ترکیہ میں ایل جی بی ٹی کیو کارکنوں اور صحافیوں کے خلاف کریک ڈاؤن، درجنوں گرفتار

ترکیہ میں ایل جی بی ٹی کیو کارکنوں اور صحافیوں کے خلاف کریک ڈاؤن، درجنوں گرفتار

انقرہ :ترکیہ میں حکام نے ایل جی بی ٹی کیو کمیونٹی، انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے درجنوں افراد کو گرفتار کرلیا ہے،یہ کارروائیاں مبینہ فحش مواد اور دیگر الزامات کے تحت شروع کی گئی تحقیقات کا حصہ ہیں
پولیس نے اتوار کی صبح استنبول، دارالحکومت انقرہ، ازمیر، آیدن اور مرسین میں ایل جی بی ٹی کیو حقوق کی تنظیموں اور ایچ آئی وی سے متعلق کام کرنے والے گروپوں کے دفاتر پر بیک وقت چھاپے مارے،حکام کے مطابق کارروائی میں متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا، جبکہ بعض تنظیموں کے خلاف انہیں بند کرنے کی قانونی کارروائی بھی شروع کردی گئی ہے
ترکیہ کے وزیر انصاف آکن گورلیک نے کارروائی کو ’’میرا خاندان محفوظ ہے‘‘ مہم کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد بچوں، خاندان اور عوامی نظم و ضبط کا تحفظ ہے،حکام نے بعض افراد پر فحش مواد پھیلانے کے الزامات عائد کیے ہیں،رائٹرز کے مطابق 8 ایل جی بی ٹی کیو کارکنوں کو مقدمے کی کارروائی مکمل ہونے تک جیل بھیج دیا گیا، جبکہ دیگر افراد کو عدالتی نگرانی میں رہا کیا گیا
کارروائی کے خلاف استنبول میں مظاہرہ کرنے والے افراد پر بھی پولیس نے کارروائی کی،حکام نے درجنوں مظاہرین کو حراست میں لیا اور پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی،مختلف رپورٹس کے مطابق مجموعی طور پر 100 سے زائد افراد کو احتجاج کے دوران حراست میں لیا گیا
صحافی بھی اس کارروائی کی زد میں آئے ہیں، جبکہ حکام نے ایل جی بی ٹی کیو تنظیموں اور کارکنوں سے وابستہ متعدد ویب سائٹس اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک رسائی بھی محدود کردی ہے،انسانی حقوق کی تنظیموں نے کارروائی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسے اظہار رائے اور بنیادی حقوق پر پابندی قرار دیا ہے،یورپی کونسل کے انسانی حقوق کمشنر نے بھی گرفتار افراد کی رہائی اور ’’خاندانی اقدار‘‘ کو انسانی حقوق محدود کرنے کے جواز کے طور پر استعمال نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے
ترکیہ میں ہم جنس پرست ہونا بذات خود جرم نہیں، تاہم گزشتہ برسوں میں ایل جی بی ٹی کیو تنظیموں، اجتماعات اور پرائیڈ مارچز پر پابندیاں اور دیگر انتظامی اقدامات میں اضافہ ہوا ہے،موجودہ کارروائی کو حکام خاندانی اقدار اور عوامی نظم کے تحفظ سے جوڑ رہے ہیں، جبکہ متاثرہ تنظیمیں اور انسانی حقوق کے گروپ اسے ایل جی بی ٹی کیو سرگرمیوں اور اظہار رائے کے خلاف وسیع تر کریک ڈاؤن قرار دے رہے ہیں

قومی خبریں سے مزید