ڈی او جی ای کی افرادی قوت میں کمی کی مہم، وفاقی ملازمین کو کام کیے بغیر 9.5 ارب ڈالر کی ادائیگی کا انکشاف
امریکی حکومت نے 2025 میں وفاقی ملازمین کو تنخواہوں کی مد میں تقریباً 9.5 ارب ڈالر ایسے عرصے کے لیے ادا کیے جب وہ انتظامی رخصت پر تھے اور سرکاری فرائض انجام نہیں دے رہے تھے،حکومتی احتساب دفتر کی نئی رپورٹ کے مطابق اس اخراجات میں بڑا حصہ ٹرمپ انتظامیہ کے وفاقی افرادی قوت کم کرنے کے لیے شروع کیے گئے ڈیفرڈ ریزگنیشن پروگرام سے متعلق تھا
رپورٹ کے مطابق 2023 سے 2025 کے درمیان وفاقی اداروں میں تنخواہ کے ساتھ انتظامی رخصت کے استعمال میں 435 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اس کی تنخواہی لاگت تقریباً چھ گنا بڑھ گئی،2025 میں 9.5 ارب ڈالر کی مجموعی لاگت میں سے تقریباً 6.7 ارب ڈالر ڈیفرڈ ریزگنیشن پروگرام سے منسلک تھے
اس پروگرام کے تحت وفاقی ملازمین کو فوری طور پر کام سے الگ ہونے کی اجازت دی گئی، جبکہ وہ 30 ستمبر 2025 تک تنخواہ حاصل کرتے رہے، بشرطیکہ وہ پروگرام کی شرائط کے مطابق استعفیٰ یا ریٹائرمنٹ اختیار کریں،حکومتی احتساب دفتر کے مطابق اس پروگرام سے متعلق تقریباً 6.7 ارب ڈالر کے اخراجات کا تخمینہ اندرونی حاضری اور پے رول ڈیٹا کی بنیاد پر لگایا گیا
حکومتی احتساب دفتر نے تاہم واضح کیا کہ پے رول ڈیٹا میں کچھ خامیاں موجود ہیں جن کی وجہ سے انتظامی رخصت کے حقیقی استعمال اور لاگت کا تخمینہ بعض صورتوں میں زیادہ ہوسکتا ہے،مثال کے طور پر بعض اداروں نے سرکاری تعطیلات کے دوران رخصت کو بھی انتظامی رخصت کے طور پر رپورٹ کیا
رپورٹ کے لیے 76 وفاقی اداروں کے پے رول ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا، جو مجموعی سولین وفاقی افرادی قوت کے تقریباً 95 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں،حکومتی احتساب دفتر نے سفارش کی ہے کہ وفاقی حکومت افرادی قوت میں کمی کے لیے استعمال ہونے والی انتظامی رخصت کی الگ درجہ بندی کرے تاکہ اس کے اخراجات اور طویل مدتی بچت کا درست اندازہ لگایا جا سکے






