دنیا کے انتہائی امیر طبقے اور دائیں بازو کی انتہا پسندی کے بڑھتے اثرات پر سخت انتباہ
لندن: ایک نئے تجزیے میں دنیا کے انتہائی دولت مند افراد اور قوم پرست دائیں بازو کی بڑھتی ہوئی سیاسی طاقت کے معاشرتی اور سیاسی اثرات پر سخت تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اس طرز سیاست کو معمول سمجھ لیا گیا تو اس کے تباہ کن اثرات مزید گہرے ہوسکتے ہیں
تجزیے کے مطابق موجودہ دور کے انتہائی دائیں بازو کے قوم پرست جوں جوں زیادہ سیاسی طاقت حاصل کر رہے ہیں، ان کے اشتعال انگیز اور تباہ کن سیاسی رویوں کے معمول بن جانے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے،تجزیے میں کہا گیا ہے کہ دنیا کو اس بات کو معمول نہیں سمجھنا چاہیے کہ دنیا کے سب سے بڑے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کے حامل ملک کا سربراہ انتہائی سنگین تباہی کی دھمکیوں کو معمولی انداز میں پیش کرے
تحریر میں دنیا کے پہلے کھرب پتی کے طور پر بیان کیے جانے والے ایک انتہائی بااثر ارب پتی کی جانب سے نسل پرستانہ سازشی نظریات کے وسیع پیمانے پر پھیلاؤ کو بھی تشویش ناک قرار دیا گیا ہے
تجزیے میں برطانیہ کی سیاست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایک ایسی سیاسی جماعت جو مستقبل میں حکومت بنانے کی مضبوط امیدوار سمجھی جا رہی ہے، اسی بین الاقوامی دائیں بازو کی تحریک کے اثرات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اقتدار کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے
تجزیے کے مطابق اس صورت حال کا مقابلہ محض تنقید سے نہیں بلکہ ترقی پسند سیاسی اور معاشی اقدامات کے ذریعے کیا جانا ضروری ہے، تاکہ دولت اور سیاسی طاقت کے بڑھتے ہوئے ارتکاز سے پیدا ہونے والے نقصانات کا ازالہ کیا جاسکے





