فوکس نیوز کا الزام: کام کرنے والے امریکیوں کے مفاد میں پارٹی سے اختلاف کرنے والے دو ڈیموکریٹ ارکان بھی قیادت کے عتاب کا شکار
واشنگٹن: امریکی سیاست میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر پارٹی قیادت اور نسبتاً معتدل ارکان کے درمیان اختلافات ایک بار پھر نمایاں ہوگئے ہیں،فوکس نیوز کے ایک تجزیاتی مضمون میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ڈیموکریٹک قیادت نے ان ارکان کے خلاف کارروائی کا اشارہ دیا ہے جنہوں نے پارٹی لائن سے ہٹ کر اپنے حلقوں کے معاشی مفادات کو ترجیح دی،مضمون میں خاص طور پر مین سے رکنِ ایوان نمائندگان جیرڈ گولڈن اور واشنگٹن ریاست سے میری گلوسین کیمپ پیریز کا معاملہ نمایاں کیا گیا ہے
یہ تنازعہ یکم ستمبر کو ایوان نمائندگان میں ہونے والی ایک اہم ووٹنگ کے بعد شروع ہوا، جب گولڈن اور گلوسین کیمپ پیریز نے ری پبلکن ارکان کے ساتھ مل کر ایک طریقہ کار کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا،اس قرارداد کی منظوری سے گولڈن کے Northeast Lobsterman Protection Act اور سوشلزم کی مذمت سے متعلق ایک قرارداد سمیت متعدد معاملات کو ایوان میں زیر بحث لانے کا راستہ کھلا،ووٹنگ 210 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے ہوئی، جس میں پانچ ری پبلکن ارکان نے بھی مخالفت کی، یوں دونوں ڈیموکریٹ ارکان کے ووٹ فیصلہ کن ثابت ہوئے
گولڈن کا تعلق مین سے ہے، جہاں لابسٹر کا کاروبار ساحلی معیشت کا اہم حصہ ہے،فوکس نیوز کے مطابق ان کی حمایت حاصل کرنے والی قانون سازی کا مقصد مین کی لابسٹر صنعت پر عائد بعض ضابطوں سے متعلق مسائل کو حل کرنا ہے،گلوسین کیمپ پیریز واشنگٹن کی ایسی نشست کی نمائندگی کرتی ہیں جہاں ماہی گیری اور قدرتی وسائل سے وابستہ صنعتیں بھی مقامی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں
تاہم ڈیموکریٹک قیادت نے دونوں ارکان کے فیصلے کو محض مقامی معاشی مفادات کا معاملہ نہیں سمجھا،ایوان میں ڈیموکریٹک اقلیتی رہنما حکیم جیفریز نے کہا کہ انہیں دونوں ارکان کی جانب سے ووٹ سے پہلے اطلاع نہیں دی گئی تھی اور اس اقدام کو “اہم اعتماد شکنی” قرار دیتے ہوئے ممکنہ کارروائی کا عندیہ دیا،ڈیموکریٹک قیادت نے معاملے کا جائزہ پارٹی کے متعلقہ قواعد و ضوابط کے ادارے سے لینے کا بھی کہا
میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پارٹی کے اندر اس ووٹ پر خاصی ناراضگی پیدا ہوئی،سابق اسپیکر نینسی پیلوسی نے بھی دونوں ارکان کے اقدام پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں کسی رکن کا اس نوعیت کے طریقہ کار کے ووٹ میں پارٹی سے اس طرح الگ ہونا معمول نہیں تھا
فوکس نیوز کے تجزیے کا مرکزی سیاسی دعویٰ یہ ہے کہ ڈیموکریٹک قیادت کا ردعمل اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ پارٹی کے ارکان کے لیے مقامی ووٹروں کے مفادات زیادہ اہم ہونے چاہئیں یا پارٹی قیادت کی اجتماعی پوزیشن؟ مضمون کی مصنفہ میہک کوک نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ گولڈن اور گلوسین کیمپ پیریز نے ماہی گیروں، چھوٹے کاروباروں اور محنت کش طبقے سے وابستہ اپنے حلقوں کے مفادات کو پارٹی پالیسی پر ترجیح دی، اور اسی وجہ سے انہیں پارٹی کے اندر مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
