ٹرمپ بڑے کرپٹو قانون میں اخلاقی شق شامل کرنے پر رضامند، ریپبلکن سینیٹرز کا دعویٰ
واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرپٹو کرنسی سے متعلق ایک بڑے قانون میں شامل سخت اخلاقی ضوابط کی اہم شق پر اتفاق کرلیا ہے،ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے قانون کے 3 اہم ریپبلکن مصنف سینیٹرز
سنتھیا لُمس (Cynthia Lummis)، ریاست وائیومنگٹم اسکاٹ (Tim Scott)، ریاست جنوبی کیرولائناجان بوزمین (John Boozman)، ریاست آرکنساس
یہ تینوں اسی کرپٹو قانون کے اہم ریپبلکن مصنفین ہیں جنہوں نے بتایا کہ ٹرمپ نے اخلاقی شق کی تقریباً 80 فیصد تجاویز پر اتفاق کیا ہے، جس میں ریاستی اٹارنی جنرلز کو قانون نافذ کرنے کا بامعنی اختیار دینا بھی شامل ہے۔ نے یہ بات بتائی ہے،یہ قانون رواں ہفتے سینیٹ میں ایک اہم ووٹنگ کے مرحلے سے گزرنے والا ہے
ابتدائی مسودے میں صرف یہ پابندی شامل تھی کہ وفاقی سطح پر منتخب تمام عہدیدار، ان کے شریک حیات اور وفاقی جج ڈیجیٹل اثاثے جاری نہیں کرسکیں گے،تاہم ڈیموکریٹس کے ایک اہم گروپ اور ریپبلکن سینیٹر تھام ٹلس نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ شق ٹرمپ کی کرپٹو دولت سے پیدا ہونے والے مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ کے خدشات کو دور کرنے کے لیے کافی نہیں
قانون کو منگل کی اہم ووٹنگ میں آگے بڑھانے کے لیے ان سینیٹرز کی حمایت ضروری ہے،ٹلس، ڈیموکریٹ سینیٹر روبن گایگو اور دیگر سینیٹرز نے مطالبہ کیا تھا کہ قانون میں ایسی شق شامل کی جائے جس کے تحت ریاستوں کے اٹارنی جنرل کو بھی قانون پر عمل درآمد کرانے کا اختیار حاصل ہو، تاکہ اس کی نگرانی صرف محکمہ انصاف تک محدود نہ رہے
نئی اخلاقی شق پر ٹرمپ کی رضامندی نے قانون کے لیے دو طرفہ حمایت حاصل کرنے کی کوششوں کو تقویت دی ہے، تاہم اس معاملے نے صدر کے ذاتی کرپٹو مفادات اور سرکاری اختیارات کے درمیان ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ پر جاری سیاسی بحث کو بھی نمایاں کردیا ہے






