ٹورنٹو فلم فیسٹیول: سرخ قالین سے عالمی مارکیٹ تک، سنیما کی طاقت، سیاست اور جنوبی ایشیا کے لیے مواقع
تحریر و تحقیق، رپورٹ :عامر ارائیں
ٹورنٹو: دنیا کے بااثر فلمی میلوں میں شمار ہونے والا ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول اس سال اپنی 51ویں سالگرہ کے موقع پر 10 سے 20 ستمبر تک کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں جاری ہے،یعنی یہ 11 روزہ میلہ 20 ستمبر کو اختتام پذیر ہوگا،2026 کا فیسٹیول تقریباً 300 فلمیں پیش کر رہا ہے اور ان فلموں کا تعلق 66 ممالک سے بتایا گیا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ محض ہالی ووڈ یا کینیڈین سینما کی نمائش نہیں بلکہ عالمی فلمی صنعت کا ایک بڑا اجتماع بن چکا ہے
TIFF کی اصل اہمیت اس بات میں ہے کہ یہ صرف فلمیں دکھانے کی جگہ نہیں،یہاں ایک ہی وقت میں فلمی فن، سرمایہ کاری، تقسیم، اسٹریمنگ، میڈیا، ستاروں کی شہرت اور اگلے سال کے آسکر کی دوڑ ایک دوسرے سے ملتے ہیں،اس سال 6,000 سے زیادہ فلمی صنعت سے وابستہ مندوبین کی شرکت متوقع ہے، جبکہ دنیا بھر کے اداکار، ہدایت کار، پروڈیوسر، تقسیم کار اور میڈیا نمائندے ٹورنٹو پہنچتے ہیں
TIFF خود کو سیاسی جماعت، جمہوری تحریک یا سیکولر نظریاتی ادارے کے طور پر پیش نہیں کرتا۔ اس کا سرکاری مقصد فلم کے ذریعے دنیا کو دیکھنے کے انداز کو تبدیل کرنا ہے اور یہ ایک خیراتی ثقافتی ادارہ ہے
لیکن اس کی پروگرامنگ کا مزاج واضح طور پر کثرت، مختلف ثقافتوں، مختلف شناختوں، آزادیٔ اظہار، انسانی حقوق، سماجی انصاف اور متنوع تجربات کے لیے جگہ پیدا کرتا ہے،اس لیے اسے ’’لبرل جمہوری اقدار سے ہم آہنگ ثقافتی پلیٹ فارم‘‘ کہنا زیادہ درست ہوگا، بجائے اس کے کہ اسے براہ راست کسی سیاسی نظریے کا نمائندہ قرار دیا جائے
2026 کی فلموں میں معذور افراد کے حقوق، تارکین وطن، مذہب، جنسی تشدد، خاندانی بحران، نسلی اور سماجی شناخت، ٹیکنالوجی کی طاقت اور سیاسی اثر و رسوخ جیسے موضوعات نمایاں ہیں،مثال کے طور پر افتتاحی فلم Being Heumann معذور افراد کے حقوق کی کارکن جوڈی ہیومن کی زندگی پر ہے، جبکہ الیکس گبنی کی دستاویزی فلم Musk ٹیکنالوجی کے طاقتور ارب پتیوں اور ان کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ پر سوال اٹھاتی ہے
اس لحاظ سے TIFF کا سب سے بڑا نظریاتی وصف یہ ہے کہ یہ ایک ہی ’’سرکاری سچ‘‘ پیش کرنے کے بجائے مختلف کہانیوں کو ایک ہی عالمی پلیٹ فارم پر لا کر ناظر کو فیصلہ کرنے کا موقع دیتا ہے
یہاں صرف فلم نہیں، فلم کا مستقبل خریدا اور بیچا جاتا ہے
2026 TIF،کی سب سے بڑی تبدیلی اس کا نیا فلم مارکیٹ ہے۔ ٹورنٹو نے اب تک خود کو زیادہ تر ایک بڑے عوامی فلم فیسٹیول کے طور پر پیش کیا تھا، لیکن اس سال اس نے باقاعدہ عالمی فلم مارکیٹ کی طرف قدم بڑھایا ہے
نئی مارکیٹ 10 سے 16 ستمبر تک 7 روزہ صنعت مرکوز سرگرمیوں کے ساتھ چل رہی ہے،اس منصوبے کو شروع کرنے کے لیے کینیڈا کی حکومت کی جانب سے تقریباً 23 ملین کینیڈین ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے،مقصد ٹورنٹو کو شمالی امریکہ میں فلم، ٹیلی وژن اور اسٹریمنگ مواد کی خرید و فروخت کے بڑے مراکز میں شامل کرنا ہے
