اے آئی کی طلب پوری کرنے کے لیے ’ہمیشہ باقی رہنے والے‘ کیمیکلز کی پیداوار میں اضافے کا خدشہ

اے آئی کی طلب پوری کرنے کے لیے ’ہمیشہ باقی رہنے والے‘ کیمیکلز کی پیداوار میں اضافے کا خدشہ

لندن: مصنوعی ذہانت کی صنعت کے لیے ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کی خاطر پی ایف اے ایس کیمیکلز کی پیداوار میں بڑے اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے،ماحولیاتی کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں ان کیمیکلز کی پیداوار کی ایک نئی ’لہر‘ شروع ہونے والی ہے
پی ایف اے ایس ایسے کیمیکلز کا وسیع گروپ ہے جو ماحول میں انتہائی طویل عرصے تک موجود رہنے کی وجہ سے عام طور پر ’ہمیشہ باقی رہنے والے کیمیکلز‘ کہلاتے ہیں،بعض پی ایف اے ایس مرکبات کو صحت کے سنگین مسائل، جن میں بعض اقسام کے سرطان کا خطرہ بھی شامل ہے، سے جوڑا گیا ہے
رپورٹ کے مطابق پی ایف اے ایس بنانے والی دنیا کی 10 بڑی کمپنیوں کا جائزہ لیا گیا تو ان میں سے بیشتر نے پیداوار بڑھانے کے منصوبوں کا اشارہ دیا،اس اضافے کی ایک بڑی وجہ مصنوعی ذہانت کے لیے بنائے جانے والے ڈیٹا سینٹرز کی تیزی سے بڑھتی ضروریات ہیں
ڈیٹا سینٹرز میں استعمال ہونے والے جدید آلات اور بجلی کے نظام میں ایسی صنعتی مصنوعات اور مواد کی ضرورت بڑھ رہی ہے جن میں پی ایف اے ایس مرکبات استعمال ہوتے ہیں،اسی وجہ سے اے آئی کی عالمی توسیع ان کیمیکلز کی طلب میں اضافے کا ایک نیا محرک بن رہی ہے
ماحولیاتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایک طرف حکومتیں پی ایف اے ایس کے انسانی صحت اور ماحول پر ممکنہ نقصانات کم کرنے کے لیے ضوابط سخت کر رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف مصنوعی ذہانت کی صنعت کی تیز رفتار ترقی ان کیمیکلز کی پیداوار میں اضافے کا نیا دباؤ پیدا کر رہی ہے

قومی خبریں سے مزید