بھارت نے روسی تیل پر امریکی دباؤ مسترد کردیا، معاشی مفادات کے تحفظ کا اعلان
بھارت نے امریکا کی جانب سے روس کے خلاف نئی پابندیوں کے قانون کی منظوری کے بعد واضح کیا ہے کہ وہ اپنے تجارتی اور معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا امریکی ایوان نمائندگان نے ایسا قانون منظور کیا ہے جس کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو روسی تیل اور گیس خریدنے والے بڑے ممالک پر 100 فیصد تک اضافی محصولات عائد کرنے کا اختیار مل سکتا ہے اس قانون کا ممکنہ ہدف بھارت اور چین جیسے بڑے خریدار بھی بن سکتے ہیں
بھارتی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ملک کی ترجیح اپنے 1.4 ارب شہریوں کے لیے توانائی کا تحفظ یقینی بنانا ہے اور بھارت بدلتی ہوئی عالمی منڈی اور حالات کے مطابق مختلف ذرائع سے توانائی حاصل کرتا رہے گا بھارت روس سے بڑی مقدار میں خام تیل خریدتا ہے، جس کی وجہ سے نئی امریکی قانون سازی سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے ساتھ ساتھ بھارت کی توانائی کی درآمدات بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا ہے
نئے امریکی قانون کے تحت صدر ٹرمپ کو روسی تیل اور گیس کے بڑے خریداروں پر 100 فیصد تک محصولات عائد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے امریکی قانون سازوں کا مقصد روس کی توانائی کی آمدنی کو محدود کرنا ہے تاکہ یوکرین کے خلاف جنگ کے لیے ماسکو کی مالی صلاحیت پر دباؤ بڑھایا جا سکے قانون امریکی سینیٹ سے پہلے ہی منظور ہوچکا تھا جبکہ ایوان نمائندگان نے اسے 262 کے مقابلے میں 159 ووٹوں سے منظور کیا اب یہ قانون صدر ٹرمپ کی منظوری کے مرحلے میں ہے
بھارت کا کہنا ہے کہ اس معاملے کے ممکنہ اثرات پر امریکی حکام کے ساتھ اعلیٰ سطح پر بات چیت پہلے ہی کی جاچکی ہے نئی دہلی نے واشنگٹن کو یہ بھی واضح کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف دونوں ملکوں کے تعلقات بلکہ عالمی توانائی کی منڈی پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں
بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق بھارت بدلتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیتا رہے گا اور اپنی تجارت، معیشت اور توانائی کے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا اس صورتحال سے امریکا اور بھارت کے درمیان تجارت، روسی تیل کی خریداری اور عالمی توانائی کی قیمتوں کے حوالے سے ایک نیا تنازع پیدا ہونے کا امکان ہے






