بحرین کا ایران سے ہرمز مذاکرات میں شرکت سے انکار

بحرین کا ایران سے ہرمز مذاکرات میں شرکت سے انکار

بحرین نے ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق پیر کو عمان میں ہونے والے اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا ہے، جس سے اہم بحری راستے کو دوبارہ کھولنے کے لیے ہونے والی سفارتی کوششوں میں مزید پیچیدگی پیدا ہوگئی ہے بحرین نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال ہونے تک وہ ایران کے ساتھ کسی اجتماعی اجلاس میں شریک نہیں ہوگا
بحرین نے ایران سے سفارتی تعلقات 2016 میں ختم کیے تھے اور اس وقت سعودی عرب نے بھی تہران سے تعلقات منقطع کردیے تھے سعودی عرب نے 2023 میں ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرلیے، تاہم بحرین نے ابھی تک ایسا نہیں کیا بحرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک میں بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے حملوں کے بعد خطے کی سلامتی اور استحکام کو کسی بھی قسم کی مفاہمت کی پالیسی کے ذریعے برقرار نہیں رکھا جاسکتا
بحرین نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کا مطالبہ بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ اس اہم بحری راستے سے گزرنے پر کسی قسم کی امتیازی پابندی، فیس یا اجازت نامے کی شرط نہیں ہونی چاہیے آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے اور موجودہ جنگ کے باعث اس کی بندش یا محدود آمدورفت نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں شدید تشویش پیدا کردی ہے
دوسری جانب ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ پیر کو ہونے والے مذاکرات میں آبنائے ہرمز سمیت مختلف معاملات پر بات چیت ہوسکتی ہے، تاہم اجلاس کے دوران کسی حتمی معاہدے پر دستخط ہونے کا امکان نہیں ہے ایران کئی ماہ سے عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے لیے ایک انتظام پر مذاکرات کررہا ہے عمان کے مطابق ان مذاکرات کو دیگر خلیجی عرب ممالک کی بھی حمایت حاصل ہے
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی کہا ہے کہ خطے کو کسی بیرونی طاقت کے پولیس مین کے کردار کی ضرورت نہیں ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہورہے ہیں جب آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہے اور خطے میں فوجی کشیدگی مسلسل برقرار ہے

قومی خبریں سے مزید