اس تنازعہ کا دوسرا اہم پہلو سوشلزم کی مذمت سے متعلق قرارداد ہے،فوکس نیوز کے مطابق ایوان نے بعد میں سوشلزم کی مذمت کی قرارداد منظور کی، تاہم 192 ڈیموکریٹ ارکان نے اس کے خلاف ووٹ دیا جبکہ صرف 8 ڈیموکریٹس نے ری پبلکن ارکان کے ساتھ اس کی حمایت کی،ڈیموکریٹس کا کہنا تھا کہ اصل قرارداد میں ری پبلکن انتخابی سلامتی کی تجاویز بھی شامل تھیں،چار ڈیموکریٹ ارکان نے سوشلزم کی مذمت کے لیے ایک الگ ترمیم پیش کرنے کی کوشش بھی کی جس میں وہ اضافی دفعات شامل نہیں تھیں، لیکن اس ترمیم پر ووٹنگ نہیں ہوئی
فوکس نیوز نے اس واقعے کو ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر معاشی نظریے اور پارٹی کی سمت پر وسیع تر بحث سے جوڑا ہے،مضمون کا استدلال ہے کہ ایک طرف پارٹی خود کو محنت کش امریکیوں کی نمائندہ قرار دیتی ہے، جبکہ دوسری طرف پارٹی کے اندر ایسے ارکان کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو بعض ری پبلکن تجاویز کی حمایت کرتے ہیں یا اپنی مقامی صنعتوں کے حق میں پارٹی لائن سے اختلاف کرتے ہیں
مضمون میں Pew Research Center کے اعداد و شمار کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جن کے مطابق 60 فیصد امریکی بالغ خود کو “working class” سے بہت زیادہ یا انتہائی حد تک وابستہ سمجھتے ہیں، جبکہ 2024 میں یہ شرح 54 فیصد تھی،فوکس نیوز کا تجزیہ اسی بنیاد پر یہ سوال اٹھاتا ہے کہ محنت کش طبقے کے نام پر سیاست کرنے والی کسی بھی جماعت کے لیے اس طبقے سے متعلق مقامی معاشی مسائل پر اپنے ارکان کے اختلاف کو کس طرح دیکھا جائے گا
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس واقعے کی آزادانہ رپورٹنگ میں بھی پارٹی کے اندر کشیدگی کی تصدیق ہوئی ہے، لیکن اس کی تعبیر فوکس نیوز کے مقابلے میں مختلف ہے،Axios کے مطابق اصل تنازعہ میں پارٹی قیادت کو ووٹ سے پہلے اطلاع نہ دینا اور ری پبلکن طریقہ کار کی قرارداد کو آگے بڑھانے میں مدد دینا مرکزی مسئلہ تھا، جبکہ فوکس نیوز اسے پارٹی وفاداری بمقابلہ مقامی ووٹروں کے مفاد کی بڑی سیاسی کشمکش کے طور پر پیش کرتا ہے
یوں اس پورے معاملے میں خبر اور رائے کے درمیان فرق اہم ہے،یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ دو ڈیموکریٹ ارکان نے پارٹی کے متعدد ساتھیوں کے برخلاف ووٹ دیا، اس ووٹ سے قرارداد 210-208 سے منظور ہوئی اور حکیم جیفریز نے اسے “اعتماد شکنی” قرار دیتے ہوئے ممکنہ کارروائی کا اشارہ دیا،لیکن یہ کہنا کہ ڈیموکریٹک پارٹی محنت کش امریکیوں کے خلاف یا صرف پارٹی وفاداری کی بنیاد پر کام کر رہی ہے، فوکس نیوز کے تجزیے اور سیاسی تعبیر کا حصہ ہے، غیر جانب دار طور پر ثابت شدہ نتیجہ نہیں






