حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں سے مشرق وسطیٰ خطرناک موڑ پر پہنچ گیا، پاکستان

حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں سے مشرق وسطیٰ خطرناک موڑ پر پہنچ گیا، پاکستان

پاکستان نے اقوام متحدہ کو خبردار کیا ہے کہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں اور باب المندب آبنائے کے اطراف فوجی کارروائیوں میں اضافے نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو ایک خطرناک موڑ پر پہنچا دیا ہے
اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندے نے کہا کہ سعودی عرب کے خلاف حملوں کا پھیلاؤ اور باب المندب کے قریب بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں ایک سنگین کشیدگی کی علامت ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال صرف سعودی عرب اور یمن تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے خطے اور عالمی تجارت پر پڑ سکتے ہیں
باب المندب آبنائے بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان ایک انتہائی اہم بحری راستہ ہے اس راستے سے تیل، توانائی اور دیگر تجارتی سامان کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اس لیے یہاں کشیدگی بڑھنے سے عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے
حالیہ دنوں میں حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے سعودی حکام نے حوثیوں پر ڈرون اور میزائل حملوں کے الزامات عائد کیے ہیں، جبکہ حوثی ان میں سے بعض الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں سعودی عرب نے خاص طور پر مکہ مکرمہ کی جانب مبینہ ڈرون حملے کے معاملے کو انتہائی حساس قرار دیا ہے
پاکستان نے خطے میں مزید کشیدگی سے بچنے اور تنازع کو وسیع ہونے سے روکنے پر زور دیا ہے اسلام آباد ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات رکھتا ہے جبکہ دوسری جانب ایران کے ساتھ بھی سفارتی رابطے برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جس سے پاکستان کا کردار مزید حساس ہوگیا ہے
اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں دوبارہ بڑھنے والی لڑائی پہلے ہی بڑے انسانی بحران کو جنم دے رہی ہے حالیہ لڑائی کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد اندرونِ ملک بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ مزید لوگ سمندری راستے سے نقل مکانی کر رہے ہیں
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں مزید فوجی کشیدگی کے بجائے سفارتی کوششوں اور تحمل کی ضرورت ہے، کیونکہ سعودی عرب، یمن، ایران اور بحیرہ احمر کے اہم بحری راستوں کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی پورے مشرق وسطیٰ کو وسیع تر بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے

قومی خبریں سے مزید