کینیڈا کی اہم سرکاری ملازمتوں میں نسلی شناخت کو ترجیح دینے کا انکشاف، 42 فیصد آسامیوں میں گروہی بنیاد پر انتخاب کا امکان
کینیڈا کی وفاقی حکومت کی سرکاری ملازمتوں میں نسلی شناخت، جنس اور دیگر گروہی شناختوں کی بنیاد پر امیدواروں کو ترجیح دینے کے حوالے سے ایک نئی رپورٹ نے اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فروری سے جولائی 2026 کے دوران شائع ہونے والی 301 وفاقی ملازمتوں کی آسامیوں کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے 42 فیصد میں واضح یا ممکنہ طور پر کسی مخصوص گروہ سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو ترجیح دینے کی گنجائش موجود تھی
رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ صرف معمول کی تنوع اور شمولیت کی حوصلہ افزائی تک محدود نہیں تھا بلکہ بعض ملازمتوں کے اشتہارات میں واضح طور پر بتایا گیا کہ مخصوص گروہوں سے تعلق رکھنے والے اہل امیدواروں کو انتخاب کے مرحلے میں ترجیح دی جا سکتی ہے
اس کی ایک نمایاں مثال کینیڈا کے محکمہ دفاع کی جانب سے فروری 2026 میں جاری کی گئی دفاعی انٹیلی جنس افسر کی آسامی تھی اس اشتہار میں کہا گیا تھا کہ نمائندہ افرادی قوت تشکیل دینے کے لیے انتخاب ایسے اہل امیدواروں کی خود ظاہر کردہ شناخت کی بنیاد پر بھی ہو سکتا ہے جو مقامی باشندوں، نظر آنے والی اقلیتی برادریوں، معذور افراد یا خواتین میں شامل ہوں
اسی طرح ٹرانسپورٹ کینیڈا کی فضائی حفاظت کے انسپکٹر کی آسامی میں امیدواروں سے پوچھا گیا کہ آیا وہ مخصوص روزگار کے مساواتی گروہوں میں شامل ہیں کینیڈا پارکس کی ہنگامی انتظامی عہدے کی ایک آسامی میں بھی امیدواروں کو روزگار میں مساوات کے مخصوص گروہوں سے تعلق ظاہر کرنے کی ترغیب دی گئی تھی
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض وفاقی محکموں میں یہ رجحان انتہائی نمایاں ہے کینیڈا کے محکمہ ماہی گیری و سمندری امور، محکمہ زراعت و زرعی خوراک اور قومی تحقیقی کونسل کی زیر جائزہ تمام ملازمتوں میں گروہی شناخت کی بنیاد پر واضح یا ممکنہ ترجیح کا ذکر پایا گیا محکمہ دفاع کی 92 فیصد آسامیوں میں بھی ایسی شقیں موجود تھیں
اس رپورٹ کے مطابق حکومت کی مساواتی پالیسیوں کے تحت بعض اداروں میں خواتین، مقامی باشندوں، اقلیتی گروہوں اور معذور افراد کی نمائندگی بڑھانے کے لیے مخصوص اہداف بھی مقرر کیے گئے ہیں مثال کے طور پر محکمہ دفاع کے 2018 کے داخلی اہداف میں وردی پہننے والے اہلکاروں میں خواتین کی نمائندگی 25 فیصد، مقامی باشندوں کی 3.5 فیصد اور نظر آنے والی اقلیتوں کی 11.8 فیصد تک پہنچانے کے اہداف شامل تھے
رپورٹ تیار کرنے والے ادارے کا مؤقف ہے کہ شناخت کی بنیاد پر انتخاب کا بڑھتا ہوا استعمال وفاقی ملازمتوں کے نظام کی غیر جانب داری اور عوام کے اعتماد کو متاثر کر سکتا ہے تاہم اس رپورٹ کے نتائج پر اختلاف بھی موجود ہے اور اس کے ناقدین کا کہنا ہے کہ صرف ملازمتوں کے اشتہارات میں مساوات اور تنوع سے متعلق شقوں کی موجودگی سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہر صورت میں حتمی بھرتی نسلی بنیاد پر ہوئی یا میرٹ کو نظر انداز کیا گیا
یہ بحث اس لیے بھی اہم ہے کہ وفاقی حکومت ایک طرف سرکاری اداروں میں آبادی کے مختلف طبقات کی نمائندگی بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ سرکاری ملازمتوں، خصوصاً انٹیلی جنس، دفاع، حفاظت اور ہنگامی انتظام جیسے حساس شعبوں میں میرٹ اور پیشہ ورانہ اہلیت کے ساتھ شناخت کی بنیاد پر ترجیح کی حد کہاں تک ہونی چاہیے






