طے ہونا ہے کہ نومبر کے عام انتخابات کے لیے 2022 کا نقشہ برقرار رہے گا یا ٹرمپ کی حمایت یافتہ 2026 کی نئی حلقہ بندی نافذ ہوگا





