اسلام آباد مارچ سے پہلے پی ٹی آئی کے خلاف کریک ڈاؤن،
سیکڑوں افراد کی نظر بندی
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاجی مارچ کی تیاریوں کے درمیان حکومت نے ملک بھر میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مختلف انتظامی اقدامات شروع کر دیے ہیں کم از کم 155 افراد کے خلاف حفاظتی نظر بندی کے احکامات جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید افراد کی گرفتاریوں کے لیے فہرستیں بھی تیار کی گئی ہیں
رپورٹ کے مطابق پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں، جبکہ اسلام آباد اور دیگر علاقوں میں ممکنہ احتجاج کو روکنے کے لیے کنٹینرز اور سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں پنجاب میں جلسوں اور عوامی اجتماعات پر پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ دفعہ 144 بھی نافذ کر دی گئی ہے اور دیگر علاقوں میں بھی اس کے نفاذ کی تیاری کی جا رہی ہے
حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ احتجاج کے دوران تشدد، بدامنی اور سرکاری و عوامی املاک کو نقصان سے بچانے کے لیے پیشگی اقدامات ضروری ہیں تاہم اس معاملے پر سیاسی اور قانونی بحث بھی جاری ہے کہ ایسے افراد کے خلاف کارروائی کی حد کیا ہونی چاہیے جن پر کسی جرم کا ارتکاب کرنے کا الزام نہیں
پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کے اسلام آباد مارچ کو اپنے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے مطالبے سے جوڑا ہے۔ پارٹی کارکنوں کو متحرک کرنے کے لیے مختلف شہروں میں سرگرمیاں بڑھائی جا رہی ہیں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بھی پارٹی کارکنوں سے ملاقاتوں اور مارچ کے لیے تنظیمی تیاریوں کے سلسلے میں راولپنڈی پہنچ رہے ہیں
ملک میں اس معاملے پر بنیادی سوال سیاسی احتجاج کے حق، امن و امان برقرار رکھنے کی حکومتی ذمہ داری اور احتجاج کے دوران قانون کی پابندی کے درمیان توازن کا ہے پاکستان میں ماضی کے متعدد احتجاج بعض مواقع پر تشدد میں تبدیل ہوئے ہیں، تاہم موجودہ اقدامات کے حوالے سے یہ بحث بھی جاری ہے کہ کسی ممکنہ خلاف ورزی سے پہلے بڑے پیمانے پر نظر بندی اور پابندیاں کس حد تک قانونی اور متناسب ہیں