یہ رقم فیسٹیول کے پورے سالانہ اخراجات نہیں بلکہ نئی مارکیٹ کے قیام کے لیے مخصوص بڑی سرکاری سرمایہ کاری ہے،یہی فرق سمجھنا ضروری ہے
TIFF پر کتنا پیسہ خرچ ہوتا ہے؟
TIFF کے پورے 2026 فیسٹیول کا حتمی خرچ ابھی دستیاب نہیں، اس لیے کوئی ایک عدد بتانا گمراہ کن ہوگا،دستیاب تازہ مالی جائزوں کے مطابق TIFF کے ادارے نے ایک حالیہ سال میں اپنے پروگراموں پر تقریباً 32.7 ملین کینیڈین ڈالر خرچ کیے، جو اس کی آمدنی کا تقریباً 71 فیصد تھا، جبکہ اسی سال تقریباً 5.1 ملین کینیڈین ڈالر کا خسارہ بھی رپورٹ ہوا
اس لیے TIFF کو صرف ٹکٹوں سے چلنے والا کاروباری فلم میلہ سمجھنا غلط ہے،اس کے پیچھے حکومت، اسپانسرز، عطیات، ممبرشپ، ٹکٹوں، تجارتی سرگرمیوں اور دیگر آمدنی کے ذرائع کا ایک بڑا نظام موجود ہے
اور اس کا معاشی فائدہ صرف TIFF کے ادارے تک محدود نہیں رہتا،ہوٹل، ریستوران، ٹرانسپورٹ، مقامی کاروبار، میڈیا، ایونٹ کمپنیوں اور شہر کے تفریحی شعبے کو بھی اس عالمی اجتماع سے فائدہ پہنچتا ہے،TIFF کے سالانہ معاشی اثرات کا اندازہ تقریباً 240 ملین کینیڈین ڈالر لگایا گیا ہے
سرخ قالین کی اصل طاقت کیا ہے؟
بظاہر سرخ قالین صرف اداکاروں کی تصاویر، لباس اور مداحوں کی بھیڑ دکھائی دیتا ہے، لیکن فلمی صنعت میں اس کی معاشی اور مارکیٹنگ کی اہمیت کہیں زیادہ ہے
جب کوئی فلم ٹورنٹو میں عالمی یا شمالی امریکی پریمیئر کرتی ہے اور اس کے مرکزی اداکار سرخ قالین پر آتے ہیں تو دنیا بھر کے اخبارات، ٹیلی وژن، ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا پر فلم کا نام پھیلتا ہے،اس کے نتیجے میں فلم کے ٹریلر، پوسٹر، انٹرویوز اور ریویوز کو مفت عالمی تشہیر ملتی ہے
اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ TIFF میں عوامی ردعمل اور میڈیا کا شور کسی فلم کو آسکر کی دوڑ میں ابتدائی رفتار دے سکتا ہے ، فیسٹیول کا People’s Choice Award جیوری کے بجائے ناظرین کے ووٹ سے طے ہوتا ہے اور ماضی میں اس کے فاتحین اکثر آسکر نامزدگیوں تک پہنچے ہیں،اسی لیے ٹورنٹو کو بعض اوقات آسکر سیزن کا ابتدائی اشارہ سمجھا جاتا ہے
یعنی سرخ قالین دراصل فلم کا ’’عالمی اشتہار‘‘ ہے، جبکہ ناظرین کا ردعمل اس اشتہار کو اعتبار فراہم کرتا ہے
فیسٹیول میں کتنے پروگرام اور سیشن ہوتے ہیں؟
TIFF کو ایک واحد تقریب سمجھنا بھی غلط ہوگا،اس میں مختلف پروگرامنگ حصے شامل ہیں، جن میں Special Presentations، Centrepiece، Discovery، Platform، Midnight Madness، Short Cuts، Primetime، In Conversation With، Special Events اور Summit سمیت متعدد سلسلے شامل ہیں
اس کے علاوہ فلمی صنعت کے لیے الگ مارکیٹ اسکریننگز، ملاقاتیں، مذاکرات، پینل، انڈسٹری پروگرام اور خصوصی گفتگو ہوتی ہیں،اس لیے ’’کتنے سیشن‘‘ کا ایک سادہ عدد پوری تصویر نہیں دیتا؛ فیسٹیول دراصل سینکڑوں اسکریننگز اور درجنوں مختلف پروگرامنگ فارمیٹس پر مشتمل ایک پورا ثقافتی اور تجارتی نظام ہے
