روس میں جنگ مخالف امیدوار کا انتخابی مقابلہ، یابلوکو نے امن مذاکرات کی حمایت کی

روس میں جنگ مخالف امیدوار کا انتخابی مقابلہ، یابلوکو نے امن مذاکرات کی حمایت کی

روس میں پارلیمانی انتخابات سے ایک روز قبل 24 سالہ پولینا لیرمانٹ ماسکو کی سڑکوں پر پمفلٹ تقسیم کر رہی تھیں اور ووٹروں سے ’’امن کو ووٹ‘‘ دینے کی اپیل کر رہی تھیں،ان کے قریب نصب ایک ڈیجیٹل اشتہار میں روسی شہریوں کو یوکرین میں لڑنے کے لیے فوج میں شامل ہونے کی ترغیب دی جا رہی تھی،لیرمانٹ لبرل جماعت یابلوکو کی امیدوار ہیں، جو یوکرین میں روس کی جنگ کی مخالفت کرتی ہے
روس میں پارلیمانی انتخابات 18 سے 20 ستمبر تک ہوں گے، جن میں 450 نشستوں والی اسٹیٹ ڈوما کے ارکان منتخب کیے جائیں گے،حکمران یونائیٹڈ رشیا پارٹی کے پارلیمان میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کی توقع کی جا رہی ہے،رائٹرز کے مطابق جنگ کی مخالفت کرنے والے متعدد امیدوار انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے
لیرمانٹ نے رائٹرز کو بتایا کہ انہیں خدشہ ہے کہ حکام ان کی انتخابی سرگرمیوں کو قانون کی خلاف ورزی قرار دے کر ان کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں،ان کے مطابق، یابلوکو کے کئی رہنما جنگ سے متعلق بیانات کے باعث قانونی کارروائی کا سامنا کر چکے ہیں،یابلوکو کے رہنما لیو شلوسبرگ کو گزشتہ ماہ جنگ سے متعلق بیانات پر 11 سال قید، جبکہ نائب سربراہ میکسم کروگلوف کو جون میں اسی نوعیت کے الزامات پر 7 سال قید کی سزا سنائی گئی
یابلوکو یوکرین میں جنگ بندی کا مطالبہ کرتی ہے،جماعت کے مطابق، اس کے بیشتر امیدوار انتخابی قواعد کی خلاف ورزی سے متعلق عدالتی فیصلوں کے بعد انتخابی مقابلے سے باہر ہو گئے،لیرمانٹ ماسکو کے ان امیدواروں میں شامل ہیں جو اب بھی انتخاب لڑ رہی ہیں،انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ووٹروں کو یہ بتانا ضروری ہے کہ وہ اپنی سیاسی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں اور امن کے حق میں ووٹ دے سکتے ہیں
کریملن کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران معلومات پر پابندیاں اور قومی اتحاد ضروری ہیں،روسی حکام کا مؤقف ہے کہ یوکرین کی انٹیلی جنس اور دیگر مخالف قوتیں روس میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں،روس میں فوج کو بدنام کرنے یا حکام کے مطابق غلط معلومات پھیلانے پر قانونی سزائیں بھی مقرر ہیں
رائٹرز کے مطابق لیواڈا سینٹر کے ایک سروے میں 60 فیصد سے زیادہ جواب دہندگان نے امن مذاکرات کی حمایت کی،تاہم یابلوکو کی عوامی حمایت کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے، کیونکہ بعض بڑے انتخابی سروے میں اس جماعت کو باقاعدگی سے شامل نہیں کیا جاتا

قومی خبریں سے مزید