مذہبی متعصب بھارت:’السلام علیکم‘‘ اور ’’ان شاء اللہ‘‘ آئی پی ایس افسر بشریٰ بانو کی بنگال میں پوسٹنگ لے ڈوبے؟
مغربی بنگال کی آئی پی ایس افسر بشریٰ بانو کی کھڑگ پور میں ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی حیثیت سے اچانک منتقلی نے ایک نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے،یہ تبادلہ ان کے ایک ویڈیو پیغام کے چند روز بعد ہوا جس میں انہوں نے سول سروسز کے امیدواروں سے خطاب کرتے ہوئے ’’السلام علیکم‘‘ سے بات شروع کی، گفتگو کے دوران ’’ان شاء اللہ‘‘ کہا اور آخر میں ’’جزاک اللہ‘‘ کے الفاظ استعمال کیے تھے
بشریٰ بانو نے 13 ستمبر کو جاری کیے گئے ویڈیو پیغام میں اپنی یو پی ایس سی کی تیاری کے تجربے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ریزیڈنشیل کوچنگ اکیڈمی کے کردار کے بارے میں بتایا تھا،انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ اکیڈمی کی سہولیات سے فائدہ اٹھائیں،تاہم ویڈیو کے مواد کے بجائے اس میں استعمال کیے گئے اسلامی الفاظ پر بعض حلقوں نے اعتراض کیا
’’ہندو لیگل فنڈ‘‘ نامی تنظیم نے مغربی بنگال کے ہوم سیکریٹری کو شکایت بھیجی اور اعتراض کیا کہ ایک سرکاری افسر کو عوامی پیغام میں مذہبی اصطلاحات کے بجائے ’’وندے ماترم‘‘ یا ’’جے ہند‘‘ جیسے قومی الفاظ استعمال کرنے چاہئیں،تنظیم نے سرکاری افسر کی جانب سے یونیفارم میں یہ الفاظ استعمال کیے جانے کو سرکاری غیر جانب داری کے حوالے سے سوال قرار دیا
اس تنازعہ کے فوراً بعد 14 ستمبر کو بشریٰ بانو کو کھڑگ پور کے ایڈیشنل ایس پی کے عہدے سے ہٹا کر ریاستی مسلح پولیس کی چوتھی بٹالین میں ڈپٹی کمانڈنٹ مقرر کر دیا گیا، جبکہ پرتھا گھوش کو کھڑگ پور کا نیا ایڈیشنل ایس پی بنایا گیا،ٹرانسفر آرڈر میں تاہم بشریٰ بانو کے ویڈیو، ’’السلام علیکم‘‘ یا شکایت کو تبادلے کی وجہ قرار نہیں دیا گیا،حکومت نے اسے معمول کی انتظامی تبدیلی قرار دیا ہے
تنازعہ اس لیے بھی شدت اختیار کر گیا ہے کہ ویڈیو پر اعتراض اور شکایت کے فوراً بعد تبادلہ ہوا، جس کی وجہ سے بعض سیاسی حلقے دونوں واقعات کو باہم منسلک قرار دے رہے ہیں
بشریٰ بانو کا کیریئر بھی غیر معمولی ہے،انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی، سعودی عرب میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر کام کیا، پھر بھارت واپس آکر سول سروسز کی تیاری کی،وہ یو پی ایس سی کا امتحان دو مرتبہ پاس کر چکی ہیں،پہلی مرتبہ انہیں انڈین ریلوے ٹریفک سروس ملی اور دوسری مرتبہ وہ آئی پی ایس میں منتخب ہوئیں
یوں ایک عام تعلیمی ویڈیو پیغام اب بھارت میں سرکاری عہدے، مذہبی اظہار اور سرکاری افسر کی عوامی گفتگو کی حدود پر ایک بڑی بحث میں تبدیل ہو گیا ہے،فی الحال سب سے اہم سوال یہی ہے کہ بشریٰ بانو کا تبادلہ واقعی معمول کی انتظامی کارروائی تھا یا ویڈیو پر ہونے والے تنازعہ نے اس فیصلے میں کوئی کردار ادا کیا،دستیاب سرکاری ریکارڈ اس سوال کا حتمی جواب نہیں دیتا





