پاکستان میں انسانی جان کتنی سستی ہے؟ ہرنائی کی کان میں گیس دھماکا، 4 کان کن ہلاک
بلوچستان کے ضلع ہرنائی کے علاقے شاہرگ میں کوئلے کی کان میں میتھین گیس کے دھماکے نے ایک بار پھر پاکستان میں مزدوروں کی زندگی کے تحفظ پر انتہائی سنگین سوالات کھڑے کردیئے ہیں حادثے میں 4 کان کن ہلاک اور 4 زخمی ہوگئے، جبکہ کان کے اندر پھنسے مزدوروں کو نکالنے کے لیے ریسکیو کارروائی کرنا پڑی
حادثہ کوئلے کی کان نمبر 151 میں پیش آیا جہاں کان کے اندر میتھین گیس جمع ہونے کے بعد اچانک دھماکا ہوا دھماکے کے نتیجے میں کان کے اندر آگ پھیل گئی اور وہاں کام کرنے والے کان کن پھنس گئے امدادی ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے ہلاک ہونے والے کان کنوں کی لاشیں اور زخمیوں کو باہر نکالا۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا
اس حادثے کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں کوئلے کی کانوں میں اس نوعیت کے حادثات کوئی نئی بات نہیں۔ گیس دھماکے، کان بیٹھنے اور دیگر حادثات میں غریب مزدور بار بار اپنی جانیں کھوتے ہیں، لیکن ہر حادثے کے بعد چند بیانات، تحقیقات اور معاوضے کے اعلانات کے بعد معاملہ دوبارہ پس منظر میں چلا جاتا ہے
سوال یہ ہے کہ اگر خطرناک گیس کی موجودگی کا خطرہ پہلے سے معلوم ہے تو کانوں میں جدید گیس ڈیٹیکٹر، مؤثر وینٹی لیشن، حفاظتی سامان، ہنگامی راستے اور فوری ریسکیو نظام کیوں یقینی نہیں بنائے جاتے؟ اگر حفاظتی قوانین موجود ہیں تو ان پر سختی سے عمل کیوں نہیں کروایا جاتا؟ اور اگر کسی کان کا حفاظتی نظام ناقص ہو تو مزدوروں کو وہاں کام کرنے کی اجازت آخر کیوں دی جاتی ہے؟
پاکستان میں انسانی جان کے تحفظ کا بحران صرف کوئلے کی کانوں تک محدود نہیں سڑکوں کے حادثات، فیکٹریوں میں آگ، ناقص عمارتوں کے گرنے اور دیگر صنعتی حادثات میں بھی اکثر غریب اور محنت کش طبقہ ہی سب سے زیادہ نقصان اٹھاتا ہے مسئلہ صرف حادثہ نہیں بلکہ وہ پورا نظام ہے جو خطرات کو پہلے سے جانتے ہوئے بھی انہیں روکنے میں ناکام رہتا ہے
یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا پاکستان میں غریب مزدور کی جان کی قیمت اتنی کم ہے کہ حفاظتی اقدامات پر خرچ ہونے والی رقم بھی اس کی زندگی سے زیادہ اہم سمجھ لی جاتی ہے؟ طاقتور اور صاحب حیثیت افراد کے لیے جہاں حفاظت، قانون اور سہولیات کا ایک الگ معیار نظر آتا ہے، وہیں کانوں، فیکٹریوں اور تعمیراتی مقامات پر کام کرنے والے مزدور اکثر بنیادی حفاظتی سہولیات سے بھی محروم رہتے ہیں
ہرنائی کا تازہ حادثہ صرف 4 خاندانوں کا دکھ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک تلخ آئینہ ہے اگر ایک ہی نوعیت کے حادثات بار بار ہوتے رہیں، جانیں جاتی رہیں اور نظام اپنی بنیادی خامیوں کو دور نہ کرے تو پھر اسے محض حادثہ کہنا کافی نہیں یہ حفاظتی نظام، نگرانی اور جوابدہی کی مسلسل ناکامی بن جاتا ہے
جب تک مزدور کی جان کو محض ایک کارکن یا روزانہ اجرت کمانے والے شخص کے بجائے ایک مکمل انسانی زندگی نہیں سمجھا جائے گا، تب تک پاکستان کی کانوں اور دوسرے خطرناک کام کی جگہوں پر یہ سوال بار بار اٹھتا رہے گا کہ آخر یہاں انسانی جان کی قیمت کتنی ہے؟





