ایکٹوپک حمل سے خواتین کی اموات میں تقریباً دگنا اضافہ، اسقاط حمل پر پابندی والی ریاستوں میں صورتحال زیادہ تشویشناک
ایک تحقیقاتی تجزیے کے مطابق حالیہ برسوں میں ایکٹوپک حمل، یعنی رحم کے بجائے جسم کے کسی دوسرے حصے میں ٹھہرنے والے حمل کے نتیجے میں خواتین کی اموات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے،امریکی مراکز برائے بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے اعداد و شمار میں سامنے آنے والی ان بڑھتی ہوئی اموات پر اب تک بہت کم توجہ دی گئی ہے
ایکٹوپک حمل عموماً حمل کے ابتدائی 3 ماہ میں اس وقت ہوتا ہے جب بارآور بیضہ رحم کے اندر پیوست ہونے کے بجائے کہیں اور نشوونما شروع کردے،زیادہ تر صورتوں میں یہ حمل فاللوپین ٹیوب میں ٹھہرتا ہے
جیسے جیسے حمل بڑھتا ہے، فاللوپین ٹیوب پھٹ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں جسم کے اندر شدید اور بعض اوقات جان لیوا خون بہنے لگتا ہے،بروقت طبی علاج نہ ملنے کی صورت میں یہ صورتحال چند گھنٹوں میں موت کا سبب بن سکتی ہے
اعداد و شمار کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایکٹوپک حمل سے ہونے والی اموات میں حالیہ برسوں کے دوران تقریباً 2 گنا اضافہ ہوا ہے، جبکہ اسقاط حمل پر پابندی عائد کرنے والی ریاستوں میں یہ اضافہ زیادہ نمایاں نظر آتا ہے
یہ صورتحال اس بحث کو بھی نئی اہمیت دیتی ہے کہ اسقاط حمل پر عائد سخت قوانین ایسے طبی حالات میں ڈاکٹروں کی فیصلہ سازی اور خواتین کو فوری علاج فراہم کرنے کی صلاحیت کو کس حد تک متاثر کر سکتے ہیں