امریکہ کے بڑے نام کیوں اہم ہیں؟
2026 میں ٹورنٹو کے سرخ قالین پر ہالی ووڈ کے متعدد بڑے نام موجود ہیں، جن میں پینیلوپ کروز، نومی واٹس، ہیلن میرن، جولین مور، کرس راک، اینا کینڈرک، سیٹھ روزن، مہیرشالا علی، جان چو، گیانکارلو ایسپوزیٹو، لیام نیسن، ڈیوڈ ہاربر، سنتھیا ایریوو اور متعدد دوسرے معروف فنکار شامل ہیں
یہ ستارے صرف فلم کی تشہیر نہیں کرتے بلکہ ایک ایسے فیسٹیول کی عالمی حیثیت کو بھی مضبوط کرتے ہیں جہاں ایک ہی جگہ ہالی ووڈ اسٹوڈیوز، آزاد فلم ساز، یورپی سینما، ایشیائی فلمیں اور نئی نسل کے فنکار ایک دوسرے کے سامنے آتے ہیں
جنوبی ایشیا کے لیے TIFF کی اصل اہمیت
پاکستان، بھارت اور جنوبی ایشیا کے دوسرے ممالک کے لیے TIFF کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہاں فلم کو صرف اپنے ملک کے ناظرین کے سامنے نہیں بلکہ عالمی خریدار، اسٹریمنگ کمپنیاں، فلمی نقاد، ایوارڈ سیزن کے ووٹرز، بین الاقوامی میڈیا اور غیر ملکی تقسیم کار دیکھتے ہیں
پاکستانی فلم ساز کے لیے کسی فلم کا TIFF میں آنا اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ تجارتی طور پر کامیاب ہوگی، لیکن اسے عالمی فلمی صنعت کے دروازے تک پہنچا دیتا ہے،پاکستان کی فلم In Flames، جس کے کینیڈین پاکستانی ہدایت کار ضرار خان ہیں، پہلے TIFF میں نمایاں ہوئی اور بعد میں پاکستان کی آسکر کے لیے نامزد کردہ فلم بنی،2026 میں ضرار خان کی نئی فلم The Lion Does Not Concern Himself بھی Short Cuts پروگرام میں کینیڈا اور پاکستان کی مشترکہ شناخت کے ساتھ شامل ہے
اس سال پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان کی شرکت خاص طور پر اہم ہے،وہ Your Mother Your Mother Your Mother کے عالمی پریمیئر سے وابستہ ہیں اور ہدایت کار باسام طارق کے ساتھ فلم اور جنوبی ایشیائی تارکین وطن کی نمائندگی پر خصوصی گفتگو میں بھی شریک ہوئیں،ماہرہ خان اور طارق کو مسلم ایکسیلنس اِن سنیما اینڈ آرٹس ایوارڈ بھی دیا گیا
یہاں ایک دلچسپ ثقافتی پہلو بھی ہے،باسام طارق پاکستانی نژاد امریکی فلم ساز ہیں، جبکہ ان کی فلم میں مہیرشالا علی ایک ایسے مسلمان کردار کا کردار ادا کر رہے ہیں جس کی کہانی مذہب، خاندان، اخلاقی کشمکش اور امریکی معاشرے سے جڑی ہوئی ہے،یوں پاکستانی اور مسلم شناخت TIFF میں صرف ’’جنوبی ایشیائی نمائندگی‘‘ نہیں بلکہ امریکی سینما کے اندر ایک پیچیدہ کہانی کے طور پر بھی سامنے آ رہی ہے
بھارت کی موجودگی بھی نمایاں
بھارتی سینما کے لیے 2026 کا TIFF خاصا اہم ہے۔ Phoolan کینیڈین بھارتی نژاد فلم ساز رچی مہتا کی فلم ہے، جبکہ تمل فلم Dorothy بھی Centrepiece پروگرام میں شامل ہے
Dorothy میں اداکارہ کیرتی سریش، سنانت اور رشیکانتھ مرکزی کرداروں میں ہیں اور ہدایت کار کارتھک سبرراج بھی ٹورنٹو پہنچے،فلم کو ناظرین نے کھڑے ہوکر داد دی
