پابندی کے 10 سال بعد بھی زہریلی مرکری والی رنگ گورا کرنے کی کریمیں آن لائن فروخت
دنیا بھر میں مرکری والی رنگ گورا کرنے کی مصنوعات پر پابندی کے باوجود زہریلی جلد سفید کرنے والی درجنوں مصنوعات اب بھی بڑی آن لائن خرید و فروخت کی ویب سائٹس پر دستیاب ہیں ایک تازہ تحقیقات میں ایسی 20 سے زائد مصنوعات کی نشاندہی کی گئی ہے جو ایمیزون، ٹیمو اور ٹک ٹاک شاپ کے ذریعے مختلف ممالک میں صارفین کو فروخت کے لیے پیش کی جا رہی ہیں
یہ معاملہ اس لیے سنگین ہے کہ 2013 کے منی میٹا کنونشن کے تحت مرکری والی ایسی مصنوعات کی تیاری، درآمد اور فروخت پر عالمی سطح پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ 150 سے زیادہ ممالک اس معاہدے کا حصہ ہیں عالمی ادارہ صحت کے مطابق مرکری گردوں، دماغ اور اعصابی نظام کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے
تحقیقات کے مطابق یکم ستمبر تک امریکہ میں ایمیزون، ٹیمو اور ٹک ٹاک کے آن لائن پلیٹ فارمز کے علاوہ فرانس، بھارت، متحدہ عرب امارات اور بیلجیئم میں ایمیزون کے تیسرے فریق کے فروخت کنندگان کے ذریعے بھی ایسی مصنوعات دستیاب تھیں حیران کن بات یہ ہے کہ ان میں سے کسی بھی مصنوعات کے اجزا کی فہرست میں مرکری درج نہیں تھا، جبکہ آزادانہ طور پر ہر پروڈکٹ میں زہریلے مادے کی موجودگی کی تصدیق نہیں کی جا سکی
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ بعض فروخت کنندگان پابندی سے بچنے کے لیے مصنوعات کو گمراہ کن ناموں سے دوبارہ فروخت کرتے ہیں ویب سائٹ سے کوئی پروڈکٹ ہٹائے جانے کے بعد وہی یا ملتی جلتی چیز بعض اوقات نئے فروخت کنندہ یا نئے نام کے ساتھ دوبارہ سامنے آ جاتی ہے، جس سے نگرانی کرنے والے اداروں کے لیے ان کی فروخت روکنا مشکل ہو جاتا ہے
مرکری ان مصنوعات میں جلد کا رنگ ہلکا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے کیونکہ یہ جلد میں رنگ پیدا کرنے والے مادے کی تیاری کو متاثر کرتا ہے صحت کے ماہرین کے مطابق اس کا مسلسل یا زیادہ مقدار میں استعمال گردوں، دماغ اور اعصابی نظام کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جبکہ حاملہ خواتین اور بچوں کے لیے بھی اس کے اثرات تشویش کا باعث بن سکتے ہیں
رنگ گورا کرنے والی مصنوعات کی عالمی مارکیٹ اربوں ڈالر کی ہے اور ایشیا، افریقہ اور کیریبین سمیت کئی خطوں میں ان کا استعمال عام ہے فوری نتائج اور نسبتاً کم قیمت کی وجہ سے صارفین ایسی مصنوعات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، جبکہ بعض اوقات انہیں یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان میں خطرناک کیمیائی مادے موجود ہو سکتے ہیں
یہ صورتحال اس سوال کو بھی نمایاں کرتی ہے کہ عالمی سطح پر پابندی عائد ہونے کے باوجود آن لائن مارکیٹ پلیٹ فارمز پر ممنوع اور ممکنہ طور پر زہریلی مصنوعات صارفین تک کیسے پہنچ رہی ہیں اور ان کی نگرانی اور روک تھام کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں





