حکمرانوں اور بااثر سرکاری طبقے کے لیے آسانیاں، عام پاکستانی کے لیے بیرون ملک سفر اب بھی مشکل
پاکستان اور سعودی عرب نے سفارتی، سرکاری اور خصوصی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت دونوں ملکوں کے اعلیٰ سرکاری حکام اور سفارتی نمائندوں کے لیے سفر مزید آسان ہوجائے گا یہ معاہدہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر کیا
معاہدے کے تحت عام پاکستانی شہریوں کو ویزا فری سفر کی سہولت حاصل نہیں ہوگی۔ یعنی جس پاکستانی کے پاس عام پاسپورٹ ہے، اسے سعودی عرب جانے کے لیے بدستور متعلقہ ویزا اور مقررہ شرائط پوری کرنا ہوں گی سعودی عرب سمیت خلیج کے بیشتر ممالک میں عام پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے پیشگی ویزا درکار ہے، جبکہ پاکستان کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق کئی ممالک کے ساتھ ویزا استثنا کے معاہدے بھی بنیادی طور پر سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں تک محدود ہیں
یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب پاکستانیوں کے لیے روزگار کی سب سے بڑی بیرون ملک منڈیوں میں شامل ہے 2025 میں بیرون ملک روزگار کے لیے رجسٹر ہونے والے 762,499 پاکستانی کارکنوں میں سے 530,256 یعنی تقریباً 70 فیصد سعودی عرب گئے پاکستان نے 2030 تک سعودی عرب کو 10 لاکھ کارکن فراہم کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے
اسی لیے عام پاکستانی کے لیے اصل اہمیت صرف سفارتی پاسپورٹ کے حامل افراد کے سفر کو آسان بنانے کی نہیں بلکہ روزگار، خاندانی ملاقات، عمرہ، علاج اور کاروبار کے لیے عام شہریوں کی مشکلات کم کرنے کی ہے سعودی عرب میں پاکستانی کارکنوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور ان کے خاندان بھی ویزا، سفری اخراجات اور دستاویزات کے پیچیدہ مراحل سے گزرتے ہیں
پاکستانی حکمران طبقے پر یہ تنقید نئی نہیں کہ بیرون ملک سفر، مراعات اور سرکاری سہولتوں کے معاملات میں عام شہری اور بااثر سرکاری طبقہ ایک جیسی صورتحال میں نہیں ہوتے اس معاہدے نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ دوطرفہ مذاکرات میں عام پاکستانی مسافر، مزدور، طالب علم، کاروباری شخص اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ویزا سہولتیں کیوں مرکزی ترجیح نہیں بنتیں
پاکستان خود سعودی شہریوں کے لیے نسبتاً آسان ویزا سہولتیں فراہم کرتا ہے پاکستانی حکومت کے مطابق سعودی شہریوں کو پاکستان کے لیے ویزا آن ارائیول اور آن لائن ویزا کی سہولت حاصل ہے، جبکہ سعودی شہریوں کے لیے کاروباری ویزا کا طریقہ کار بھی آسان بنایا گیا ہے
اس کے برعکس عام پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی نقل و حرکت اب بھی محدود ہے مئی 2026 کے ہنلی پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ 100ویں نمبر پر تھا اور پاکستانی شہریوں کو صرف محدود تعداد میں ممالک تک ویزا فری، ویزا آن ارائیول یا آسان سفری اجازت کے ذریعے رسائی حاصل تھی خلیج کے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور عمان جیسے اہم ممالک میں عام پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے عموماً پیشگی ویزا درکار ہے
عام شہریوں کے لیے ایک اور اہم مسئلہ بیرون ملک پاکستانی کارکنوں کے حقوق کا ہے پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ آئندہ برسوں میں بڑی تعداد میں کارکن بھیجنے کا ہدف مقرر کیا ہے، مگر ایسے معاہدوں کے ساتھ اجرت، ملازمت کا تحفظ، پاسپورٹ کی واپسی، علاج، رہائش، قانونی مدد اور شکایات کے فوری ازالے جیسے معاملات بھی اہم ہوتے ہیں
حکومت کا مؤقف ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ ایسے معاہدے دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی رابطوں اور سرکاری تعاون کو آسان بناتے ہیں تاہم اس پیش رفت کے بعد یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان کب ایسے دوطرفہ معاہدوں کو ترجیح دے گا جن کا براہ راست فائدہ عام پاسپورٹ رکھنے والے کروڑوں پاکستانیوں، بیرون ملک محنت کرنے والے کارکنوں، طلبہ، مریضوں اور خاندانوں کو بھی پہنچے
پاکستانی حکومت کے سرکاری ریکارڈ سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ دنیا کے متعدد ممالک کے ساتھ ویزا استثنا کے موجودہ معاہدے سفارتی، سرکاری یا خصوصی پاسپورٹ رکھنے والوں تک محدود ہیں، جبکہ عام پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ایسی سہولتیں بہت کم ہیں
یوں سعودی عرب کے ساتھ تازہ معاہدہ حکمرانوں اور سرکاری نمائندوں کے لیے سفری آسانی ضرور پیدا کرتا ہے، لیکن عام پاکستانی کے لیے اصل سوال اب بھی یہی ہے کہ بیرون ملک سفر، روزگار اور خاندانوں سے ملاقات کے لیے ویزا نظام کب اتنا آسان ہوگا کہ اس کا فائدہ صرف بااثر طبقے کے بجائے عام شہری کو بھی براہ راست محسوس ہو