یہ جنوبی ایشیا کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ بھارتی سینما یہاں صرف بالی ووڈ کے ذریعے نہیں بلکہ تمل اور دیگر علاقائی زبانوں کے ذریعے بھی عالمی سطح پر پہنچ رہا ہے،TIFF میں کسی تمل فلم کا عالمی پریمیئر اس بات کی علامت ہے کہ عالمی فلمی منڈی میں ’’بھارتی سینما‘‘ اب صرف ہندی فلم کا مترادف نہیں رہا
پاکستانی اور بھارتی نژاد کینیڈین کیا حاصل کرتے ہیں؟
ٹورنٹو کی سب سے بڑی طاقت اس کی اپنی ساؤتھ ایشین آبادی بھی ہے،پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا سے تعلق رکھنے والی بڑی کینیڈین آبادی TIFF کو ایک قدرتی ثقافتی پل فراہم کرتی ہے
پاکستانی یا بھارتی نژاد کینیڈین فلم ساز کے لیے یہ موقع دوہرا ہے،وہ اپنی کہانی کو ایک طرف عالمی فلمی صنعت تک پہنچاتا ہے اور دوسری طرف اپنے ہی تارک وطن معاشرے کے سامنے اپنی شناخت اور تجربے کو پیش کرتا ہے
اسی لیے پاکستانی امریکی، کینیڈین پاکستانی اور بھارتی نژاد امریکیوں کے لیے بھی TIFF محض فلم دیکھنے کا موقع نہیں،یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں جنوبی ایشیائی شناخت کو مغربی میڈیا کے اندر نئی زبان، نئی تصویر اور نئی کہانی کے ساتھ پیش کیا جاسکتا ہے
ٹف سے پاکستان کیا سیکھ سکتا ہے؟
پاکستان کے لیے سب سے بڑا سبق یہ نہیں کہ وہ بھی ایک بڑا سرخ قالین بنا لے،اصل سبق ادارے کی تعمیر ہے
ٹفنے تقریباً نصف صدی میں ایک ایسا نظام بنایا جس میں فلم فیسٹیول، مستقل فلم مرکز، فلمی آرکائیو، تعلیم، نوجوانوں کے پروگرام، بین الاقوامی نیٹ ورک، صنعت کے لیے مارکیٹ اور بڑے پیمانے کی عوامی شرکت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں
پاکستان اگر عالمی سطح پر اپنی فلمی صنعت کو مضبوط کرنا چاہتا ہے تو اسے صرف فلمیں بنانے یا اداکاروں کو بیرون ملک بھیجنے کے بجائے ایک ایسا مستقل ادارہ بنانا ہوگا جو پاکستانی فلموں کو عالمی خریداروں، فلمی میلوں، اسٹریمنگ پلیٹ فارمز اور بین الاقوامی تقسیم کاروں سے جوڑے
یہاں ریڈ کارپیٹ نتیجہ ہے، بنیاد نہیں
اختتام: TIFF آخر کرتا کیا ہے؟
ٹف کا ’’کم اوپ‘‘ یا آخری نتیجہ صرف یہ نہیں کہ چند سو فلمیں دکھا دی گئیں اور اداکار سرخ قالین پر چل کر واپس چلے گئے،اس کا اصل نتیجہ 3 سطحوں پر نکلتا ہے
پہلی سطح ثقافتی ہے،دنیا کے مختلف معاشروں کی کہانیاں ایک ہی شہر میں جمع ہوتی ہیں
دوسری سطح تجارتی ہے،فلمیں، حقوق، تقسیم، اسٹریمنگ اور سرمایہ کاری کے معاہدوں کے لیے عالمی خریدار اور فروخت کنندگان ایک جگہ آتے ہیں
تیسری اور سب سے طاقتور سطح اثر و رسوخ کی ہے،جو فلم ٹورنٹو میں عوام، نقادوں اور صنعت کی توجہ حاصل کرتی ہے، اسے آسکر اور دیگر بڑے عالمی ایوارڈز کی دوڑ میں اضافی رفتار مل سکتی ہے
اسی لیے TIFF کو صرف ’’فلم فیسٹیول‘‘ کہنا اس کے حجم کو کم کرکے بیان کرنا ہوگا،یہ ایک ایسا عالمی ثقافتی بازار ہے جہاں کہانی، شہرت، سرمایہ، سیاست، شناخت، میڈیا اور عوامی رائے ایک ہی جگہ جمع ہوتے ہیں
اور جنوبی ایشیا کے لیے اس کا سب سے بڑا سبق یہی ہے،عالمی سطح پر ثقافتی طاقت صرف اچھے اداکار یا اچھی فلم سے نہیں بنتی، بلکہ اس کے لیے ایسا مضبوط ادارہ درکار ہوتا ہے جو مقامی کہانی کو عالمی مارکیٹ تک پہنچانے کا مستقل راستہ بنا سکے






